انجمن ظفرالا یمان کی جو عزت تھا۔آفتاب احمد‎

0
224

ظفرالا یمان کی جو عزت تھا

ہائے وہ عزت الزماں نہ رہا

ہائے وہ اُس کی دلنشیں آواز

حرفِ شیریں کا ترجمان نہ رہا

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لکھنؤ ایک انتہائی دل فریب تہذیب کا مرکز رہا ہے۔ اپنے سرسبز و شاداب باغات، شاہی عہد کی پُرتکلف عمارتوں، دریائے گومتی کے پُرفضا کناروں، حضرت گنج کے نشاط انگیز ماحول، بازار کی چہل پہل، خوش لباس لوگوں، حسین چہروں، پکوانوں کے بھبکوں، کٹھے میٹھے ذائقوں اور اپنی علمی و ادبی محفلوں کی وجہ سے لکھنؤ عالم میں انتخاب تھا۔

پاکستان بننے سے پہلے ہی جن شاعروں نے ادبی دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی تھی شاعر لکھنوی ان میں شامل تھے۔ لکھنؤ شعرا سخن کا بڑا مرکز تھا۔ عزیر لکھنوی، ثاقب لکھنوی، صفی لکھنوی اور جعفر علی خان اثر کے بعد اد دیار شعرا نغمہ سے بلند ہوتی ہوی آوازوں میں شاعر لکھنوی کی آواز بھی شامل تھی۔ اس آواز میں اردو کی تہذیب اور لکھنؤ کی رعنائی بولتی نظر آئی۔ یہ آواز تصویر کے رنگ اپنے دامن میں رکھتی تھی۔ یہ آواز سنائی بھی دیتی اور دکھائی بھی دیتی۔

عزت لکھنوی سے لکھنو کی بھی عزت تھی اورشعر وسخن کی بھی ،وہ کیا اُٹھے کہ شمع محفل گل ہوگئی اب ذوق سماعت اُن کی آواز کو ڈھونڈتا رہے گا ۔

کسی واقعہ کے ابلاغ کا سب سے موثر ذریعہ کیاہے؟اس بحث سے قطع نظر تہذیبِ عزاداری میں نوحہ خوانی کامقام ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔نوحہ کا بنیادی مقصد گریہ و ماتم ہے ۔اِس لئے نوحوں میں حسنِ بیان مضمون آفرینی بجائے فطری انداز میں واقعاتِ شہادت کوقلمبند کرنے اوراس واقعہ کی رثائی پہلوؤں کو اُجاگر کرنے پر زیادہ زور دیاجاتاہے۔لیکن اسکے باوجود موجودہ دور میں نوحوں کا دامن ندرتِ مضامین اورحسن زبان وبیان سے خالی نہیں ہے ۔نوحہ کاتاثر پڑھنے والے کے لحن اور اُس کی آواز کے سُوز وگداز سے اُبھرتا اور نکھرتا ہے ۔نوحہ کی مقبولیت کاراز اُس کی سادگی ،اثر افرینی اور پُر سُوز ادائیگی میں مضمر ہے ۔اور عزت لکھنوی ایک منفرد حیثیت رکھتے تھے

کلام عزت لکھنوی

کربلا آفتاب اور اُسکی تنویریں بہت

ایک کتابِ آگہی جس کی ہیں تفسیریں بہت

ہیں بہتر۷۲ تن شریکِ مقصد ذبح عظیم

ایک خلیلی خواب تھا جس کی ہیں تعبیریں بہت

مرحوم عزت لکھنوی ایک تخلیقی فنکار بھی تھے اور اُنکی شاعرانہ صلاحیتیں پہلے شدید لکھنوی اور پھر وصی فیض آبادی کے زیرِ تربیت جلاپاتی رہیں ۔وصی فیض آبادی کے انتیقال کے بعد عزت لکھنوی صاحب نے شاہد نقوی سے استفادہ حاصل کیا ۔عزت لکھنوی نے قصیدہ ،منقبت ،نوحہ ،سلام ،مرثیہ ہر میدان میں طبع آزمائی کی ہے اور ہر صنفِ سخن میں اپنی تخلیقی فنکارانہ صلاحتیوں کا عملی مظاہرہ کیا ہے ۔

تمہارے بعد اندھیرا رہے گا محفل میں

بہت چراغ جلائیں گے روشنی کے لئے

شعیہ کالج لکھنو میں محترم عزت لکھنوی کے طالبِ علمی کے زمانے میں کوئی بھی تقریب ہوتی عزت لکھنوی اپنی آواز میں تلاوت سورۃرحمن اور سورہ والشمس سے پروگرام کا آغاز کیا کرتے تھے جو کہ راجا صاحب محمودآباد اور نواب رام پور کو بے حد پسند تھی ۔اِس کی مثال کم ملتی ہے جو بھی محترم عزت لکھنوی صاحب کی منفرد آواز ایک مرتبہ سروں میں سُن لیتا بس آپ کی آواز کا دیوانہ عاشق ہوجاتا ۔وہ اپنے کالج کی یونین کے سیکڑری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر رہے کالج کی کوئی تقریب یا پکنک عزت لکھنوی کے بغیر مکمل نہ ہوتی تھی ۔

آپ کا نام آغا محمد عزت الزماں(اشتری ابراہیمی قزلباش )تخلص عزت لکھنوی،عزت لکھنوی۱۹۳۲ء شہر لکھنو کے محلہ اشرف آباد میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والد کا نام آغا بد یع الزماں تھا دادا آغا محمد زباں شفیق لکھنوی مرحوم ،نانا سید میر نواب علی (سوداگر)رکن العزامرحوم جن کی وجہ شہرت لکھنو میں ۶رِبیع الاول کا تعزیہ آپ کے ماموں سید محمد علی عرف چھبن صاحب دوشالے والے (مرحوم)تھے ۔

عزت لکھنوی نے ابتدای تعلیم مدرسہ حسینیہ، امام باڑہ میاں داراب علی خان مرحوم، مولوی گنج لکھنؤ میں حاصل کی۔ اس کے بعد مدرسہ سلطان المدارس نزد میڈیکل کالج لکھنؤ میں بھی زیرِ تعلیم رہے۔ اس کے بعد شیعہ ڈگری کالج، ڈالی گنج لکھنؤ، لکھنؤ کے طالب علم رہے۔ قانون کی ڈگری انہوں نے لکھنؤ سے حاصل کی۔ اس کے بعد وکالت کا آغاز بذریعہ جگت بہادر، سر یواستو ایڈووکیٹ، مولوی گنج، لکھنؤ کے ساتھ کیا۔ عزت لکھنوی کی شادی 1955 میں ہوئ ۔15 اگست 1958 کو ترکِ وطن کیا اور کراچی پہنچے۔ کراچی کے عدالتی ماحول سے بد دل ہو کر بینک افسری کا امتحان دیا اور حبیب بنک کراچی سے منسلک ہو گئے۔ 1959 میں لکھنؤ جا کر اپنے کنبے کو بھی ہمراہ لے آئے۔ 1963 میں حبیب بنک کی ملازمت ترک کر کے یونائٹیڈ بینک میں ملازمت اختیار کی۔ لیکن جلد ہی پریمئیر بنک کھلنے کا اعلان ہوا اور عزت لکھنوی اس میں ایک اعلی عہدے پر فائز ہوئے ۔1965 میں سٹینڈرڈ بینک کا قیام عمل میں آیا اور وہاں بحیثیت منیجر خدمات انجام دیں۔ اور تا دمِ مرگ اسی سے وابستہ رہے ۔

۱۹۵۵ء کو محترم مجتبی علی صاحب ایڈ وکیٹ علی منزل سبزی منڈی فیض آباد کی دختر نیک اختر کے ہمراہ شادی ہوئی ۔

عزت لکھنوی نے اپنا سفر جاری رکھا لندن امریکہ کینیڈا ،نیوجرسی ،ہیوسٹن،ٹورنٹو جاکر وہاں عزاداری کو فروغ دیا ۔لوگ اُن کے گرویدہ بن گئے سامعین نہایت ہی متاثر ہوتے تھے ۔تھوڑے ہی عرصے میں عزت لکھنوی صاحب کے ڈنکے زبان زدِ عام ہوگئے تھے۔وہ گھنٹوں اپنا کلام سناتے تھے اورنہ تھکتے تھے ۔وہ مجالس کی جان بن گئے تھے ۔اُن کا کلام امریکہ ،کینیڈا ،یورپ میں ہر جگہ پھیل گیا اُن گن گھرج دار آواز نیویارک کے ٹیلی ویژن پر بھی کئی مرتبہ گونجی ۔نیویارک ٹیلی ویژن نے اُنہے کئی بار دعوتیں دیں جو اُنہوں نے قبول فرمائیں ۔عزت لکھنوی مرحوم کا شمار بھی ایسے ہی خوش نصیب افراد میں ہے جنکی پوری عمر مداحئی اہلیبت میں گزری اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو ایسے سوز وسلام کامجموعہ چھوڑا جو اُن کے نام کو ہمیشہ باقی رکھے گا۔

