صحیح سمت میں پہلا مثبت قدم ۔۔۔ شمس جیلانی

0
149

جب پاکستان کی تخلیق ہوئی تو اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ایک سپر پاور کی گود میں چلا جا ئے۔ اس لیئے کہ ایک نوزائدہ مملکت کوبے انتہا مسائل درپیش ہوتے ہیں اور وہ اسے درپیش تھے۔ حالانکہ دوسری ہمسایہ سپر پاور نے بھی اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم کو دورے کی دعوت دی تھی جو گرم جوشی سے خالی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اسوقت دنیا کے حالات کچھ اور تھے کہ دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی ایک سرمایہ دارانہ نظام کے حامیوں کا گروپ دوسرا کمیون ازم کے حامیوں کا گروپ ۔ جبکہ پاکستان بنا ہی اسلام کے نام پر تھا جوکہ دین ہونے کی وجہ سے خود اپنا معاشی نظام رکھتا ہے۔ جبکہ ابھی اسرائیل نے ملک کا روپ نہیں دھارا تھا جو مذہب کے نام پر بننے ولا دوسرا ملک تھا وہ ایک سال کے بعد عالم وجود میں آیا۔ جبکہ دنیا کی سیاست پلٹا کھا چکی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ اب فوجی امپیرل ازم کی جگہ مالی شہنشاہیت نے لے لی تھی؟ جس میں ایک اسلامی ریاست کہیں فٹ نہیں ہوتی تھی۔ اس کے لیے کوئی جگہ دونوں کے یہاں نہیں تھی ایک پاور کیپٹل ازم کی حامی تھی تو دوسری کمیون ازم کی ۔ کیونکہ یہ ایک تیسرے ہی نظام کا داعی ہے جودونوں کے لیے آگے چل کر خطرہ بن سکتا تھا۔ جبکہ شروع سے ہندو ستان سے کشیدگی اسے آزادی کے ساتھ ہی ورثہ میں ملی تھی ۔ جبکہ ہندوستان نے ہمسایہ سوپر پاور کے نظام کو اپنے منشور میں شامل کر رکھا تھا۔

پنڈت جواہر لال نہرو کانگریس کے اندر کا مریڈ گروپ کے لیڈر تھے۔اور وہ اپنے دور طالب علمی سے ہی کمیونزم کی کا تمام نفرنسوں میں با قاعدگی شامل ہو تے تھے اور متحدہ ہندوستان میں لیبر یونین کے جنرل سکریٹری بھی تھے ؟ دوسری طرف اپنے والد کے دباؤ بنا پر انہیں کانگریس کی قیاد ت سنبھالنی پڑی؟ یہ وہ صورت حال تھی جو اس وقت پاکستان کی قیادت کے سامنے تھی ۔ نتیجہ یہ تھا کہ پاکستان کو نہ کھلے دل سے اس طرف سےریڈ کارپٹ ویلکم مل رہا تھا نہ اس طرف سے ،ادھر انڈیا کی پالیسی شروع سے یہ تھی کہ “ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں “ انہوں نے نام نہاد غیر جانبداری کی پالیسی اپنائی اور دونوں طرف سے فائدہ اٹھایا ؟ اور ااس کی بنا پرنہوں نے دونوں گروپوں میں اس نوزائیدہ مملکت کو گھسنے نہیں دیا اور ہر جگہ راستہ روکا۔ حتیٰ کمیونزم ناکام ہوا اور دنیا کی سیاست نے ایک مرتبہ پھر پلٹا کھایا اور روس نے افغانستان میں داخل ہو کر ایک عظیم غلطی کی جس نے ساری دنیا کی رائے عامہ اس کے خلاف کردی اور ہرایک اس سے خطرہ محسوس کرنے لگا؟ جبکہ پاکستان کی اس خطہ میں اپنےمحل ِ وقوعہ کی بنا پر اہمیت بہت بڑھ گئی امریکہ کو اسے پوری طرح اپنے ساتھ لینا پڑا یہ ہی وجہ تھی کہ اس نے اٹیمی طاقت بننے دیا۔ نتیجہ کے طور پر روس اپنا وہ وہ اثر اور رسوخ کھوبیٹھا جو اسے دنیا میں حاصل تھا۔ اب میدان خالی تھا کہ چین جنگ سے خود کودور رکھے۔ اور مالی طور پر خود کو مستحکم بنائےاورامپیریل ازم کو زیر کر نے میں کامیاب ہوگیا۔ اور ساری دنیا کی مارکیٹ ڈالر اسٹور کے بتھا دی اور صنعتی ملکوں میں بھی اپنی جگہ بنالی اب مسئلہ قیمٹوں کو مزید کم کرنے کا اس کے لیے اسے صرف غرم پانیوں راستہ چاہیئے تھا لہذا اس کی وجہ سے پ کستان بڑی ہمیت ملی۔ جس طرح پاکستان نے آزادی خدا کی نصرت سے حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افغان خانہ جنگی کی وجہ سے قدرت نے اہمیت عطا کی اب اسطرح موجودہ دور میں ۔ اسی چائنا کی دوستی کی وجہ سے اس خطہ میں اور بھی زیادہ اہمیت مل گئی۔ جبکہ اس سے پہلے پاکستان سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال بیٹھا تھا؟ ایک ایجنٹ کا خلیفہ بن گیا تھا۔

