ممبئی: (اعظم شہاب) آج ذرائع ابلاغ کی نجانے کس کس نام سے شکلیں ہمارے سامنے ہیں اور اکثر لوگ صحافی کا کردار ادا کرنےمیں سبقت لے جانے کی سعیٔ بلیغ کی’ ضد ‘ بنے ہوئے ہیں، اس کے بر عکس سنجیدہ طبع لوگ ’ اچھی گفتگو‘ کے لیے ترستے ہیں۔ اس پس منظر میں اسی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مغرب کے مشہور فکشن نگار اور پنڈت نہرو کے دوست فارسٹرؔ کو بھی یہ شکوہ تھا کہ بات کرنے والے تو افراط ہیں مگر اچھی گفتگو کرنے والوں سے ہمارا معاشرہ خالی محسوس ہوتا ہے۔
اسی تقریر میں اپنے وقت کے ممتاز مارکسسٹ دانشور اقبال احمد کو بھی یاد کیا گیا کہ’’ جب یہ کامریڈ امریکہ کی ایک مشہور یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد اپنے وطن(پاکستان) گئے تو اُس وقت کے صحافیوں نے اُن سے تفصیلی انٹروِیو کیا جس میں اُ س زمانے کے حالات پر سوال کیے تو جواب میں مارکسسٹ اقبال احمد شاکی تھے کہ یہاں کچھ لوگ مجھے مذہب کی طرف کھیچنا چاہتے ہیں تو بعض حضرات سیاست کے جوہڑ میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر عام آدمی کے حالات پر کوئی گفتگو نہیں کرتا، جس کے لیے مَیں ترس رہا ہوں اور اچھی گفتگو تو جیسے عنقا ہو رہی ہو۔‘‘
گزشتہ سنیچر16 نومبر کی شام ممبئی کی ایک تاریخی جگہ ’ خلافت ہاؤس‘ میں ندیم صدیقی کی کتاب ’ ظ: ایک شخص تھا‘کی’ ایکسس سافٹ میڈیا ڈاٹ کام‘ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ِ رونمائی میں ممبئی کے ممتاز اُستاد اورمقبول کالم نگار پروفیسر سید اقبال نے مندرجہ بالا باتیں کیں تو شروع میں لوگوں نے محسوس کیا کہ پروفیسر موصوف جلسے کے اصل موضوع سے دور ہورہے ہیں مگر انہوں نے جب اپنی اس گفتگو کو ڈاکٹر ظ انصاری کی خوش بیانی سے جوڑا تو خلافت ہاؤس کا پورا ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ پروفیسرسید اقبالؔ نے ظ ؔانصاری سے اپنی پہلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ مَیں نے انھیں اپنی درس گاہ سینٹ زیوئرس کالج میں سنا تھا ، عجب دلکش اندازِ گفتگو تھا کہ پورا مجمع جیسے اُن کی گفتگو میں بہہ گیا تھا، تقریر کے بعد جب مَیں اُن سے ملا تو انہوں نے نہایت شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے یونی ورسٹی کلب ہاؤس (چرچ گیٹ۔ ممبئی)میں واقع فارن لینگویج کےشعبے میں آنے کو (واضح رہے کہ ظ انصاری مذکورہ شعبے کے صدر تھے) کہا تو کئی بار اُن سے مستفیض ہونے کےلیے مَیں نے اُن کی کلاس میں حاضری دِی۔
کامریڈظؔ انصاری کے آخری دنوں میں مارکسزم سے رجوع ہونے کی روداد بھی ( ضمناً) اس جلسے میں بیان ہوئی، اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پروفیسر سید اقبال نے جس سلیقے سے اپنی گفتگو کو ظ صاحب کی’ توبہ‘ سے جوڑا، جس پر تمام حاضرین نہ صرف لطف اندوز ہوئے بلکہ ہمارے قریب بیٹھےہوئے ایک سامع اور مشہور صحافی محمد رفیع خان نے ہم سے کہا کہ ’ اچھی گفتگو‘ کسے کہتے ہیں، سید اقباؔل نے اپنی تقریر میں اس کی بہترین جھلک بھی حاضرین کو دِکھلا دِی۔ یقیناً پروفیسرسید اقبال کی گفتگو بلکہ ’ اچھی گفتگو‘ کا ایک نمونہ ہے:
’’۔۔۔ روز ِ حشر ،سب اپنے اپنے اعمال کے ساتھ خدا کے سامنے ہونگے مثلاً جب سرسید احمد خان کی پیشی ہوگی تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور یہ کہیں کہ مَیں کچھ اور تو نہیں لایا ، مگر مَیں نے الطاف حسین حاؔلی سے مسدسِ مدو جزر لکھوائی تھی شاید میرے حق میں وہ ربِ کریم کی خوش نودی کا سبب بن جائے، اسی طرح جب ( نواب آف بھوپال) بیگم سلطان جہاں کی حاضری ہوگی تو وہ کہیں گی، اے میرے ربِ کریم ! مَیں کچھ نہیں کر سکی مگر شبلی سے میں نے’ سیرت النبی‘ لکھوا لی اور نواب حامد اللہ یہ کہتےہوئے سنے جائیں گے کہ مَیں نے علامہ اقبال سے’ضربِ کلیم‘ کہلوائی تھی اسی طرح ہماری زبان کے ہمہ جہت ادیب و خوش بیان خطیب ڈاکٹرظ ؔ
انصاری اس بیانیے کے ساتھ محشر میں نظر آئیں گے کہ’ میری تیس سے زاید ترجمہ شدہ کتابیں، روسی اُردو ۔۔۔ اُردو روسی لُغَت کی دو جِلدیں،متعدد اخباروں کی فائلیں، روزنامہ انقلاب(ممبئی) کے مقبولِ عام اداریوں کا مجموعہ’ کانٹوں کی زبان ‘ میرے ایڈیٹ کردہ رِسالوں کے شمارے تو اللہ کے حضورکسی اعتنا کے حامل نہیں ہو سکتے مگر مَیں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے اور مارکسی نظریے سے تائب ہوگیا ہوں اور مجھے یقین ہوگیا ہے کہ یہ مارکسی نظام ایک فریب ہے اور اس نظام سے مَیں الگ ہو گیا ہوں، مَیں(مارکسز م سے متعلق) اپنی تمام تحریروں کو مسترد کرتا ہوں۔ یہ دُنیا دھوکے کی ایک ٹٹّی ہے‘
پروفیسر سید اقبال نے اپنی ’ اچھی گفتگو ‘اس حسنِ ظن پر تمام کی کہ یقین ہے ڈاکٹر ظؔ انصاری کی تجدیدِ ایمانی کی یہ چھوٹی سی گواہی اللہ کو پسند آجائے اور وہ اُن کی مغفرت کردے ۔
اس پروگرام کو ’تقریبِ رونمائی‘ کا نام دیا گیا تھا، جس پر مہمان خصوصی
عبد المعید پھولپوری نے ندیم صدیقی سے سوال کیا کہ اس تقریب کا نام تو ’تقریبِ اجرا‘ ہونا چاہیے تھا تو ندیم صدیقی نے بتایا کہ میرے کرم فرما اور شہر کی ایک مشہور سماجی و فلاحی شخصیت کے حامل محترم علی ایم شمسی کو فون پر اس کتاب کی اجرا کی دعوت دی گئی تھی مگر انہوں نے اپنی کِبرِ سِنی اور ضعف کے سبب خلافت ہاؤس آنے سے معذرت کر لی تھی ، چونکہ شمسی صاحب سے میرے(ندیم صدیقی کے) کوئی پچاس برس کے بے لوث مراسم اور تعلقات ہیں تو مَیں نے یہ کیا کہ ایک شب بلا اطلاع شمسی صاحب کے ’ کنجِ عافیت‘ پر دستک دیدی، ملاقات ہوئی اور اس گھریلوملاقات کو مَیں نے ایک ’اجرائی تقریب ‘میں یوں بدل دیا کہ مذکورہ کتاب(ظ: اک شخص تھا) کو زرّیں کاغذ میں سجا کر شمسی صاحب کو پیش کی اور انہوں نے اخلاص ِ شمسی کے ساتھ سنہرے کاغذ میں لپٹی ہوئی کتاب کا’ کنجِ عافیت‘ میں اجرا کیا جس کو باقاعدہ ڈاکٹر ظہیر انصاری نے فوٹو لے کر مستند کر لیا، رخصت کے وقت شمسی صاحب کہنے لگے : ندیم میاں! آپ نے غیر متوقع طور پر میرے یہاں آکر صحیح کیا اور اب مَیں آپ کی کتاب کی تقریب میں ضرور آؤں گا، اور نہ صرف وہ آئے بلکہ اخیر تک تقریب کاوقار بنے رہے۔ ۔ کسی بھی کتاب کا اجرا ایک ہی بار ہو نا چاہیے لہٰذا خلافت ہاؤس کی عوامی تقریب کو ’رونمائی‘ کا نام دیا گیا اور ایک خاص بَینر نما کے ذریعے حاضرین کے سامنےکتاب کےجاذب نظر سرورق کی نمائش کی گئی۔
