مسلہ کشمیر سے منسلک ریاست جموں کشمیر کی سب سے بڑی اکائی گلگت بلتستان میں جہاں فکری، معاشی،اقتصادی،تعلیمی اور افراسٹکچر کی بدحالی اور خالصہ کے نام پر عوامی املاک پر سرکاری قبضہ ایک سنگین مسلہ ہے وہیں قومی شناخت کا سوال اس خطے کی نئی نسل کے ذہنوں میں طوفان بن کر اُبھر رہا ہے جوکہ مسلسل نظر انداز کی صورت میں لاوا بن کر پھٹ بھی سکتا ہے ۔ مگر بدقسمتی سےایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کیلئے گلگت بلتستان کا قومی سوال ایک طرح سے نان ایشو کی جسے ہر بار دیوار سے لگادیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام جب بھی اس خطے کو مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں مسلہ کشمیر اور اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قرادادوں کا عذر پیش کیا جاتا ہے اور جب مسلہ کشمیر کی بنیاد پر حقوق کا مطالبہ کریں تو اس مطالبے کو ایک طرح غداری جیسے سنگین الزامات کے زمرے میں ڈال کر عوام کو خاموش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسکے زیر عتاب لوگوں کی اس وقت گلگت بلتستان میں ایک طویل فہرست موجود ہے۔
گلگت بلتستان کے 22 لاکھ عوام کی قانون شہریت کے حوالے سے جب یہاں کے قومی لیڈران اور مسلہ کشمیر اور پاکستان کا کشمیر کازکے حوالے سے ریاستی بیانئے پر گہری نظر رکھنے والے اہل قلم اور اہل علم کہتے ہیں کہ قانونی طور پر گلگت بلتستان کے باشندے انقلاب گلگت کی ناکامی یا اُس انقلاب کو ناکام بنانے کی سازشوں کے بعد 16 نومبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان کے زیر اتنظام متنازعہ خطہ ہے ۔لہذا جب تک رائے شماری نہیں ہوتے شہریت کا فیصلہ ہونا ممکن نہیں ۔البتہ گلگت بلتستان کے عوام ریاست جموں کشمیر کے قانونی شہری ضرور ہیں جسے ریاست پاکستان ،ہندوستان اور اقوام متحدہ بھی تسلیم کرتے ہیں اور دفتر خارجہ کے ترجمان بھی کئی بار اس بات کا برملا اظہار کرچُکیہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کا حصہ ہے اور اس خطے کی قسمت کا فیصلہ بھی رائے شماری کے ذریعے ہی ہوگا۔ یہی بیانیہ پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے ماضی سے لیکر آج تک کے مختلف پارٹیوں کے اہم قائدین اور وزراء کا بھی ہے جنکا گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے بیانات ریکارڈ کا حصہ ہے ۔
لیکن جب ہم گلگت بلتستان میں اندرونی طور پر دیکھتےصورت مختلف نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک پارٹی کا وزیر اسلام آباد میں کھڑا ہوکر کہتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ اور مسلہ کشمیر کا اہم جزو ہے لیکن وہی وزیر گلگت بلتستان پہنچ کر گلے پھاڑ پھاڑ کر گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور دینے جیسے اعلانات کرتے ہیں اور ان اعلانات کو تقویت پہنچانے کیلئے مذہبی شخصیات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یوں معاشرے میں جب کوئی حقوق کی بات کریں توسیاسی مُلاوں کے تربیت یافتہ افراد ہمیشہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بنیاد پر قانونی شہریت کا دلیل پیش کرتے ہیں ۔لیکن اُس شناختی کارڈ کی بنیاد پر ووٹ کا حق حاصل نہیں ۔ ویسے توگلگت بلتستان آرڈر 2018/19 کے تحت خطے میں آئین پاکستان کے تحت سٹیزن ایکٹ 1951 لاگو کردیا ہے ۔ دوسری طرف سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 17 جنوری کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق درخواستوں پر فیصلے میں گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جس کے تحت کشمیر پر رائے شماری تک گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت اپنے زیر انتظام علاقوں کو زیادہ سے زیادہ حقوق دینے کے پابند ہیں۔یوں سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم نامے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جن اقراداد کی بنیاد پر آذاد کشمیر کو اختیارات منتقل کی گئی ہے اُسی طرز پر گلگت بلتستان کو بھی آذاد کشمیر سے قدرے بہتر نظام دیں جس سے نہ ہی مسلہ کشمیر پر منفی اثر پڑ سکتا تھا اور ساتھ ہی گلگت بلتستا ن کے عوام کی جانب سے قومی شناخت کے سوال کا بھی مسلہ حل ہوتا جاتا لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی حکمرانوں کا گلگت بلتستان کے حوالے سے مخلصانہ کردار نظر نہیں آیا ۔
اس وقت گلگت بلتستان میں قومی شناخت کا سوال زور پکڑ رہا ہے اور قومی شناخت د نیا کے کسی قوم کا بنیادی حق ہے لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں قومی سوال کا جواب دلیل سے نہیں طاقت کے بل بوتے پر دی جاتی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے عوام کی قانونی شہریت کے حوالے سے جہاںریاست کنفوز نظر آتا ہے وہیں گلگت بلتستان کے عوام اس حوالے سے بہت ذیادہ تذبذب کے شکارہیں جسکا اظہار گلگت بلتستان کے باشندے سوشل میڈیا پر صبح شام کرتے نظر آتا ہے۔ قومی شناخت کی اولین شرط شناختی پہچان ہے جسے شناختی کارڈ کہتے ہیں۔ پاکستان میں مقیم بنگلہ دیش کے مہاجر بنگالی اور افغان مہاجرین افغانی اور آذاد کشمیر کے شہری کشمیری پہچان کے ساتھ شناختی کارڈ رکھتے ہیں لیکن گلگت بلتستان والوں کاشناختی کارڈ کی بنیاد پر قومی پہچان واضح نہیں جسکا واضح ثبوت نیچے ملاحظہ فرمائے۔