شاعر اہلیبت اسیر فیض آبادی نے کیا خوب کہا تھا عزت لکھنوی کی موت پر

عزائے شاہ شہیداں میں کامراں عزت

حسینیت کا دمکتا ہوا نشاں عزت

عزت لکھنوی صاحب کھانے اوروہ بھی اچھی غذا کے شوقین تھے اُن کے تعلقات وسیع تھے اوربہت مشفقانہ مراسم ہوتے تھے ۔محرم کے زمانے میں بہت احتیاط کرتے تھے ۔۔۔ایسی چیزیں بالکل نہیں کھاتے تھے جن چیزوں سے آواز کو نقصان کااندیشہ ہوتا تھا ۔اُن کی آوازایک عطیہ خداوندی تھی جس محفل میں قصیدہ پڑھتے وہ محفل روشن ہوجاتی تھی مرثیہ خوانی کی محفل میں تحت الفظ مرثیہ ،سلام پڑھتے تھے ،ڈاکٹر یاور عباس صاحب کے یہاں کی مجلس میں اس دن سلام پڑھتے تھے جس دن زیڈ اے بخاری مرثیہ پڑھتے تھے اور اگر کوئی ذاکر دستیاب نہ ہوتا بوقتِ ضرورت مجلس بھی پڑھ لیا کرتے تھے فرماتے تھے کہ ذکرِ حُسین میں ،میں کسی کا محتاج نہیں ہوں۔

سن1971 ء سے 1974ء تک مسلسل تقریبات صد سالہ انیس پورے پاکستان میں منعقد ہوئی تھیں کراچی بھر میں ایسے شاندار جلسے تاریخ میں پھر کبھی دیکھنے کو نہیں ملے ۔ایک ہی اسٹیج پر تمام مکاتبِ فکر کے دانشوروں ،مفکروں ،شاعروں اور ادیبوں کو یکجا کیا گیا ۔ایسے عظیم الشان جلسوں کے لئے عزت لکھنوی صاحب نے ایسی نظم لکھی جو کراچی کے ادبی حلقوں سے ہوتی ہوئی عوامی مقبولیت کی بلندیوں پہ پہنچ گئی ۔

عزت لکھنوی کی مقبولیت کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے ایران کے مومینن کے اصرار پر اُن کی دعوت پر نوحہ خوانی کی غرض سے 1972ء سے مسلسل تین سال تک جاتے رہے ۔کراچی ٹیلی ویژن اسٹیشن قائم ہونے ایام عز ا میں سب سے پہلے اربابِ اقتدار نے عزت لکھنوی ہی کو مومنین کے سامنے پیش کیا اِس طرح تا دم مرگ ٹیلی ویژن سے شبِ عاشور شامِ غریباں کی مجلس سے قبل عزت لکھنوی صاحب کا پروگرام آتا رہا ۔نہ صر ف مومنین بلکہ علماء کرام بھی خواہش ہوتی تھی کہ عزت لکھنوی صاحب سے کلام سنائیں ۔کلام حاضرِخدمت ہے

ظفرالایمان انجمن کے ہر فرد کو اپنی اولاد سمجھتے تھے سانس کی تکلیف میں مبتلا تھے آخری مجلس کراچی میں ڈیڑھ گھنٹے نوحہ خوانی کی انجمن کے ہرفرد کو بلایا اور کہا یہ میرا آخری پروگرام ہے انجمن کے لڑکوں سے کہا بیٹوں تم اپنی زندگی محمد و آلِ محمد کے لئے وقف کردو،سوز وسلام اورحدیثِ پڑھنا سیکھ لونہ جانے کس وقت اس کی ضرورت آن پڑے ذکرِ حُسین کسی فرد کا محتاج نہیں ہوتا ۔