ممبئی کے معروف اُستاد ، بینکر اورفکشن کے نامور شخص، ’ کتھا‘ جیسی کتاب کے مصنف، ساہتیہ اکادیمی کے اعزاز یافتہ خالد اگاسکر جو اِدھر ایک مدت سے اپنی علالت کے سبب گوشہ نشین تھے انھیں بھی کسی طور اس تقریبِ رونمائی میں شرکت پر آمادہ کیا گیا تھا، موصوف نے اپنی تقریر میں ظ صاحب کو یاد کرتے ہوئے کہا :’’ لوگ ظ صاحب کے جتنے مداح تھے تو اتنے ہی ان سے شاکی بھی رہتے تھے کہ وہ برسرِ عام کھوٹے کو کھوٹا اور کھرے کو کھرا کہنے کا وصفِ جرأت رکھتے تھے۔ ظ صاحب کی تحریر اِجمال میں تفصیل کی ایک بہترین تصویر ہوتی تھی وہ کم سے کم لفظوں میں سماجی ، سیاسی ادبی صورتِ حال پر اپنا تاثر ایک شگفتگی کے ساتھ بیان کرنے پر قدرت رکھتے تھے جس سے ملت و قوم اور ادبی صورت ِحال واضح ہو جاتی تھی، اُن کے اِجمالی قول و عمل کا ایک نمونہ اُن کایک حرفی نام ’ ظ‘ بھی ہے جو موصوف کی شخصیت کا بہت خوب مظہر ہے۔
ظ صاحب کم از کم ممبئی جیسے شہر میں لفظ و معنیٰ کے جیسے پارکھ تھے وہ بھی ایک یکتائی ہے، اسے حسنِ اتفاق کہا جائے کہ ندیم صدیقی جو اِس کتاب کے مصنف یا مؤ لف ہیں اُن کے ہاں بھی یہ قدر، مشترک ہے۔ یہ کتاب ظؔ صاحب جیسے شخص کے تعلق سے ایک حوالے کی کتاب ہے، جو لوگ ریسرچ ورک کرتے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اس کتاب میں دیکھیں کہ اِجمال میں ریسرچ کیسے کی جاسکتی ہے، پوری ذمے داری کےساتھ کہہ رہا ہوں ہے
کہ’ ظ شناسی‘ جیسے موضوع پر ندیم صدیقی کی یہ کتاب ریسرچ کرنے والوں کی راہیں روشن کر نے کا خاصا مواد رکھتی ہے۔‘‘
تقریب کی ابتدا ڈاکٹر ظہیر انصاری نے اپنی تحریر سے کی جس میں کتاب اور صاحبِ کتاب کے تعلق سے باتیں کی گئیں، اُن کے بعد شہر کے معروف شاعر اور اُستاد سید ریاض رحیم نے بھی اپنی لکھی ہوئی باتیں حاضرین کو سنائیں، دور ِ حاضرجس میں ہمارے لکھنے پڑھنے والے بھی فلمی لوگوں کی طرح اپنےنام ونمود کے خواہاں نظر آتے ہیں، ا س تقریب میں اس کے بر عکس ایک بات ایسی ہوئی جس کو راقم ہی نہیں سنجیدہ اشخاص نے بھی نوٹ کیا، وہ بات یہ تھی کہ ناظم تقریب عرفان جعفری کو صاحبِ کتاب ندیم صدیقی نے چند لمحے کےلیے مائیک سے دور کرتے ہوئے تمام مقررین و حاضرین سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کی کہ یہ کتاب اوریہ جلسہ ڈاکٹر ظ انصاری سے منسوب ہے، بیشک یہ کتاب مَیں نے پیش ضرور کی ہے مگر چاہتا ہوں کہ ہمارے مہمان مقرر حضرات، ظ صاحب اور ظ صاحب ہی سے متعلق اس کتاب پرگفتگو کریں میرے تعلق سے زحمت نہ فرمائیں کہ ہم سب آج ظ صاحب کو یاد کرنے اور اُن کے محاسن کےبارے میں سننے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔
