شام کے مغربی شہر حمص میں تعینات شامی فوج پر کیے گئے عسکریت پسندوں کے حملوں میں کم از کم بیالیس فراد مارے گئے ہیں۔ اس میں شامی حکومت کے دو سکیورٹی مراکز پر کیے گئے خودکش حملے بھی شامل ہیں۔ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 ہفتہ پچیس فروری کی صبح سے حمص کے قریبی علاقوں غوطہ اور ماہاتا میں کیے گئے خود کش حملوں کے بعد فریقین کے درمیان جھڑپ جاری ہے۔ شام کے حالات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق عسکریت پسندوں کے حملے میں شامی فوج کا ایک سینیئر افسر بھی ہلاک ہوا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملہ آوروں کا تعلق ’اسلامک اسٹیٹ‘ سے ہے یا یہ کسی اور عسکری گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY