کبھی کھولو یہ دروازہ۔ ثانیہ شیخ

0
129

کبھی سنتے ہو
اک دستک ، خموشی کی
بہت مدھم سی اک دستک
دعا کے نرم ہاتھوں سی
کبھی شبنم سی لرزاں سی
تری دہلیز چھو تی ہے
وہ اک خوشبو سا رشتہ ہے
تمہاری چاپ کو جو
جاگتی دھڑکن سے چھوتا ہے
تری آ واز کی خوشبو
جو سانسوں میں سموتا ہے
کبھی کھولو یہ دروازہ
کبھی خوشبو کو رستہ دو!!

ثانیہ شیخ

SHARE

LEAVE A REPLY