عید ان کو مبارک ہو جو کہ قولًا اور عملاً ً مومن ہیں؟ یہ ہی بات قرآن کی سیکڑوں آیتیں بار بارکہہ رہی ہیں کہ رمضمان المبارک اور اس میں پوشیدہ انعامات ان مومنوں کے لئے ہیں جو اللہ سے ڈرتے ہیں؟کیونکہ یہ عام مقولہ ہے کہ مومن ہمیشہ بیم اور رجاء کی حالت میں رہتا ہے۔ اور بیم ورجاء کیا ہے کہ کبھی کبھی اللہ سے بڑھی ہوئی امیدیں بندے پر حاوی ہوجاتی ہیں تو وہ بہت زیادہ پر امید ہوجاتا ہے لیکن وہی بندہ تھوڑی دیر میں اتنا ہی نا امید بھی ہوجاتا ہے، مثال کے طور پر وہ سوچتا ہے کہ میں کام تو کر رہا تھا خالص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے لئیے لیکن میرے دل میں اپنی ذاتی شہرت حاصل کرنے کی بھی خواہش تھی اور میرا دل اس سے خوش ہورہا تھا؟ توا ب وہ پریشان ہو جا تا ہے اور افسوس کرنے لگتا ہے کہ میں نے اسوقت پوری احتیاط کیوں نہ برتی کیونہ میں نے اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں کو اس وقت کی نمائش سے روکا اور اگر وہ یہ بیوقوفی کر بھی رہے تھےتو میں نے بجا ئے اس پر خوشی محسوس کرنے کے کم از کم اپنے دل کو قابو میں کیوں نہ رکھااور ان کے اس فعل پر کراہیت کیوں نہ کی جو کے میرے سارے اعمال کو ا کارت کر گئی؟ پھر سو چتا ہےکہ مجھ سے یہ ایک غلطی ہوگئی ہے جو کہ ساری عمر میں نہیں ہوئی تھی اور اسے اس جگہ امید کی نظر آتی ہے کہ معاف کرنے والا وہی اکیلا ہے۔ جس کے یہاں کسی کی سفارش چلتی ہے۔نہ کسی کی بات سنی جاتی ہے جب تک اس کی اجازت نہ ہواوروہ اس بات کو سننا پسند کرے؟ چونکہ اس نے فوراً توبہ کرلی تو دل میں کچھ تسلی پیدا ہوتی ہے اور امید جاگ جاتی ہے کے وہ رحیم بھی ہے وہ غفار بھی ہے اور وہ اپنے بندوں پر ان کی ماؤں سے بھی ستر گنا زیادہ مہربان ہے۔ یہاں میں صرف سورہ طہ کی آیات نمبر 105 سے 112تک دیکھ نے کی سفارش کرتا ہوں۔جس میں مومن کی دو قسمیں بتائی ہیں کہ “جس نے اپنے اوپر ظلم لاد لیا وہ تو کسی محاسبے بچ نہیں سکتا نہ کوئی اسےا سکتا ہے؟ البتہ جس نے نیک کام کیئے اسے اس دن کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ” لہذا آپ خود کو ہمیشہ ان میں شامل رکھیں جنہیں کوئی کھٹکا نہ ہو اگر غلطی ہوگئی ہو تو توبہ کرنے میں دیر نہ کریں ممکن ہے کہ وہ لکھی نہ گئی ہواور اس کے حکم سے مٹادی جائے؟ یا آپ اس کے توڑکے لئے جلدی سے کوئی نیکی کرڈالیں جس کا معاوضہ دس گنا تو ہے ہی مگر وہ بے نیاز بھی آپ کی پریشانی کو دیکھ ثواب بے حساب بھی کرسکتا ہے؟ یہاں رہنمائی کے لئے حضور ﷺ کی وہ حدیث ہمت افزائی کرے گی کہ مومن زندگی بھربرائی کرتا رہتا ہے اور آخری میں کوئی ایسا کام کر جاتا ہے کہ سارے گناہ وہ معاف کردیتا ہے۔ لیکن ان چند کاموں سے ہمیشہ بچتے رہیئے۔ایک تو اس کا کسی کو شریک نہ بنا ئیے۔ کسی کے حقوق پامال نہ کیجئے،کیونکہ یہ توبہ سے معاف ہونگے جبتک کہ وہ خود معاف نہ کرے اور تیسرے ریاکاری سے بچئے کہ وہ اچھے اعمال کی شیطان سے بھی زیادہ دشمن ہے؟ جبکہ ہم اس کے بری طرح عادی ہیں؟ نیکی کم اور مشہوری زیادہ اگر ہمارا روزہ ہے تو جس راستے سے بھی گزریں گے یہ ہی کہتے ہو ئے گزریں گے کے میرا روزہ ہے جبکہ اس کے اظہار کا اسوقت حکم ہے جبکہ وہ آپ کے ساتھ زیادتی کررہا ہے تو کہہ سکتے ہیں کہ میں تجھے منہ توڑ جواب دیتا لیکن میرا روزہ ہے میں اسے خڑاب نہیں کرنا چاہتا؟ ہمارے یہاں رمضان آنے پرہر ایک سال بجائے بڑھا ہوا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرنےکے اس کو زائل کرنی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔اس میں پہلی حرکت توذخیرہ اندوزی ہے اس کا نتیجہ گراں فروشی ہے؟ ملاوٹ ہے۔ لوگ وقت پر دفتر نہیں پہنچتے ہیں اور اس پر احسان جتاتے ہیں کہتے ہیں کہ میرا روزہ ہے، پھر کہتے ہیں کہ میرا خیال کرو میرے بھی بال بچے ہیں کام تو ہوجائیگا مگر رقم زیادہ خرچ ہوگی؟ اس طرح اپنے پورے مہینے کی کمائی حرام کر لیتے ہیں۔ اس سے بچوں کے کپڑے جوتے خریدے جاتے ہیں، اور فخر کے ساتھ کہتے کہ ہمارا ملک سب سے زیادہ خیرات دینے والا ملک ہے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ حرام مال کی کوئی چیز قبول نہیں فرماتا؟ حضور ﷺفرماتے ہیں کہ ریاکاری کی نماز۔نماز نہیں، ریاکاری کا روزہ، روزہ نہیں ایسے میں رمضان آتے ہیں اور گزرجاتے ہیں۔ اس مرتبہ تو جانے وہاں کیا بیتی ہوگی جبکہ ہر سال بہت کچھ ہوتا تھا مگر اس سال تو اس سے کہیں زیادہ ہوا ہوگا کہ کوئی حکومت ہی موجود نہیں تھی کسی کا ڈر ہی نہیں تھا۔ حزب ِ اختلاف عوام پر سے مہنگائی کابوجھ ہلکاکر رہی تھی مگر وہ آسامان کو چھو رہی تھی؟بے حسی کاعالم یہ تھا کہ شادی ہال میں پاپڑ فروش کی لاش سامنے پڑی ہوئی تھی کھانے والے کھانے پر ٹوٹے پڑرہے تھے۔میں اپنے اس مضمون کو مندرجہ ذیل قطعہ پر ختم کرتاہوں ہوع
شمس عید ان کی ہے اللہ سے ہرقدم پر ڈرتے ہیں
حکم ِ ربی پہ جان دیتے،حکم ِ ربی پہ کان دھرتے ہیں
اللہ تعالیٰ انہیں نوازیں ہیں دین کا کام کرتے ہیں
ان کا جنت میں داخلہ پکا، فرشتے سلام کرتے ہیں