مسلم حلقوں میں ایک امتیازی تشخص کے حامل جو ماضی قریب میں شہر کے اکثر ادیبوں اور شاعروں کے دوست بلکہ’ خیاباں پبلی کیشنز‘ کے روح رواں بھی رہے ہیں جنہیں لوگ مولانا ظہیر عباس رضوی کے نامِ نامی سے یاد کرتے ہیں موصوف کی شرکت بھی اس تقریب کی مظہر روشن بنی ہوئی تھی، مولانا موصوف نے ممبئی کے مکتبہ جامعہ کے اُس سنہرے زمانے کو یاد کرتے ہوئے ظ صاحب سے ملاقاتوں کو تقریر میں تصویر کرنے کی سعیٔ ظہیر کی اور بتایا کہ وہ میرٹھ کے مشہور شیعی دِینی درس گاہ’ منصبیہ عربک کالج کے فاضل تھے اور اس درس گاہ سے یقیناً بڑے بڑے علما کا تعلق رہا ہے مگراس مدرسے کے سابق طالب علم کی حیثیت سے ادبی دُنیا میں امتیازی تشخص بنانے وا لا واحد نام ’ ظ انصاری‘ ہے ۔
ظ انصاری اُس دور میں جب ایک سے ایک جید اہل ِادب موجود تھا اپنے ادبی اوصاف میں یکتا تھے، اُن کی تحریر ، اُن کی تقریر میں کوئی بُعد نہیں تھا وہ جیسا پر کشش لکھتے تھے ویسی پُرکشش اُن کی تقریر بھی ہوتی تھی، یہ وصف کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔
مَیں اس کا عینی گواہ ہوں کہ انہوں نے واقع قلابہ میں اپنی رہائش ’ شیریں‘ میں مارکسسٹ نظریات سے توبہ کی ۔
یہ امر باعثِ خوشی ہے کہ اُن کی رِحلت کے کوئی تیس برس بعد ظ صاحب کے شایانِ شان برادرِ عزیز ندیم صدیقی نے دنیائے ادب کے سامنے ایک
کتاب ’ ظ: اک شخص تھا‘پیش کردی اور سید منظر زیدی نے اس قدر شاندار تقریب کا اہتمام کر ڈالا، ہر چند کہ اس طرح کے ادبی جلسے اب معدوم سے ہوگئے ہیں میرا گمان تھا کہ اس تقریب میں کوئی تیس چالیس افراد ہی جمع ہوپائیں گے مگر حیرت ہے کہ خلافت ہاؤس کی تمام نشستوں پر شائقین نہ صرف موجود ہیں بلکہ کئی گھنٹے سے متحرک تصویر بنے ہوئے ہیں،یہ ’ ظ ‘ مرحوم سے لوگوں کی اُنسیت و محبت کا ایک نتیجہ بھی کہی جاسکتی ہے، ایک مدت بعد ایک خالص ادبی تقریب میں شرکت کر کے مجھے انتہائی مسرت محسوس ہو رہی ہے اور اس کی ساری کریڈٹ ظ مرحوم کے اخلاص کو دی جانی چاہیے کہ ادب کے اپنے مشمولات میں ان کاخلوص انتہا پر تھا ، ظ صاحب کی ادبی نگارشات اور یہ تقریب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ خدا کسی کی سعی کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔‘‘
ڈاکٹر ظؔ انصاری کے فرزند سوئم’ علی انور‘ بھی اس تقریب میں شریک تھے تو دوحہ قطر کے مشہور اُردو دوست حسن چوگلے نے بھی جلسے کو
حسنِ شرکت بخشا۔
کتاب کی رونمائی کرنے والوں میں مرکزی کردارپونے سے آنے والے فارسی کے اُستاد راجندر جوشی تھے، جنہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ظ صاحب پونے کے ملٹری کالج میں اکثر لکچر کے لیے مدعو کیے جاتے تھے اُن کی لفظ شناسی کا شگفتہ اظہار مثالی تھا، ان کے مذکورہ لکچرز ملٹری کالج(پونے) کے آثارِ قدیمہ میں یقیناً ہونگے کاش کوئی انھیں حاصل کر کےکاغذی پیرہن دیدے تو ظ صاحب کا ایک بیش قیمت تقریری مواد یادگار ہوجائے گا جو ہماری آئندہ نسل کے کام آسکتا ہے۔ ظ صاحب کےتراجم اُردو زبان میں ایک گراں قدر سرمایہ ہیں اگر ان کا ایک کلیات چھپ جائے تو تراجم کے شعبے میں ایک اچھا اضافہ ہوگا۔