مرثیے کا دُرِ شہوارو مجلی ہیں انیس

موجۂ فکر ہیں مضمون کے دریا ہیں انیس

ذوقِ شعری ہے زمیں عرشِ مُعلیٰ ہیں انیس

مدحتِ شاہ کا دعویٰ ہے کہ یکتا ہیں انیس

ایک مرتبہ مشہور کلاسیکل ڈانسر شمبھو مہاراج نے عزت لکھنوی کی آواز سن کر اُن کو کلاسیکل میوزک کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی مگر عزت لکھنوی نے انکار کردیا عزت لکھنوی منفرد پُر سوز آواز وجہ سے قصائد اور نوحے پڑھنے میں انڈیا پاکستان اور دنیا بھر میں بے مثل اور بے نظیر تھے یہ بات ہے ۱۹۵۰ء کی ایامِ عزا کے دوران جونپور سے انجمن ظفرالاایمان لکھنو شبِ بیداری میں مدعو کیا گیا اُس وقت کے صاحبِ بیاض شہید لکھنوی صاحب اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ جا سکے ۔ا

اور وہاں عزت لکھنوی تقریباَایک بجے اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی کرنے کھڑے ہوئے اور تین گھنٹے تک اپنی خوبصورت پُر سوز آواز سے مومنین کو غمِ حُسین میں رولاتے رہے اوروہیں فیض آباد سے آتے ہوئے مونین کے اصرار پر فیض آباد گئے یہاں مشہور وکیل زاکر حسین جن کے گھر عشرہ ثانی ہو رہا تھا جس میں راجا صاحب محمودآباد صاحب بھی شریک تھے راجا صاحب نے محترم عزت لکھنوی کے ماتھے کو جذباتی انداز میں چوما اور بے ساختہ آپ کی زبان سے یہ نکلا کہ اودھ کی عزت ،عزت لکھنوی سے ہے ۔

پابند طرح نوحہ گری نت نئے نوحے

رکھی ہوئی اِس صف میں عزت کی طرح ہے

۱۵اگست ۱۹۵۸ء کو عزت لکھنوی نے ہندوستان سے ہجرت کی اور پاکستان پہنچے جہاں ظفرالاایمان کراچی کی داغ بیل ڈالی ۔انجمن ظفرالاایمان کراچی کو قیصر مرزا،دلاور مرزا،سید سجاد حسین کی انتھک جدو جہد اور پُرسوز آواز نے ملکر انجمن ظفرالایمان روز افزاں ترقی ملتی گئی ۔محترم عزت لکھنوی کی جدت پسندی نے پاکستان میں منعقد زشبِ بیداریوں میں پہلی مرتبہ طرحی شبِ بیداری کی بنیادڈال کر فروغ عزا میں ایک نئے باب کااضافہ کیااور انجمن ظفرالایمان کو منفرد مقام دلایا۔

بارِحیات سر سے چلا ہوں اُتارنے

آواز دی ہے کرب وبلا کے غبار نے

عزت ہر اعتبار کا معیار ہیں حُسین

یہی فیصلہ کیا نگہہِ اعتبار نے

مداح اہلِ بیت میں سر شار عزت لکھنوی کے طیب اشعارہمیشہ بارگاہ معصومین میں سعود کرتے رہینگے ۔اور مرحوم عزت لکھنوی صاحب کے نوحے ہمیشہ رفعت عطا کرتے رہنیگے۔

ایسا بے مثل سخنور کہیں دیکھا نہ سنا

شوکتِ شعر کا مظہر کہیں دیکھا نہ سنا

گفتگو اِیسی کہ ہر بات سے موتی برسیں

شعر سُن لیں تو چہکنے کو عنادل ترسیں

عزت لکھنوی صاحب کے کلام میں اُن کی زندگی کی جھلکیاں ملتی ہیں خاص طور سے غزل میں اُن کی خصوصیت نمایاں ہے عزت لکھنوی صاحب جب ہجرت کرکے کراچی آگئے تو یہاں کے پہلے مشاعرے میں یہ کلام بے اختیار لہک لہک کے پڑھا اور جذبات سے آنکھیں نم ہوگئیں

