ایران نے اپنے شہریوں کی حج میں شرکت کے معاملے پر سعودی عرب کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کا عندیہ دے دیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات اور سیکیورٹی اقدامات پر اتفاق نہ ہونے کے سبب ایرانی شہری حج کا مقدس فریضہ سرانجام نہیں دے پائے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے امور حج میں ایرانی سپریم لیڈر سید علی آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے الغازی عسکر کے حوالے سے لکھا کہ ‘اگر بقیہ چند معاملات بھی حل ہوجاتے ہیں تو امید ہے جلد ہی ایرانی شہریوں کو سعودی عرب روانہ کیا جاسکے گا’۔

خیال رہے کہ فروری میں ایرانی وفد کی سعودیہ روانگی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ تین دہائیوں کے دوران 2016 وہ پہلا سال تھا جب ایرانی شہریوں کو حج کا حصہ بننے سے روکا گیا، اس پابندی میں اہم رکاوٹ 2015 میں حج کے دوران منیٰ میں ہونے والے بھگدڑ کے واقعے میں جاں بحق ایرانی عازمین حج کی سیکیورٹی کی ضمانت نہ ہو پانا تھا۔

ایران کا کہنا تھا کہ اس افسوس ناک حادثے میں 464 ایرانی حجاج جاں بحق ہوئے تھے۔

ایران نے اس سانحے کی ذمہ داری حج کے منتظمین پر عائد کرتے ہوئے ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے تھے اور 2016 میں ہونے والے حج میں اپنے شہریوں کو بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY