دشمن کے مزموم ارادے بھانپتے ہوئے پاکستان نیوی نے اپنے لڑاکا جہاز پانیوں میں اتار کر انہیں مخصوص مقامات پر پہنچا دیا۔
پاک بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی مس ایڈوانچر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان نیوی کا کہنا ہے کہ بھارتی ایئرکرافٹ کیریئر اور جہازوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جارہی ہے، جارحیت پر اتری بھارتی بحریہ کی جانب سے جہازوں کی تعیناتی قابل فہم ہے مگر بھارت کی موجودہ صلاحیت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کا کوئی قابل ذکر اثر نہیں پڑے گا۔
اس کے برعکس بھارتی بحریہ کے اثاثے پاکستان کے لیے ایک پرکشش ہدف ثابت ہوں گے۔
برطانوی اخبار کی جانب سے بھارتی بیڑے کی پیش قدمی پر ردعمل میں پاک بحریہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ اس ناکام بھارتی پراپیگنڈے کا تسلسل ہے جس میں گزشتہ شب مضحکہ خیز دعویٰ کیا گیا تھا کہ کراچی کی بندرگاہ پر حملہ کردیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ میزائلوں کی جس رینج کا دعوی کیا گیا ہے وہ بھی گمراہ کن ہے، پاکستان نیوی دشمن کے کسی بھی مس ایڈونچر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بھارت نے کئی روز کی سرحد پار جھڑپوں کے بعد پاکستان کی جانب سپرسونک کروز میزائلوں سے لیس بحری جنگی جہاز روانہ کر دیے ہیں۔ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں۔ بھارتی نیوی کے ذرائع کے مطابق ویسٹرن نیول کمانڈ نے عرب سمندر میں آئی این ایس وکرانت اور کولکتہ کلاس تباہ کن بحری جہازوں کو متحرک کر دیا ہے۔ کراچی کے قریب کچھ کارروائی کی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی این ایس وِشاکھا پٹنم بھی کولکتہ کلاس تباہ کن جہازوں میں شامل ہے۔ آئی این ایس وکرانت ایک طیارہ بردار جہاز ہے جو 2022 میں کمیشن ہوا تھا۔ بھارت کی تینوں مسلح افواج — بری، فضائی، اور بحری — کو پاکستان کے بلا اشتعال حملوں کے جواب کے لیے متحرک کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھارت نے جموں و کشمیر میں کم از کم 8 میزائل اور راجستھان کے جیسلمیر میں 30 میزائل مار گرائے۔ متعدد سرحدی ریاستوں میں پاکستانی ڈرونز کو بھی مار گرایا گیا ہے۔ قابل اعتماد ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بھارت کے میزائل دفاعی نظام نے پاکستان کا ایک ایف-16 اور دو جے ایف-17 جنگی طیارے بھی مار گرائے ہیں۔












