٭27 فروری 2007ء کو پاکستان کی مشہور فلمی اداکارہ راگنی وفات پاگئیں

0
1244

اولمپین لطیف الرحمن کی وفات

٭ ہاکی کے مشہور کھلاڑی لطیف الرحمن یکم جنوری 1929ء کو اندور میں پیدا ہوئے تھے۔ 1948ء میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کھیلوں میں انہوں نے بھارت کی نمائندگی کی، بعدازاں وہ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور 1952ء اور 1956ء کے اولمپک کھیلوں اور 1958ء کے ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے شریک ہوئے۔ وہ علی اقتدار شاہ دارا اور اختر حسین کے ساتھ دنیائے ہاکی کے ان تین کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنہوں نے اولمپک کھیلوں میں دو ممالک کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔
لطیف الرحمن اسپیڈ، بال کنٹرول اور نپاتلا کراس لگانے کے ماہر تھے۔ مغربی ممالک نے انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب عطا کیا تھا۔ یہ خطاب بعدازاں سمیع اللہ کے حصے میں بھی آیا۔ انہیں پاکستان کا دھیان چند بھی کہا جاتا تھا۔
* 27 فروری 1987ء کو لطیف الرحمن فیصل آباد میں وفات پاگئے۔
لطیف الرحمن کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں
————————

اداکارہ راگنی کی وفات

٭27 فروری 2007ء کو پاکستان کی مشہور فلمی اداکارہ راگنی وفات پاگئیں۔
راگنی کا اصل نام شمشاد بیگم تھا اور وہ 1923ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے سب سے پہلے فلم ساز اور ہدایت کار روشن لال شوری کی فلم دلا بھٹی میں راگنی کے فلمی نام سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ اسی فلم میں انہیں آہو چشم کا خطاب ملا جو ان کے نام کا حصہ بن گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم سہتی مراد، ہمت، نشانی، میرا ماہی، راوی پار، پٹواری، پونجی، کیسے کہوں، شیریں فرہاد ،نیک پروین اور مندری وغیرہ میں کام کیا، تاہم انہیں اصل شہرت ہدایت کار اے کاردار کی فلم شاہ جہاں سے ملی جس میں انہوں نے ممتاز محل کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان آگئیں اور فلم مندری سے اپنے پاکستانی کیریئر کا آغاز کیا۔ پاکستان میں بننے والی ان کی اہم فلموں میں بے قرار، کندن، اکیلی، غلام، گمنام، نوکر، بیداری، انار کلی، نائلہ، جلوہ، صاعقہ، تاج محل اور آب حیات کے نام شامل ہیں۔
—————————-

وائس ایڈمرل (ر) حاجی محمد صدیق چوہدری کی وفات

٭27 فروری 2004ء کو پاک بحریہ کے پہلے کمانڈر انچیف حاجی محمد صدیق چوہدری کراچی میں وفات پاگئے۔
حاجی محمد صدیق چوہدری 1911ء میں بٹالہ ضلع گورداس پور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1933ء میں رائل انڈین نیوی میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ 1937ء میں انہوں نے اس بحری دستے کی قیادت کی تھی جو لندن میں شاہ ایڈورڈ ہشتم کی رسم تاجپوشی میں شریک ہوا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران انہوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کی لڑائیوں میں حصہ لیا۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے پاک بحریہ میں خدمات انجام دینی شروع کیں ۔وہ پاکستان بحریہ کے سب سے سینئر آفیسر تھے۔ 31 جنوری 1953ء کو انہوں نے پاک بحریہ کے پہلے مسلمان اور پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ انہوں نے ایچ ایم پی ایس دلاور پر منعقد ہونے والی ایک باوقار تقریب میں اپنے پیشرو ریئر ایڈمرل جیمز الفریڈ جیفورڈ سے اپنے عہدے کا چارج لیا۔ وہ 28 فروری 1959ء تک اس عہدے پرفائز رہے۔ ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف پر انہیں بابائے پاک بحریہ کہا جاتا تھا جبکہ حکومت پاکستان نے انہیں ہلال پاکستان کا اعزاز عطا کیا تھا۔
* 28 فروری 2004ء کووائس ایڈمرل (ر) حاجی محمد صدیق چوہدری کراچی میں فوجی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔یہ وہی تاریخ تھی جب 45 برس پہلے وہ پاک بحریہ کی سربراہی سے ریٹائر ہوئے تھے۔

وقار زیدی ۔ کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY