تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال، اشرف عاصمی،ایڈوکیٹ

0
873

تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال چوتھی بیوی کی ایما پر عمر رسیدہ پہلی بیوی کو گھر سے بے دخل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست
متاثرہ خاتون نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن انسانی حقوق کے علمبردار اشرف عاسمی ایدووکیٹ کی وساطت سے دائر کردی کہ تحفظ والدین کے قانون کا اطلاق غلط طور پر اُن پر کیا جارہا ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کردیا
لاہور(پ ر) تحفظ والدین قانون کا غلط استعمال چوتھی بیوی کی ایما پر چوہتر سال کی پہلی بیوی کو گھر سے بے دخل کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بیاسی سال کے شخص الحاج محمد نواز نے چار شادیاں کیں اور اب وہ چوتھی بیوی کے ساتھ ڈیفنس لاہور میں رہائش پذیر ہے اور اُس کی پہلی بیوی چوہتر سال کی بوڑھی خاتون گلبرگ لاہور میں رہائش پذیر ہے جس کو الحاج محمد نواز کی چوتھی بیوی کی ایما ء پر گھر سے بیدخلی کروانے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں درخواست دی گئی ہے۔ حالانکہ کے قانون کے مطابق اگر اولاد والدین کو گھر سے نکالے تو پھر والدین ڈپٹی کمشنر کو درخواست دے سکتے ہیں لیکن اِس کیس میں تو باپ کئی سالوں سے چوتھی بیوی کے ساتھ ڈیفنس میں رہائش پذیر ہے۔ الحاج محمد نواز کی پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ مجھے چوتھی بیوی کی ایما پر گھر سے نکالنے کے لیے یہ کاروائی کی جارہی ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ الحاج محمد نواز انتہائی با رسوخ شخص ہے اور سینکڑوں کنال اراضی کا مالک ہے اور ارب پتی ہے۔ چوتھی بیوی بابرا بیگم کی ایماء پر ایسی خاتون جس نے ساری زندگی الحاج محمد نواز کی خدمت کی اُس کے ساتھ انتہائی افسوس ناک سلوک کر رہا ہے۔

اُنکا کہنا تھا کہ الحاج محمد نواز کے ساتھ اُن کی شادی کو 55 سال گذر گئے ہیں کئی سالوں سے الحاج محمد نواز نان و نفقہ بھی ادا نہیں کر رہے اِس بابت فیملی کورٹ لاہور میں اُنھوں نے نان ونفقہ کا دعویٰ کر رکھا ہے لیکن اب چوتھی بیوی کی ایماء پر اُن کو گھر سے نکالنے کے ایسے قانون کا استعمال کیا جارہا ہے جس کو والدین کے حق میں استعمال ہونا چاہیے۔اِس حوالے سے متاثرہ خاتون نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن بھی دائر کردی ہے کہ تحفظ والدین کے قانون کا اطلاق غلط طور پر اُن پر کیا جارہا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں انسانی حقوق کے علمبردار صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی وساطت سے رٹ پٹیشن پر لاہو رہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ اُنھوں نے مطالبہ کیاہے کہ اُنکے خلاف کاروائی روکی جائے اور اُنھیں ظلم سے بچایا جائے۔ واضع رہے کہ تحفظ والدین کے قانون کی معاشرئے میں زبردست پزیرائی کی گئی ہے لیکن ایسی خبریں بھی آرہی ہیں کہ اِس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ خواتین کی حقوق کی تنظیموں کو اِس قانون کے غلط استعمال کے خلاف اُٹھانی چاہیے۔

اشرف عاصمی،ایڈوکیٹ

SHARE

LEAVE A REPLY