شام پر مجوزہ پابندی: روس، چین نے قرارداد ویٹو کردی

0
138

روس اور چین نے شام پر مجوزہ پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد ویٹو کردی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے باعث شام پر مجوزہ پابندیوں کی برطانیہ، فرانس اور امریکا کی پیش کردہ قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رائے شماری کی گئی۔

قرارداد کے حق میں 9 ووٹ ڈالے گئے جبکہ چین، روس اور بولیویا نے اس کی مخالفت کی۔ قازقستان، ایتھوپیا اور مصر نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ میں قرارداد کی منظوری کے لیے اس کے حق میں 9 ووٹ اور کوئی ویٹو نہیں چاہیے تھا۔

یہ ساتواں موقع ہے جب شام کے سب سے قریبی فوجی اتحادی روس نے شامی حکومت کے حق میں اپنی ویٹو پاور استعمال کی ہے۔

چین بھی، جو سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں سے ایک ہے، شام مخالف قراردادوں پر 6 بار روس کا ساتھ دے چکا ہے۔

قبل ازیں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے خبردار کیا تھا کہ جنیوا میں امن مذاکرات کے دوران شام پر پابندیاں عائد کرنا ’انتہائی غیر مناسب‘ اقدام ہوگا اور اس سے شام میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

اقوام متحدہ میں امریکا کی مندوب نکی ہیلے نے رائے شماری کے بعد کونسل کو بتایا کہ ’شام سے متعلق یہ قرارداد بالکل مناسب ہے لیکن یہ مایوس کن ہے جب ارکان جب اپنے ہی لوگوں کو مارنے والی دیگر رکن ریاستوں کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔‘

سلامتی کونسل میں یہ قرارداد منظور ہونے کی صورت میں فوجی کمانڈروں سمیت 11 شامی افراد اور 10 کمپنیاں اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہوجاتے، جن پر 2014 اور 2015 میں کیمیائی حملوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحدہ کی قیادت میں مکمل ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شامی فضائیہ نے 2014 اور 2015 میں اپوزیشن کے 3 دیہاتوں میں ہیلی کاپٹرز سے کلورین بیرل بم گرائے۔

تاہم شام کی حکومت جنگ کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی مسلسل تردید کرتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) کے ارکان پر مشتمل اس تحقیقاتی پینل کا یہ بھی کہنا تھا کہ 2015 میں حملے کے دوران داعش نے مسٹرڈ گیس استعمال کی۔

SHARE

LEAVE A REPLY