محترم علی ایم شمسی نے بھی حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ظ صاحب سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کیا اور کہا کہ’’ قیصر الجعفری کی ایک شعری کتاب کی اجرائی تقریب میں انہوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ،
شمسی صاحب !ہم یوپی والوں کے ہاں دُلہن جب سسرال آتی ہے تو اسے منہ دکھائی دی جاتی ہے، ہم لوگ تو لکھنے پڑھنے والے قلاش لوگ ہیں اور آپ بینک سے وابستہ ہیں اور آپ کے پاس کھنکتے ہوئے سِکّے ہیں تو آج آپ کو کتاب کی منہ دکھائی دینی چاہیے۔ جس پر نہرو سینٹر حاضرین کی تالیوں سے گونج اُٹھا تھا، ظ صاحب کا بات سے بات کرنے کا انداز منفرد تھا، اب یہ خوبی نظر نہیں آتی، جس پر کلمۂ استرجاع پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔‘‘
اس تقریب میں دور درازمالیگاؤں سے بھی شائقین ادب نے بہ نفسِ نفیس شرکت کی جس میں شکیل حسن مومن ، ڈاکٹر سعید فارانی اور جواں سال صحافی امتیاز خلیل اور پونے سے آنے والے انقلاب کے سابق رکن عظمت اللہ صدیقی بھی شامل تھے، امتیاز خلیل نے اپنی تقریر میں ’ظلِ حسن زیدی‘ سے ظ انصاری بننے پر اپنے انداز سے روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ زمانہ جب کہ ہمارے مسلم معاشرے میں بھی ذات پات کی تفریق’ اشراف و اجلاف‘ کے تصور کے ساتھ موجود تھی، ایک سید زادے ظل ِ حسن زیدی نے طبقۂ اجلاف سے تعلق(یعنی انصاری بننے ) کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ اپنی عمر کے آخر آخر تک ’ انصاری‘ ہونے پر اٹل رہے ،جس کی پتھریلی گواہی قبرستانِ رحمت آباد (ممبئی) میں ان کی قبر کا کتبہ آج بھی دے رہا ہے۔
برہانی کالج کے سابق اُستاد ، شاعر اور شہر کی اکثر تقریبات کے مثالی ناظم ڈاکٹر قاسم امام نے بھی ظ صاحب سے متعلق کتاب کی ورق گردانی کی روداد سناتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ اس کتاب نے مجھے باخبر کیا کہ
ظ صاحب بر جستہ گوئی پر کس درجہ قادر تھے کہ(برسہا برس قبل جب) ممبئی کےمومن پورے میں کپڑا بُننے والےمارکسٹوں نے ’ عوامی ادارہ‘ قائم کیا تو اُس وقت کے تمام جیّد ترقی پسند مارکسسٹ شاعروں ادیبوں کو بھی مدعو کیا اور اُن سب کی گُل پوشی نہیں بلکہ اُن کے گلے میں سٗوت کے ہار ڈالے گئے ، اُس تاسیسی جلسے کے مقررین میں ڈاکٹر ظؔ انصاری بھی شامل تھے، سٗوت کے ہار ایک غیر متوقع پیش کش تھی اور اس غیر متوقع واقعے کو جس طرح ظ انصاری نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ اُس احساس کا عجب برمحل اظہار بھی کیا کہ مومن پورے کی پوری’مومن برادری‘ شاداں و فرحاں ہو گئی، ظ صاحب کی تمام تقریر’ سٗوت‘ اور سٗوت سے متعلق برادری پر محیط تھی کاش اُس زمانے میں بھی موبائیل ہوتا اور ظ صاحب کی’ سٗوتی تقریر ‘ریکارڈ بن جاتی، نہیں بن سکی مگر بھائی ندیم صدیقی کی اس کتاب میں یہ سٗوتی واقعہ ایک تاریخ کی طرح ہمیشہ ہمیشہ کےلیے درج ہوگیا ہے ۔
