اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت

0
163
Pakistani paramilitary soldiers leave from the high court after the case hearing of former military ruler Pervez Musharraf in Islamabad on April 18, 2013. A Pakistani court on Thursday ordered the arrest of former military ruler Pervez Musharraf for his controversial decision to dismiss judges when he imposed emergency rule in 2007, officials said. AFP PHOTO/Farooq NAEEMFAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے اور ذمہ داروں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دے دیا، ساتھ ہی کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سے پیش رفت پر کل تک رپورٹ طلب کرلی، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ آج ہی ایکشن کریں، کل عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

عدالت عالیہ نے گستاخانہ مواد کے ذمہ داروں کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی حکم دے دیا جبکہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ اس طرح کے میڈیا کو فلٹر کرنا ممکن ہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ نہیں کرسکتے تو گھر جائیں، سنگین مسئلہ ہے اور ریاست سو رہی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے واضح طور پر حکم دیا کہ ایمان پر حملہ کرنیوالے دہشتگردوں کو عبرت کا نشان بنادیں۔

کیس کی سماعت سے قبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیمبر میں فریقین کو بریفنگ دی گئی، اس موقع پر سیکریٹری داخلہ عارف خان، آئی جی اسلام آباد طارق مسعود، چیئرمین پی ٹی اے، ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے بھی عدالت میں موجود تھے۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے آج وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔

کیس کی سماعت کے موقع پر عدالت عالیہ کی سیکیورٹی بھی سخت کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کو داخلے سے روک دیا گیا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ کی چھت اور قریبی عمارتوں پر ایف سی کے کمانڈوز تعینات کردیئے گئے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY