یک لخت صحن قلب میں سایا سا ہو گیا
اک شخص جانے کب مرا اپنا سا ہو گیا
وہم و گمان سے پرے رہتا تھا جو کبھی
کیوں کر وہ اجنبی مری دنیا سا ہو گیا
جیسے ہی ہم نشین ہوا میرا ہم نوا
محفل میں برپا ایک تماشا سا ہوگیا
میری طرح سے خود جو مسافر تھا عمر بھر
سمتِ سفر کا کیسے وہ نقشا سا ہو گیا
وہ بادلوں کا عکس لیے اڑ رہا تھا جب
پیاسا سا دل میں ایک دھماکا سا ہو گیا
اکثر جو خواب میں مجھے ملتا تھا سعدیہ
گزرے دنوں کا آج وہ قصہ سا ہوگیا
سعدیہ صدف













