ایک زمانہ تھا کہ لوگ آواز پر فدا ہوجایا کرتے تھے۔ یہ ریڈیو کا زمانہ تھا۔ جب میں نے ہوش سنبھالا تو ٹیلی وژن گھروں کی زینت بننا شروع ہوچکا تھا مگر ریڈیو سننے والے لاکھوں لوگ صداکاروں کے دیوانے تھے۔ ریڈیوپاکستان بہاول پور کی جو دو تین آوازیں اس وقت بہاول پور اور اس کے گرد و نواح کے لوگوں کے کانوں میں رس گھولتی تھیں، ان میں ایک آواز ایس ایم سلیم کی تھی۔ دھوپ کا چشمہ اور خوش لباسی ایس ایم سلیم کی شان دار اور مترنم آواز کی طرح اس کی پہچان تھی۔ ایس ایم سلیم سے میرا پہلا تعارف 1980ء کی دہائی کے آخر میں اس وقت ہوا جب میں نے ایک طالب علم کے طور پر ریڈیو بہاول پورکے پروگرامز میں حصہ لینا شروع کیا۔ یہ تعارف رفتہ رفتہ خوش گوار دوستی میں تبدیل ہوگیا۔ اابتدا میں تو میں ایس ایم سلیم کی آواز کا مداح تھا مگر پھر میں اس کی شخصیت کی نفاست کا بھی گرویدہ ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان بہاول پور کی شان دار آوازوں میں ایس ایم سلیم کی آواز سب سے نمایاں تھی۔
میں 1993ء میں بہاول پور چھوڑ کر لندن آگیا لیکن ایس ایم سلیم سے میرا رابطہ بحال رہا۔ تیز رفتار زندگی کی گہماگہمی اور بے ہنگم مصروفیات نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ہمارے رابطے میں تعطل پیدا کردیا اور پھر ساجد درانی صاحب نے مجھے بتایا کہ ایس ایم سلیم شدید بیمار ہے بلکہ سرطان کے مرض یں مبتلا ہے اور کراچی میں زیرعلاج ہے تو میں نے فوراً فون کیا اور پوچھا: ’’پیارے ایس ایم سلیم کیا حال ہے؟‘‘
’’بس یار علاج چل رہا ہے۔ میرے لئے دعا کرتے رہا کرو۔‘‘ اس نے بہت نحیف آواز میں جواب دیا۔
’’یار سلیم ہمت نہ ہارو، اللہ کرم کرے گا۔‘‘ میں نے تسلی دی۔
مگر دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ فون پر مجھے آنسو تو دکھائی نہیں دئیے لیکن دبی ہوئی سسکیوں کو میں نے شدت سے محسوس کیا۔
طویل وقفے کے بعد کمزور آواز میں گویا ہوا: ’’تم لندن جاکر بھی مجھے اتنی محبت سے یاد رکھے ہوئے ہو، مجھے اس بات سے خوشی ہوتی ہے۔‘‘ اس نے مجھے خوش کرنے کے لئے کہا۔
ایس ایم سلیم کی کپکپاتی آواز کی تاب لانے کی مجھ میں مزید ہمت نہیں تھی۔ یہ میرا اس سے آخری مکالمہ تھاجس کے چند روز بعد سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی کہ آوازوں کے جنگل سے ایس ایم سلیم کی منفرد آوازکوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملی ہے۔
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
مجھے یقین ہے ایسے نفیس انسان کو خالقِ کائنات نے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دی ہوگی۔ جہاں وہ اپنے رب کی حمد و ثنا کرتا ہوگا تو فرشتے اور حوریں چونک کر اُس کی آواز سنتے اور ایک خوش گوار مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھتے ہوں گے۔
ایس ایم سلیم تم تو اس دنیا سے چلے گئے لیکن تمہاری شان دار آواز کا خزانہ ریڈیو پاکستان اور مجھ سمیت تمہارے ہزاروں مداحوں کے دلوں اور سماعتوں میں محفوظ رہے گا۔ تم وہ خوب صورت انسان تھے جس کی آواز سن کر سامعین کے ذہن میں جو تصویر بنتی تھی تم اس سے بھی زیادہ وجیہہ اور وضع دارتھے۔ تمہارے سب دوست، احباب، ساتھی، اہل خانہ اور مداح تمہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
(بہاول پورـــ میرا شہر، میری زندگی… یاد داشتوں سے ایک اقتباس)













