حقیقت میں اپنا دل ہاتھوں میں تھاما ہوا

0
250

امریکا کی ریاست نیوجرسی میں ایک خاتون کے دل کی تبدیلی کا کامیاب آپریشن کیا گیا۔ خاتون مریض کے ہوش میں آنے کے بعد ڈاکٹروں نے پُرانا بیمار دل اس خاتون کے ہاتھوں میں پکڑا دیا۔ اس دوران خاتون نے پُرانے اور ہر دم ساتھ دینے والے دل کو الوداع کہنے سے قبل اس کے ساتھ یادگار تصاویر بنوا لیں۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔
برطانوی اخبار میٹرو کے مطابق 48 سالہ خاتون لیزا سیلبرگ 12 برس کی عمر سے دل کے ایک عارضے میں مبتلا تھی۔ اس نے 36 برس بیماری کے ساتھ گزار کر بالآخر اس سے چھٹکارہ حاصل کر ہی لیا۔

ڈاکٹروں کے مطابق لیزا گزشتہ برس اپنے بیمار دل کے ساتھ جاری زندگی کے سفر کے اختتام کے قریب پہنچ گئی اور اس کے دل کے ناکارہ ہونے کا آغاز ہوچکا تھا۔ مریضہ کے سامنے دو ہی اختیارات تھے.. پہلا موت اور دوسرا دل کی تبدیلی۔ خاتون نے دوسرے اختیار پر عمل کا فیصلہ کیا اور وہ کامیاب نئے دل کے لگائے جانے کے کامیاب آپریشن کے بعد زندگی کی طرف لوٹ آئی۔
میٹرو اخبار کے مطابق امریکی خاتون لیزا نے آپریشن تھیٹر میں جانے سے قبل ڈاکٹروں سے ایک معصوم سی خواہش کا اظہار کیا تھا اور وہ یہ کہ اس کے پرانے بیمار دل کو محفوظ رکھا جائے تاکہ ہوش میں آنے کے بعد وہ اپنے دل کو دیکھ سکے۔
ڈاکٹروں نے اس پر واقعتا عمل کیا اور ہوش میں آتے ہی لیزا کو اس کا پرانا دل تھما دیا گیا جس کو اس نے بڑی شادمانی اور دلیری کے ساتھ اپنے ہاتھوں کی گود میں لے لیا۔
لیزا کے مطابق ” مجھے دل کے وزن نے حیران کر ڈالا ، یہ واقعی میں بہت بھاری تھا”۔ لیزا نے سینے سے نکالے جانے والے دل کے حوالے سے کہا کہ ” ہم گزشتہ پورے 48 برس سے ایک دوسرے کے ساتھی تھے”۔
لیزا موروثی طور پر دل کے پٹھے کی کمزوری کا شکار تھی۔ یہ پٹھا بتدریج کمزور تر ہو رہا تھا اور شریانیں پھولتی جار رہی تھیں یہاں تک کہ دل خون کی پمپنگ کے قابل بھی نہ رہا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپریشن نہ کرانے کی صورت میں لیزا کو یقینی طور پر موت کا سامنا کرنے کا خطرہ لاحق تھا۔
لیزا کی ایک بہن دل کے مرض کے سبب فوت ہو چکی ہے جب کہ اس کے خاندان کے کم از کم پانچ افراد اسی مسئلے سے دوچار ہیں۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق تمام افراد کی بیماری کا سبب موروثیت ہے۔ آپریشن کی کامیابی کے فورا بعد ہی لیزا نے دل کے مریضوں کے واسطے ایک فلاحی سوسائٹی بنانے کا آغاز کر دیا۔ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ رقم جمع کر کے اس میدان میں ہونے والی سائنسی تحقیقوں کے لیے استعمال میں لانا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY