امریکی صدر نے سفری پابندی سے متعلق نئے حکم نامے کا اجراء ایک بار پھر مؤخر کر دیا ہے۔ نیا حکم نامہ چند روز میں جاری ہونے کا امکان ہے۔ یہ حکم نامہ بدھ کے روز جاری کیا جا نا تھا۔

اس سے پہلے وائٹ ہاؤس ذرائع کا کہنا تھا کہ نئے حکم نامے پر بدھ کے روز دستخط ہو سکتے ہیں۔ لیکن انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کا کہنا ہے کہ نئے حکم نامے میں تاخیر کر دی گئی ہے۔

اس تاخیر سے کانگریس سے پہلے خطاب کے بعد صدر کو ملنے والے سازگار رد عمل کو کمزور ہونے سے روکا جا سکے۔ نائب امریکی صدر مائیک پنس کہتے ہیں سفری پابندی سے متعلق نظر ثانی شدہ حکم نامہ چند دنوں میں جاری کر دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امیگریشن سے متعلق اپنے پہلے حکم نامے کا بھی دفاع کریں گے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نئے حکم نامے میں گرین کارڈ رکھنے والوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی نہیں ہو گی۔

دوسری جانب مسلم ملکوں کے شہریوں پر سفری پابندی کے نئے حکم نامے میں عراق کا نام شامل نہیں ہوگا۔ غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان نے انھیں اس بات پرقائل کرلیا ہے کہ سفری پابندی کے حکم نامے سے عراق کا نام نکال دیا جائے۔

وزیر دفاع جم میٹس، مشیر قومی سلامتی ایچ مک ماسٹر، وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور ہوم لینڈ سیکیورٹی چیف جون کیلی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجی اور سول آپریشن جاری ہے۔

اس لیے سفری پابندی سے متعلق حکم نامے میں عراق کا نام شامل نہ کیا جائے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے موخر کیا گیا نیا حکم نامہ جلد جاری ہونے کا امکان ہے

SHARE

LEAVE A REPLY