رودادِ دل سناتے ہیں ،مغرب کے باسیو

غربت نصیب ،آپ کو ہمدردِ جان کے

مشہور جانِ ہند تھا اک شہر لکھنو

اُس شہر کے تھے لوگ بڑی آن بان کے

اِیسی ہوا چلی کہ وہ سنسان ہوگیا

ہم رہنے والے ہیں اُسی جنت نشان کے

لکھنو کا زکر اس کی شان کے قصیدے پڑھنے والا عزت لکھنوی زندگی کے آخری ایام میں بھی اودھ کی خاک کو بھول نہ پائے لکھنو کا کوئی زکر چھیڑدے تو عزت کی آنکھیں پُر نم ہوجاتیں بیقرار ہوجاتیں ۔فکر بدلے گی تو پھر لوگ ہمیں پوجیں گے

بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچا اپنا

غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آجاتے ہیں

کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا

لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی

ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجا اپنا

ابتدائی زندگی اور تعلیم و تدریس

عزت لکھنوی کی شرکت کسی بھی شبِ بیداری،محفل مشاعرے کے کامیاب ہونے کی ضمانت سمجھا جاتا تھا خاصکر قصائد اُنہیں امتیاز حاصل تھا۔بلکہ ملک کے گوشے گوشے اور غیر ممالک کے ادبی حلقوں میں معروف اور معتبر تھے ۔عزت لکھنوی صاحب کے بزرگ شہنشاہ عالمگیرکی دعوت پر اصفحان سے آکر دربارِمغلیہ سے منسلک ہوگئے تھے ۔شاہانِ اودھ نے اُن کی اولادکو لکھنو بلا کر دروغہ ،مصوران شاہی کا منصب عطا کیا اور خطابات سے نوازا۔عزت لکھنوی صاحب کے داداآغا محمد زماں مرحوم صفی لکھنوی کے اُستاد بھائی اور نانا میر نواب علی (رکن العزا)تھے ۔اُن کی تعلیم و تربیت لکھنو میں ہوئی ،۱۹۵۳ء لکھنو یونیورسٹی سے قانون کا امتحان پاس کر کے وکالت شروع کردی ۔اور ۱۹۵۸ء میں کراچی تشریف لے آئے ۔اورتا حیات ایک بینک کے سینئر افیسر رہے جگہ جگہ تقرر کے سبب آخر اِس نوکری نے اُن کی جان ہی لے لی۔

شاعری ورثے میں ملی تھی ،رشید لکھنوی نے سرِ راہ طرحی غزلیں کہلوا کر شعر گوئی کی عادت ڈالی ،کراچی میں وصی فیض آبادی مشقِ سخن کو سنوارا اور شاہد نقوی نے جلا بخشی ۔قصیدہ سلام ،نوحہ ،مرثیہ ،نعت ،مثنوی ،ربائی ،قطعہ تمام اصنافِ سخن میں خوب خوب جوبر دکھلائے ۔لحن کی نعت خدا نے ایسی عطا کی تھی کہ کلام میں چار چاند لگ جاتے تھے ۔

اُردو پر مکمل دسترس تھی الفاظ کی ادائیگی جملوں کا استعمال میں عزت لکھنوی کا کوئی ثانی نہ تھا ۔اُردوپر عزت لکھنوی کو مکمل عبور حاصل تھا اُن کی قابلیت صرف ڈگریوں تک محدود نہیں تھی ۔بلکہ وہ پی ایچ ڈی کے سند یافتہ پروفیسروں سے افضل تھے ،عزت نے اُردو کی خدمت صرف شعر وادب کے ذریعہ ہی نہیں کی بلکہ وہ گفتگو کے دوران بھی اُردو کی خدمت میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کرتے تھے۔

سوز و سلام اور ذوقِ شاعری

عزت تو ہے اک رکن عزائے شہہ والا

یہ فخر کبھی باعثِ تحقیر نہ ہوگا

بچپن ہی میں جب والد کے ہمراہ مسجد اور مجالس میں گئے تو وہاں اذان دینے، مختصر حدیث پڑھنے اور سوز خوانی کرنے کا آغاز کر دیا۔ نانا سید میر نواب علی کے گھر میں سوز خوانی باقاعدگی سے کی۔ شاعری ورثے میں ملی تھی۔ شدید لکھنوی نے سرِ راہ طرحی غزلیں کہلوا کر شعر گوئ کی عادت ڈالی۔ کراچی میں وصی فیض آبادی نے مشقِ سخن کو سنوارا۔ اور شاہد نقوی نے جلا بخشی ۔ انہی کا لکھا ہوا نوحہ اب آئے ہو بابا اپنی دلسوز آواز میں پڑھا تو پی، ٹی، وی اور ریڈیو پاکستان پر نشر ہونے کے باعث ملک گیر شہرت نصیب ہوئ۔ عزت لکھنوی نے غزل، قصیدہ، سلام، نوحہ، مرثیہ نعت، مثنوی، رباعی اور قطعہ تمام اصنافِ سخن میں خوب جوہر دکھائے۔

