ایران کے اعلیٰ سطحی جوہری عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ ایران 27 جون سے عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے میں یورنیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کرجائے گا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کےمطابق ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال واندی نے پریس کانفرنس میں کہا ’ آج سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی 300 کلوگرام حد سے تجاوز کرنے کے لیے الٹی گنتی شروع کردی گئی ہے اور 10 دن میں ہم اس سے تجاوز کرجائیں گے‘۔
تہران کے جنوب مغرب میں واقع ارک نیوکلیر پلانٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ’ یہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 26 اور 36 پر مبنی ہے اور دیگر فریقین کی جانب سے شرائط پر عملدرآمد کے بعد ان پر عمل کیا جائے گا‘۔
8 مئی کو ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ تہران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے ذخائر سے متعلق پابندیوں سے دستبردار ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام گزشتہ برس امریکا کی جانب سے یک طرفہ دستبرداری کے جواب میں اٹھایا گیا ہے جس کے بعد واشنگٹن نے تہران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
ایران نے 8 جولائی کے بعد مزید خلاف وزری کی دھمکی دی ہے جب تک برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس امریکا کی جانب سے عائد کی گئی معاشی پابندیوں سے نمٹنے اور خاص طور پر تیل کی فروخت میں مدد نہیں کرتے۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران نے کئی سال تک جوہری صلاحیت میں کمی پر اتفاق کیا تھا اور ملک میں موجود عالمی ماہرین کو بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی سرگرمیوں کی نگرانی کی اجازت دی تھی۔
ایران کے اعلیٰ سطحی جوہری عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ ایران 27 جون سے عالمی طاقتوں سے جوہری معاہدے میں یورنیم افزودگی کی طے شدہ حد سے تجاوز کرجائے گا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے ’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کےمطابق ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے ترجمان بہروز کمال واندی نے پریس کانفرنس میں کہا ’ آج سے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی 300 کلوگرام حد سے تجاوز کرنے کے لیے الٹی گنتی شروع کردی گئی ہے اور 10 دن میں ہم اس سے تجاوز کرجائیں گے‘۔
تہران کے جنوب مغرب میں واقع ارک نیوکلیر پلانٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا ’ یہ جوہری معاہدے کے آرٹیکل 26 اور 36 پر مبنی ہے اور دیگر فریقین کی جانب سے شرائط پر عملدرآمد کے بعد ان پر عمل کیا جائے گا‘۔
8 مئی کو ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ تہران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم اور بھاری پانی کے ذخائر سے متعلق پابندیوں سے دستبردار ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقدام گزشتہ برس امریکا کی جانب سے یک طرفہ دستبرداری کے جواب میں اٹھایا گیا ہے جس کے بعد واشنگٹن نے تہران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔
ایران نے 8 جولائی کے بعد مزید خلاف وزری کی دھمکی دی ہے جب تک برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس امریکا کی جانب سے عائد کی گئی معاشی پابندیوں سے نمٹنے اور خاص طور پر تیل کی فروخت میں مدد نہیں کرتے۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران نے کئی سال تک جوہری صلاحیت میں کمی پر اتفاق کیا تھا اور ملک میں موجود عالمی ماہرین کو بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی سرگرمیوں کی نگرانی کی اجازت دی تھی۔
معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی شرح 3.67 فیصد سے زائد نہ رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران سے افزودہ یورینیم اور بھاری پانی برآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا تاکہ ملک کے ذخائر طے شدہ حد سے تجاوز نہ کریں تاہم امریکی پابندیوں کی وجہ سے یہ برآمدات ناممکن ہوگئی ہیں۔
معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کی افزودگی کی شرح 3.67 فیصد سے زائد نہ رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔
جوہری معاہدے کے تحت ایران سے افزودہ یورینیم اور بھاری پانی برآمد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا تاکہ ملک کے ذخائر طے شدہ حد سے تجاوز نہ کریں تاہم امریکی پابندیوں کی وجہ سے یہ برآمدات ناممکن ہوگئی ہیں۔











