داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیے جلانے لگے
اس خوبصورت غزل کے خالق باقی صدیقی کی برسی ۸ جنوری ہے۔
وہ 20 ستمبر 1905ء کو راولپنڈی کے نواحی گاؤں سہام میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام قاضی محمد افضل تھا۔ میٹرک پاس کرکے گاؤں کے سکول میں مدرس ہو گئے۔ کچھہ عرصے بعد راولپنڈی آ گئے۔ سترہ برس ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے اور بے شمار پوٹھوہاری گیت لکھے۔ اردو کلام کے چار مجموعے۔ جام جم، دارورسن، زخم بہار اور بارِ سفر شائع ہوچکے ہیں۔ ’’کچے گھڑے ‘‘ پوٹھوہاری گیتوں کا مجموعہ ہے۔
زاد راہ کے نام سے نعتیہ مجموعہ اور “کتنی دیر چراغ جلا” کے عنوان سے ایک اور مجموعہ بعد از مرگ شائع ہوئے۔
باقی صدیقی کا 8 جنوری 1972ء کو راولپنڈی میں انتقال ہوا اور قبرستان قریشیاں سہام میں سپردِ خاک ہوئے۔ ان کی لوحِ مزار پرانہی کے یہ دو اشعار کندہ ہیں:
دیوانہ اپنے آپ سے تھا بے خبر تو کیا
کانٹوں میں ایک راہ بنا کر چلا گیا
باقی ابھی یہ کون تھا موجِ صبا کے ساتھہ
صحرا میں اک درخت لگا کر چلا گیا
انتخاب، زاہد حسین













