جتنا آسان دین دین ِ اسلام تھا اتنا ہی اسے مشکل دین بنا دیا گیا یہ کس نے بنا یا کس نے بنایا؟انہوں نے جن کو اس میں ایک لفظ کا اضافہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ سوائے باری تعالیٰ یا رسول ﷺ کے جنکے بارے میں الفاظ صفحہ قر طاس اور قر آن میں اس قسم کے الفاظ جا بہ جا بکھرے ہوئے ہیں کہ ان کا ﷺ اتباع میرا اتباع ہے۔ یہﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرما تے سوائے اس کے جو انﷺ کی طرف ہماری طرف سے وحی کیا جا ئے اور تمہارے نبی ﷺ کےاسوہ حسنہ میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے“ کسی اور کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی نہیں استعمال فرما ئے ۔۔جبکہ خودقرآن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بار بار ان الفاظ کا اعادہ ضرور فرمایا کہ ہم نے اس کو اس لئیے آسان فرمادیاکے عام لوگوں کواس کو یاد کرنے یاسمجھنے میں کو دقت نہ ہو اور نہ ہی کسی دوسرے کو پہنچانے میں دقت ہو اور تم اسے آسان رکھنا مشکل نہ بنانا اور حضورﷺ کی تعریف فرما ئی ہے کہ اگر آپ ﷺ سخت ہوتے تو لوگ چھوٹ کر پھاگ جاتے۔ پھر یہ دیکھیں کہ دنیا کی کوئی اتنی ضخیم کتاب اتنی جلدی کسی کو یاد نہیں ہوتی اور نہ ہی اتنی کم عمری میں کوئی کتاب یاد کر نے میں آسان ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچو ں تک کو با آسانی یا د ہوجا ئے؟ اور آ پ جہاں سے کہیں وہ فر فر پڑھ کر سنادے؟ یہ اہتمام کیوں تھا اس کی اہم وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہ ہوا کہ اس کو دوسری کتابوں کی طرح ایک مخصوص طبقہ کے سوا عام لوگوں تک پہنچانا تو بڑی بات ہے بعض کتابوں کے الفاظ اگر غلطی سے کسی اچھوت کے کانو ں میں پڑجا تے تھےتو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالنے کا حکم تھا۔ جبکہ یہاں جن پر یہ قرآن نازل ہوا ان کو حکم یہ تھا اپنے ہر ماننے والے کو، ہر نائب کو کہ اس کو تم تمام دنیا میں پھیلادو یہ تمہاری ڈیوٹی ہے۔ ًجو آج یہا ں سن رہے ہیں وہ ان تک پہنچا دیں جو آج یہاں نہیں ہیں۔ پھر بعد میں میرے جو آئیں دوسروں کو میری یہ ہی ہدایت دیتے رہے ہیں؟ اس دفعہ اتنے اہتمام کی وجہ کیا تھی؟وجہ یہ تھیگزشتہ ادوار میں تمام اہلِ مذاہب نے یہ دنیا کو ہمیشہ بتادیا کہ مفاد فرست طبقہ اپنے قبضہ میں مذہب کو بھی لے لیتا ہے اور وہ الفاظ عوام یا دوسرے دین کے رہنماؤ ں تک بھی نہیں پہنچنے دیتا جیسے کہ حضوﷺ کے دور میں متعدد بار پیش آئے کہ کبھی الفاظ چھپانے کے لئیے اس پر انگلی رکھدیتا کبھی کچھ کردیتا غرضیکہ ہر حیلہ بہانے سے اسے وہ عوام تک نہیں پہنچنے دیتا جن احکامات پر وہ پردہ ڈالنا چاہتا، چاہیں کچھ بھی ہوجا ئے۔ جبکہ یہاں معاملہ اس کے بر عکس ہونا تھا۔ کیونکہ اسلام مکمل دین بننے جا رہا تھا۔ اور تبلیغ کا کام ایک محدود طبقہ تک محدود نہیں کرنا تھا بلکہ اسے عوام الناس کو سونپا جا نے والا تھا۔ اور چونکہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبیؑ نہیں آنا تھا؟ اس لیئے حضورﷺ نے اپنے ہر امتی کو یا جو ان کی جگہ اختیار کرے اس کو ہدایت دے رکھی تھی کہ علم ِ دین ان تین یا چار چیزوں میں آتا ہے جو صدقہ جاریہ تھا۔ حدیث ہے کہ اللہ جس سے خوش ہوتا ہے اسے علم دین دیتا ہے جو کہ راہ اللہ میں بانٹے اور اس کو مال دیتا ہے تاکہ وہ اس کی راہ میں خرچ کرے اور تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے قناعت عطا فرما دیتا تاکہ ہوس زر ختم ہو جا ئے جو امین اور صادقین کی راہ میں رکاٹ نہ بنے ایک دوسری حدیث میں اتنا ضافہ اور ہے کہ اللہ اسے غیب سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان تک بھی نہیں ہوتا۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ جو اللہ کے دین کی تبلیغ کرتا ہے تمام مخلوق اس کو دعائیں دیتی ہے حتیٰ کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس کے لئے دعائیں کرتی ہیں۔ اور ایک اور حدیث میں یہاں تک ہے کہ اللہ اس کے کام کر تا ہے جو اللہ کے دین کا کام کرتا ہے۔ جبکہ ہم اب ایسے دور میں داخل ہورہے ہیں جو کبھی بانی تھے تبلیغی جماعت کے اب اس پر پابندی لگانے جا نہیں رہے ہیں بلکہ لگا دی ہے۔ اللہ خیر کرے مسلمانوں پر؟ انشاء اللہ اس سے پہلے دین کو کیا نقصان انشا اللہ اگلی قسط میں پیش کرونگا کہ دین شدت پسند مذہب سمجھا جانے لگا اور یہ شدت پسندو ں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور اب انہوں نے ہی ہری جھنڈی بھی دکھا دی ہے؟













