سید ناظر کاظمی ،اسٹیٹ بینک ترمیمی بل؟

0
798

اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہوگیا۔ حکومت ایک ووٹ سے سینیٹ اجلاس میں بل منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی۔ ترمیمی بل کے حق میں 43 اور مخالفت میں 42 ووٹ آئے۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا۔اپوزیشن نے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

اسٹیٹ بینک ترامیم کیا ہیں ۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین میں تجویز کردہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے کردار کا از سر نو تعین کیا گیا ہے جن میں داخلی طور پر مہنگائی اور مالیاتی نظام کو استحکام دینے کو اولیت دی گئی ہے جبکہ معاشی ترقی میں اس کی مدد کو فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔

ان ترامیم کے تحت سٹیٹ بینک حکومت کو ادھار نہیں دے گا لیکن اگر سٹیٹ بینک میں سرمائے اور ذخائر منفی سطح پر گر جاتے ہیں تو وفاقی حکومت کو اسے ضروری رقم فراہم کرنا پڑے گی۔

مجوزہ ترامیم کے تحت نیب، ایف آئی اے اور دوسرے وفاقی و صوبائی اداروں کو بینک کے ملازمین، ڈائریکٹرز، ڈپٹی گورنروں اور گورنر کو ان کے فرائض کی ادائیگی پر کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔

سٹیٹ بینک کے قانون میں تحت ملک کی زری (مانیٹری) اور مالیاتی (فسکل) پالیسیوں کو مربوط رکھنے کے لیے ایک کوآررڈینیشن بورڈ ہوتا ہے تاہم ترامیم کے تحت اب گورنر سٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ باہمی رابطے سے یہ کام کریں گے۔ وفاقی سیکرٹری خزانہ مجوزہ ترامیم کے مطابق سٹیٹ بینک کے بورڈ کا رکن نہیں ہو گا۔

گورنر سٹیٹ بینک کی مدت ملازمت تین سال کی بجائے پانچ سال ہو گی اور مجوزہ قانون میں تین برس کی توسییع کی بجائے پانچ سال توسیع کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ قانون میں صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ذمہ داریاں نہ نبھانے پر گورنر کو اس کے عہدے سے ہٹا سکتا ہے تاہم مجوزہ ترمیم کے تحت صدر بہت ہی سنگین غلطی پر، جس کا فیصلہ عدالت کر ے گی، گورنر کو ہٹا سکتا ہے۔

موجودہ قانون کے تحت دیہی علاقوں، صنعتی شعبوں، ہاوسنگ اور دوسرے شعبوں کے لیے سٹیٹ بینک کا قرض دینا لازمی ہے تاہم ترامیم کے تحت اب حکومت کی جانب سے ایسے شعبوں کے لیے قرض کی فراہم کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
سید ناظر کاظمی

SHARE

LEAVE A REPLY