حالیہ علاقائی اقتصادی کانفرنس اسلام آباد منعقد کرناایک مثبت قدم ہے جس سے دنیا کو یہ پیغام جا ئےگا کہ وہ اب آزاد راستہ اختیار کر رہا ہے اور ملک کو اس جگہ پر لے آیا ہے کہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے کہ صرف چائنا ہی نہیں تمام دنیا وہاں جاکر سرمایہ کاری کر نا چا ہے گی۔کیونکہ کمیونسٹ ملکوں میں چائنا اور اسلامی ملکوں ایران بتدرج آگے بڑھ رہا ہے؟ جبکہ امریکن یہ سوچنے لگے ہیں کہ ہم ہیوی ٹیکس ان فضول خانہ جنگیوں میں کیوں خرچ کر رہے ہیں ؟حالیہ الیکش میں “ امریکہ فار امریکنز “کا نعرہ کامیاب ہوا۔ یہ با کل ایسا ہی جیسا کہ دنیا میں اس اسوقت کی سپر پاور “ترکی “ میں کمال اتاترک یہ نعرہ ایجاد کر کے کامیاب ہوا تار تار ہو ئی تھی ۔ کیونکہ جب امریکہ صرف برئے امریکن رہ جا ئے گا تو دنیا سے کٹ اکیلا ہو جا ئے گاتب اس باات کا بڑا امکان کہ اس کی جگہ چائنا لے لے؟ اس لیے کہ قوموں کو الٹتا پلٹا رہتا ہے؟ اس طرح پاکستان کو اس نے ایک موقعہ پھر عطا کیا ہے؟ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ڈیڈ ہارس کا خلیفہ بنا رہے یا نئی ابھرتی قیادتوں سے فائیدہ اٹھا ئے؟

اس کانسفرنس نے میں اچھی بات یہ ہے کہ یہ باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی ہے؟ تاکہ رکن ممالک میں آپس میں معاشی تعاون بڑھا یا جائے ؟ ایسا ہی پاکستان کو اس وقت بھی موقعہ ملا تھا۔ جب پاکستان دو تکڑے ہو گیا تھا اور بھٹو (رح) نے دنیائے اسلام کی ہمدردیاں کام میں لا تے ہو ئے۔ صرف ان سے معاشی تعاون مانگا سب نے دل کھول کر دیا ۔ قوم کو موقع ملا کہ وہ چھاجا ئے۔ لیکن قوم اپنا معیار ِ دیانت قائم نہ رکھ سکی جس کی وجہ سے جو مارکیٹ ہمدری کی بنا پر حاصل ہو ئی تھی معاملت میں پاکیزگی نہ ہو نے کی وجہ سے آہستہ آہستہ نکلتی چلی گئی ۔ کیونکہ کاروبار میں اگر ساکھ نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے ۔ جن قوموں نے اپنی ساکھ بنا ئی وہ قومیں دنیا میں ہمیشہ اچھی نظر سے دیکھی جاتی ہیں جنہوں نے ساکھ کھوئی وہ ناکام ہیں۔یہ مسلمان ہی تھے جنہوں کاروباری ساکھ کی بنا پر پورا مشرق ِ بعید بغیر تلوار کے فتح کیا ۔ اورجیسے جیسے ان کی یہ خوبی گھٹتی گئی ؟ان کی سلظنت کو بھی زوال آگیا؟ س برائی کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے پاکستانی لیڈرشپ اپنے کردار کو بلند کرے پھر عوم سے کہیں کہ اب تم بھی اپنے کردار بہتر کرو؟ اس کے لیئے ہمارے نزدیک قر آن کی ایک سورت کافی ہو سکتی ہے۔ وہ ہے سورہ “العصر“ جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وقت کی قسم کھا کر فر ما یا ہے کہ وہ سارے کہ سارے لوگ خسارے میں ہیں۔ جنہوں نے۔ اس سورة کے مطابق دنیا کو نہیں برتا؟ وہ تعلیمات کیا ہیں؟ سب سے پہلے ایمان لانا ۔ اس کے بعد قرآنی تعلیمات پر عمل کرنااور اس کے بعد دوسروں کو تلقین کرنا۔ اس پر عمل کر کے تو دیکھئے کہ اللہ کی نصرت کس طرح پاکستان کا احاطہ کرتی ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (امین)

SHARE

LEAVE A REPLY