محترم قارئین پاکستان کے چار صوبے اور چاروں صوبوں کے نظام اور عوام کو آئین پاکستان کی تحفظ حاصل ہے لیکن جب گلگت بلتستان والے یہی مطالبہ کرتے ہیں یہاں عوام کے سامنے مسلہ کشمیر اور اس حوالے سے موجود اقوام متحدہ کی قرادادیں رکھ کر یہ کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے لہذا ایسا ممکن نہیں۔مگر گلگت بلتستان کے شہری متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر بھی حقوق سے محروم ہیں جس کی واضح مثال گلگت بلتستان میں ریاست جموں کشمیر کی دیگر اکائیوں سے ہٹ کر قانون باشندہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی سنگین خلاف ورزیاں اور دوسری طرف دفتر خارجہ کی جانب سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی موجودگی کا بارہا اعلان ہے۔
محترم قارئیں گلگت بلتستان کے عوام کی شہریت کے حوالے سے تازہ انکشاف یہ ہوا ہے نادرہ کے ڈیٹا بیس میں گلگت بلتستان کے شہریوں کےپاس پاکستانی شناختی کارڈ ہونے کے باوجود پاکستانی شہریت کی نفی کرتا ہے اور نہ ہی گلگت بلتستان کے شہریوں کو ریاست جموں کا شہری ظاہر کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ماتحت نادرہ میں جب گلگت بلتستان کاکوئی شہری شناختی کارڈ بنانے جاتے ہیں تو اُن سے تمام تر معلومات حاصل کرنے کے بعد فارم کا پرنٹ نکال کر تصدیق اور دستخط کرنے کیلئے کہا جاتا ہے اُس فارم کے شق نمبر29 کے مطابق گلگت بلتستان کے شہری آذاد جموں کشمیر کا باشندہ نہیں کہلاتے جبکہ اُس سے نیچے ایک اور شق نمبر34 میں سوال ہے کہ کیا آپ نے پاکستانی شہریت حاصل کی ہے؟ جسکا جواب خودکار طریقے سے( نہیں) میں درج ہوتا ہے ۔
یوں گلگت بلتستان کے شہریوں کو نہ ہی ریاست جموں کشمیر کےشہری کی حیثیت سے کارڈ دی ہوئی ہے اور نہ ہی پاکستانی شہری ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ایسے میں اقوام متحدہ کے قراداد 13 اگست 1948 جس کے مطابق گلگت اور مظفر آباد کو الگ شناخت ظاہر کرکے لوکل اتھارٹی دینے کا مطالبہ ہے اُس پر عمل درآمد وقت کا تقاضا ہے۔کیونکہ آج اکہتر سالہ بعد گلگت بلتستان کے شہریوں کی شہریت واضح نہ ہونا اور نہ ہی مسلہ کشمیر کے حوالے سے موجود UNCIP کے قراداد پر عمل درآمد ہونا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ سوشل میڈیا کےاس تیز ترین دور میں اس طرح کے اہم اور سنجیدہ معاملات کو نظر انداز کرنا نہ صرف کشمیر کاز کو نقصان پونچا سکتا ہے بلکہ ریاست پاکستان کے بھی حق میں نہیں جہاں آئینی حدود میں موجود بلوچستان اور پشتون پہلے ہی سر اُٹھا رہا ہے۔
لہذا ارباب اختیار کو چاہئے کہ جس طرح وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کے قراداد پر عمل کرنے پر زور دیا جارہا ہے بلکل اسی طرح اُسی قراداد میں گلگت بلتستان کے حوالے سے درج مندرجات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں کیونکہ جس قراداد کی بنیاد پر مسلہ کشمیر نے حل ہونا ہے اُس قراداد کے مطابق پہل پاکستان نے کرنا ہے اور اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق مسلہ کشمیر کی حل کیلئے گلگت بلتستان کو قانونی شناخت دینا وقت اہم ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ حالیہ کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان عبوری آئینی جیسے مخملی نعروں اور مطالبات مکمل طور پر دم توڑ چُکی ہے لہذا اقوام متحدہ کے 13 اگست 1948 کے قراداد پر عمل درآمد کا مطالبہ مراعات یافتہ طبقے کے علاوہ گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈر کا متفقہ مطالبہ ہے ۔ کیونکہ آج گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے نوجوان اس وقت بین الاقوامی سطح پر بڑے بڑے عالمی نشریاتی اداروں کے رابطے میں نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے آج گلگت بلتستان کا اصل قومی ایشو کیا ہے ہر گھر کر پہنچ چُکی ہے لہذا گلگت بلتستان کے مبہم شناخت کو ختم کرکے مسلہ کشمیر کی حل کے حوالے سے ریاست پاکستان کے ریاستی بیانئے کو سامنے رکھ کر گلگت بلتستان کے عوام کو قومی پہچان دیکر اس خطے کو دور جدیدسے استور کرنے کیلئے یہاں صنعتیں قائم کرنے بیرروگازی کے طوفان کو بھی کنٹرول کرنے ضرورت ہے جسکا فائدہ براہ راست مملکت پاکستان کو ہی ہوگا اور گلگت بلتستان کے عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے۔
شیر علی انجم