طالب علمی کے زمانے میں شیعہ کالج لکھنؤ میں کوئی بھی تقریب ہوتی تو عزت لکھنوی اپنی آواز میں تلاوت سورہ رحمن اور سورہ و الشمس سے پروگرام کا آغاز کیا کرتے تھے۔ جو راجہ صاحب محمود آباد اور نواب رام پور کو بے حد پسند تھی۔ عزت لکھنوی دورِ طالب علمی میں یونین کے سیکرٹری اور میگزین محراب کے ایڈیٹر بھی رہے ۔

ایک مشاعرے کی صدارت اُستاد قمر جلاوی صاحب کر رہے تھے اُدھر عزت لکھنوی اپنی غزل سنا رہے تھے سامیعن وجد میں جھوم رہے تھے ۔لا جواب کلام دوسرے اُن کی مسحور کردینے والی آواز کبھی کبھی وہ غزل پڑھنے کے دوران بھی اپنی نوحہ خوانی کے فن سے کام لے لیا کرتے تھے ۔یعنی ہاتھوں کی جنبشوں سے شعر کی ادائیگی کرتے تھے ۔پُر سوز آوازخاص کشش واثر اور سوز و گداز تھا ۔اور قلم میں بھی اس قدر روانی کی آمد کہ اُن کے کلام میں یہی سبب ہے اس کے سننے کے بعد بے ساختہ زبان سے واہ یا آہ نکلتی ہے ۔یہی حقیقی شاعر کے کلام کی تعریف ہے ۔

بعض مسائل توایسے اچھوتے اندازمیں بیان کئے ہیں کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک مختصر سے شعر میں کیا کچھ سمو دیا ہے مثلاََتعمیر کعبہ کا زکر کرتے ہوئے واقعات کربلا کو ایک ہی شعر میں اس طرح نظم کردیا کہ اس کی تشریح سے ایک باب مکمل ہوسکتا ہے ۔

محترم عزت لکھنوی فرماتے ہیں ،

نازاں بہت ہیں کعبہ کی تعمیر پر خلیل

ترتیب کربلائے مُعلی ٰکو دیکھتے

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ایک شعر میں ذبح عظیم کی تفسیر بیان کی گئی ہے ۔شہدانِ کربلا کی تاریخ لکھ دی ہے ۔جناب عزت لکھنوی مرحوم ایسے مداح اہلیبت ہیں جن کی شاعری میں شریعت اورنگ تغزل دونوں ساتھ ساتھ ہیں ۔لیکن بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے تغزل اُن کی شریعت پر حاوی ہے ۔اورواقعات کربلا کو بھی تغزل کی عینک سے دیکھتے چلے گئے ہیں۔

انتہائی مہذب شستہ گفتگو،وہ لکھنوی وضع قطع وہ پُر سوزانداز میں لکھنوی شان کے ساتھ نئی نئی دھنوں اور نئی نئی زمینوں میں پوری ادائیگی کے ساتھ نوحہ خوانی ،قصیدہ خوانی کی محفلوں میں اپنے پُر کشش اور مخصوص انداز میں پڑھ کر حاضرین میں ایک ترنگ ولولہ پیدا کرنا ،شبِ بیداریوں میں انجمن ظفر الا ایمان کی جانب سے طرحی شبِ بیداری کی بنیاد رکھنے والے محترم عزت لکھنوی صاحب ہیں ۔ایک نہایت سادہ جاذبِ نظر ،منکسرالمزاج اور ایک پُر وقار شخصیت ،جو اخلاص کا پیکر ،آئینہ تہذیب لکھنو ،عزادارنِ حُسین اورذاکرِ اہلِ بیت تھے جن کی منفرد سُریلی ،گرجدارپُر سوز آواز نے اہلِ کراچی کے عزاداروں کو نوحہ خوانی کے انگ انگ میں ایک مخصوص انداز دیا ۔

