اکثر جو خواب میں مجھے ملتا تھا سعدیہ ,سعدیہ صدف

0
850

یک لخت صحن قلب میں سایا سا ہو گیا
اک شخص جانے کب مرا اپنا سا ہو گیا

وہم و گمان سے پرے رہتا تھا جو کبھی
کیوں کر وہ اجنبی مری دنیا سا ہو گیا

جیسے ہی ہم نشین ہوا میرا ہم نوا
محفل میں برپا ایک تماشا سا ہوگیا

میری طرح سے خود جو مسافر تھا عمر بھر
سمتِ سفر کا کیسے وہ نقشا سا ہو گیا

وہ بادلوں کا عکس لیے اڑ رہا تھا جب
پیاسا سا دل میں ایک دھماکا سا ہو گیا

اکثر جو خواب میں مجھے ملتا تھا سعدیہ
گزرے دنوں کا آج وہ قصہ سا ہوگیا

سعدیہ صدف

SHARE

LEAVE A REPLY