خلافت ہاؤس میں منعقد ہونے وا لی اس تقریب کے معاونین میں شہر کے ممتاز روزنامہ’ ہندستان ‘کے مدیر سرفراز آرزو کا کردار بھی شامل حال تھا ، انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ظ صاحب کو اپنے طالب ِعلمی کے دور میں بارہا سنا اور پھر انقلاب میں اُن کے اداریوں کو سبقاً سبقاً پڑھا ہے، یہ اسباق میرے لیے آج بھی مینارۂ نور سے کم نہیں ، سچ تو یہ ہے کہ میری عمر کے اکثر صحافیوں کو انھیں اپنا اُستاد ماننا چاہیے۔
روزنامہ’ ممبئی اُردو نیوز‘ کے ایڈیٹر شکیل رشید نے کہا کہ مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع تو میسر نہیں ہوا مگرظ صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی یا انھیں کہیں سنا تو اُن سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملا، اُن کے اداریے میں نے بھی ایک نصاب کی طرح پڑھے ہیں، اُن کے مشفقانہ کردارکو میں فراموش نہیں کر سکتا۔
اس تقریب کےصدر ، جو بہت سی فلموں کے رائٹر بھی ہیں یعنی جاوید صدیقی کو ادبی دُنیا’ روشن دان‘ ۔۔۔ لنگر خانہ اور’ مٹھی بھر کہانیاں ‘ہی نہیں ’اجالے‘ جیسی کتابوں کے حوالے سے نہ صرف جانتی ہے بلکہ اُن کی خاکہ نگاری کے سبب دل کی گہرائیوں سے انھیں مانتی بھی ہے، موصوف نے ظ انصاری کی ’ادبی ضد‘ اور ان کے علم و فضل پر کلام کرتے ہوئے اس تہنیتی تقریب کی صدارتی تقریر کو’ تنقیدی رنگ‘ دیتے ہوئے ظؔ صاحب سے مارکسی نظریات سے تائب ہونے پر اپنے اختلاف کا واضح اظہار بھی کیا اور کہا کہ مارکسی حکومت یقیناً ناکام ہو گئی یاہو سکتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مارکسی نظریات ناکام ہوگئے۔ موصوف نے ندیم صدیقی کی کتاب کے نام سے بھی اختلاف کیا کہ اس کتاب کا نام’ ظ کی شخصیت در شخصیت‘ ہونا چاہیے تھا اسی کے ساتھ جاوید صدیقی نے یہ بھی کہا کہ’ ندیم میاں نے اپنی پنسل ٹارچ سےظ صاحب پر وہ روشنی ڈالی ہے، جو بڑی بڑی سرچ لائیٹ والے بھی نہ ڈال سکے۔‘
اس تقریب کے اوّلین دعوت نامے میں مدعومقررین کی جو فہرست شائع ہوئی تھی اُس میں محترمہ رفیعہ شبنم عابدی کا نامِ نامی بھی شامل تھا مگر تقریب میں وہ اپنی گھریلو مجلس کے سبب نہ آسکیں، ظاہر ہے مجلس ِ عزا کا ثواب، ادبی محفل تو نہیں دے سکتی۔ کاش وہ ہوتیں تو ظ صاحب کے بارے میں ایک بہن کی زبان سے ہم کچھ اور محاسنِ ظوئے سنتے۔!!
اس تقریب کی نظامت شہر کے ممتاز شاعر عرفان جعفری نے اپنے دلچسپ انداز سے کی کہ اس نظامت میں انہوں نے تکلم عرفانی سے حاضرین کےلبوں پر ٔتبسم کے گُل کھلانے کی سعیٔ جعفری کا بھی خوبی سے مظاہرہ کیا ۔
مفتی عزیز الرحمان فتح پوری جو ایک پُر گو شاعر بھی ہیں، انہوں نے بتایا کہ ظ صاحب کے دورِ ادارت ہی میں انقلاب میں میرے فتوے کاکالم شروع ہوا تھا جو ابتک جاری وساری ہے بعدہٗ مفتی صاحب نےایک قطعے میں ظؔ صاحب کو اس طرح یاد کیا:
کینہ تھا، کدورت تھی نہ دلآزاری
اس شخص کی ہر بات رہی معیاری
دُنیائے ادب کے لیے اِک نقشِ جمیل
کہتے ہیں کہ’ اِک شخص تھا ظ انصاری‘
مفتی عزیز الرحمان کی دُعائے قلبی کے بعد تمام حاضرین کےلیے عشائیے کے اہتمام پر یہ شاندارتقریب اختتام کو پہنچی۔
**