لکھتے ہیں صدقِ دل سے جو مد حت حُسین کی

تیغ قلم سے کرتے ہیں نصرت حُسین کی

ہوتا ہے اُن کا ذکر شہِ کربلا کے ساتھ

عزت کو ہے یہ دی ہوئی عزت حُسین کی

عزت لکھنوی صاحب بہت نازک مزاج آدمی تھے بہت کم لوگوں کی تعریف کرتے تھے منور عباس کی تعریف کیا کرتے تھے اُن کے یہاں کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے غزل یا قصیدہ ضرور پڑھا کرتے تھے ۔عزت صاحب کی ایک عادت تھی کوئی ان کے سامنے غلط اُردو بولتا تھا تو بلا جھجھک ٹوک دیا کرتے تھے ۔قریب ترین لوگوں میں حضرت جوش ملیح آبادی ،سید آلِ رضا ،منور عباس ،عزم جونپوری تھے دیرینہ رفاقتیں رہیں ۔عزت لکھنوی صاحب نے بے شمار سلام کہے خود گریا ں ہوئے عزاداروں کواپنے رقعت آمیز نوحوں سے رولایا۔یہی اشکوں کی وہ دولت ہے جو وہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔

رضواں کی آتی ہے صدا یہ

خلد میں عزت خنداں ہیں

میرا یقعین ہے عزت لکھنوی جنت الفردوس میں خود بحکم امام مولا کی بارگاہ میں شامِ غریباں کی مجلس مجلس میں یہی نوحہ سناں رہے ہونگے ۔اور سیدانیاں رو رہی ہونگے ۔

زینب نے کہا باپ کے قد موں سے لپٹ کر

جب لٹ گیا پردیس میں اماں کا بھرا گھر

اب آئے ہو بابا۔

عزت لکھنوی واقعی زمان کی عزت تھے ،اس لئے کہ آپ نے کائنات الہیٰ کے سب سے بڑے رکھوالے حسین ابنِ علی کی مدع و ثناکے لئے خونِ دل لہوکیا۔

لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی

اِیسا اسلوب یہ انداز یہ لہجہ اپنا

عزت لکھنوی جب 1958 میں کراچی آئے تو انجمن ظفر الایمان کی داغ بیل پڑ چکی تھی، لہذا انجمن میں شریک ہوئے اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ جدوجہد سے اسے روز افزوں ترقی دی۔ عزت لکھنوی کی جدت پسندی نے طرحی شب بیداری کی بنیاد رکھی اور انجمن کو ایک منفرد مقام بخشا عزت لکھنوی کی پرسوز آواز مقبولیت پاتی چلی گئی اور 1976 سے 1979 تک مسلسل تین سال وہ ایران میں منعقد ہونے والی اردو مجالس میں مدعو ہوئے۔ ‘کراچی ٹی، وی اسٹیشن جب قائم ہوا تو اس وقت سے لے کر تادمِ مرگ محرم کے شامِ غریباں کی نشریات میں انکا پڑھا ہوا نوحہ نشر کیا جاتا رہا۔ عزت لکھنوی کے مقبول نوحوں میں انکا اپنا لکھا ہوا نوحہ گونج رہی ہے یہ صدا یاحسین ” آج بھی محافل و مجالس میں پڑھا جاتا ہے ۔

1971 سے 1974 تک کراچی میں جو میر انیس کے صد سالہ جشن کی تقریابت منعقد ہوئیں ان میں عزت لکھنوی کی نظم بہت مقبول ہوئی جو مسدس میں میر انیس کی شان میں کہی گئی تھی۔ اس کے آخری بند کا آخری شعر حبیب پبلک اسکول، کراچی کی نصابی اردو کتاب میں میر انیس کے حالات زندگی کے ساتھ شامل کیا گیا۔ وہ مکمل بند یہ تھا

نظم کا بند

جوش و اقبال ہوں یا آرزو و شاد و وزیر

مونس و انس ہوں ، عارف ہوں کہ ہوں اوج و خبیر

محشر و رشک و صفی ، بحر و نظر و داغ و امیر

سب کا ادراک اسی زمزمہ دانی کا اسیر

شبلی و حالی و آزاد کی منزل ہیں انیس

جستجو نام ہے اردو کا تو حاصل ہیں انیس

دورانِ ملازمت عزت لکھنوی بنک آڈٹ کے سلسلے میں خان پور گئے ہوئے تھے کہ وہاں دل کا دورہ پڑنے کے باعث 16 جنوری 1981 کوانتقال کر گئے۔ ان کے جسدِ خاکی کو کراچی لا یا گیا اور تدفین ہوئ ۔

قبر میں مدفون ہے اب ظفر الایمان کی بیاض

ہوگئی اک انجمن تنہا کہ عزت اُٹھ گیا

لکھنوی تہذیب کی وہ اک مجسم شخصیت

یک نازک قمقہ ٹوٹا کہ عزت اُٹھ گیا

کوئی جنت میں کہے گا ترجماں آیا میرا

پھر سُنا اب آئے ہو بابا کہ عزت اُٹھ گیا

زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر اب آئے ہوئے بابا 1970ء کی دہائی ٹی وی پر جب عزت لکھنوی (مرحوم) اپنے ہم نوائوں کے ساتھ یہ نوحہ پڑھتے تھے تو ان کے ساتھ ان کا کم سن بیٹا بھی ہوتا تھا۔ اس نوحے میں اس کی آواز الگ ہی سے سنائی دیتی تھی اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ باپ نے بیٹے میں خود اعتمادی لانے کے لیے ساتھ بٹھا رکھا ہے۔ ٹی وی پر اب بھی ہرسال باقاعدگی سے یہ نوحہ دکھایا جاتا ہے اور عزت لکھنوی (مرحوم) کی اس ریکارڈنگ میں نظر آنے والابچہ نوحہ خوانی میں اسد آغا کے نام سے اپنی الگ شناخت بناچکا ہے۔ اسد آغا کے دادا چھمن صاحب بھی ایک معروف نوحہ خواں تھے، ان کی تیسری پشت اسد آغا ہیں۔ جب یہ صرف سترہ برس کے تھے تو باپ کے سائے سے محروم ہوگئے۔

اس دوران انہوںنے اپنے والد سے جو کچھ سیکھا وہی آج ان کے کام آرہا ہے۔ ان کی والدہ بھی نوحے پڑھتی تھیں اور گھر میں عزاداری کی مجالس باقاعدگی سے منعقد ہوتی تھیں۔ والد کے انتقال کے بعد میٹرک ہی سے ملازمت کرنا پڑی اور اب اپنا کاروبار چلارہے ہیں۔ انہوںنے جب باقاعدہ طور پر نوحہ خوانی کا آغاز کیا تو اپنے والد کے پڑھے ہوئے نوحوں کے علاوہ مہدی ظہیر کلیم آل عبائ، اور شاہد نقوی جیسے شعراء کے کلام سے استفادہ کیا۔ انہوںنے جب اپنے والد کا پڑھا ہوا نوحہ ’’زینبؑ نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر اب آئے بابا‘‘ اور ’’داستانِ کربلا‘‘ اتنی خوب صورتی سے پیش کیا کہ سننے والوں کو عزت لکھنوی (مرحوم) کی یاد آگئی بعد میں ریحان اعظمی، محشر لکھنوی، حسن اکبر کمال کے نوحوں نے ان کے نام کو ایک نئی پہچان دی۔

عزت لکھنوی صاحب نے عزت کی زندگی گزاری،جس سے ملے خلوص عاجزی سے ملے ،بے غرض ملے ،سادہ زندگی گزاری،خوداری کی زندگی گزاری ،اور موت آئی تو وہ بھی عزت کی ملی نہ کسی کو زحمت دی نہ کسی کا احسان لیا نہ علاج ہوا نہ بستر پر ایڑھیاں رگڑیں چند لمحوں میں سکون سے رختِ سفر باندھا اور آنکھیں بند کرلیں ۔ذکر حُسین کا اعزازمحبت اہلِ بیت کے اشک لیکر داخلِ جنت ہوئے ۔جیسے جیسے زمانہ باشعور ہوگا ،محترم عزت لکھنوی صاحب مرحوم کا کلام قدر کی نگا ہ سے دیکھا جائے گا۔اُن کی غزل کے چند اشعار پر اپنے مضمون کو ختم کر رہا ہوں۔

فکر بدلے گی تو پھرلوگ ہمیں پوجیں گے

بعد مرنے کے کیا جائے گا چرچا اپنا

غیر تو وقت پہ کچھ کام بھی آجاتے ہیں

کوئی لیکن کبھی اپنوں میں نہ نکلا اپنا

لوگ تڑپیں گے اگر یاد کبھی آئے گی

ایسا اسلوب یہ انداز یہ لہجا اپنا

آفتاب احمد

کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY