خاک کا سانچہ ۔ جسٹن سنو

0
1290

وہ اپنے ہاتھ پیچھے کی طرف کیے کمر پر باندھے ، کمر خم کیے ، سر جھکائے ، اُن کے قدموں کیطرف سُرخ پتھر ہو چکے آنکھوں سے دیکھے رہا تھا ۔ ۔ ۔ سامنے وہ تھی ۔ ۔ ۔ جو پوری دنیا میں شاید اس کا واحد تعلق تھا ۔ ۔ ۔ اپنا رُخ دوسری طرف کیے ہوئے پلکوں کو سنگ کر کر کے ۔ ۔ ۔ دل سے آنے والے خون کو رُخساروں پر رقص کرنے سے ۔ ۔ ۔ روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔ ۔ ۔
وہ اس وقت یہ دیکھ کر محسوس کیسا رہا تھا ۔ ۔ ۔ یا کر بھی رہا تھا کہ نہیں ۔ ۔ ۔ درد کے پہاڑ احساس کو پیس کر روند کر اپنے تلے دبا جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ پھر بس خاک کا ایک بنجر ٹوٹا پھوٹا سا سانچہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ بنا کسی احساس و حِس کے ۔ ۔ ۔ وہ سانچہ جیسے خدا نے بنانے کے بعد بنا احساس کے چھوڑ دیا تھا ۔ ۔ ۔ اور شیطان اس کے اندر کھیلتا رہا تھا ۔ ۔ ۔ پھر اس میں خدا نے احساس پھونک دیا ۔ ۔ ۔
تو وہ کیسا محسوس کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ یہ بس وہی جانتا تھا جس نے احساس جیسے جہنم کو خلق کیا تھا ۔ ۔ ۔ جس نے ایک خاک کے پتلے کو احساس کی مُستقل اذیت بخشی تھی ۔ ۔ ۔ بس وہی تو جانتا تھا ۔ ۔ ۔ کہ وہ اس وقت ایک خاک کا ایک بنجر سانچہ تھا ۔ ۔ ۔ اور انسان کب سانچہ بنتا ہے ۔ ۔ ۔ جب اس کے اندر احساس موت کی ہچکی لینے لگے ۔ ۔ ۔

بس خدا ہی جانتا تھا کہ وہ کیا ہو چکا تھا ۔ ۔ ۔ وہ اس عورت کے دل سے نکل چکے خون کی موجوں کی طاقت ناپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ پلکوں کی قوت بھی ناپ رہا تھا ۔ ۔ ۔ کہ یہ خون آور موج ۔ ۔ ۔ پلکوں کی روکے رکھنے کی قوت سے کب تک رُکی رہے گی ۔ ۔ ۔ کب تک پلکوں کے بندھ موجِ خونِ دل کو روک پائیں گے ۔ ۔ ۔ پلکوں کے بندھ محبت کی تابناک زنجیروں سے باندھے گئے تھے ۔ ۔ ۔ جو بنا کسی باب و پردے کے عرشِ الہیٰ سے جُڑے تھے ۔ ۔ ۔ جبکہ دل سے نکلے خون کی موج کو شیطان رُخساروں کے عُریاں میدانوں کی طرف لے جارہے تھے ۔ ۔ ۔
کیسا محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ جب ساری زمین پر ۔ ۔ ۔ آپ کا ایک ہی اپنا ہو ۔ ۔ ۔ جو آپ کے دل کی تسلی و آس و یاس و اُمید ہے ۔ ۔ ۔ وہ اپنا کہ آپ کے رُخسار بارش کا دل کی بارش کا شکار ہونے کے بعد اُس کی انگلیوں کے رومال کیلئے تڑپتے ہیں ۔ ۔ ۔ دنیا کی گردشوں سے آپ کی ٹوٹ چکی کمر سہارے کیلئے اُس کے ہاتھ کی لاٹھی کی طرف دیکھتی ہے ۔ ۔ ۔ زبان کے زہر سے ڈسا گیا پگھل رہا دل اسکے سینے کے لِمس کی چاہ کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ سارے دن کا تھکا ٹوٹا ستایا گیا جب رات کو گِر پڑے تو گردآلود بالوں میں ہاتھ آہستہ آہستہ گُھما کر محبت و اپنائیت کے دائرے بناتے ہوئے اپنے ہونٹ بار بار پیشانی پر رکھتے ہوئے آنکھوں سے پیار کے بے رنگ موتیوں کے گراؤ کے جھنکار سے ایجاد ہوتی لوری سے میٹھی نیند کا تحفہ عطا کرے ۔ ۔ ۔
ایسا شخص ۔ ۔ ۔ آپ سے خفا ہو جائے ۔ ۔ ۔ آپ کی وجہ سے اُس کی آنکھیں اشکبار ہو جائیں ۔ ۔ ۔ آپ کے رُخساروں کو صاف کرنے والے کے رُخسار آپ کی وجہ سے بھیگ جائیں ۔ ۔ ۔ جن آنکھوں سے روشنی لے کر آپ دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ آنکھیں پھیر جائیں ۔ ۔ ۔ جس کی آواز سکون سے محروم دل کی راحت کا سامان ہو ۔ ۔ ۔ وہ جس کے لبوں کے ملنے جلنے کی آواز دل کی دھڑکن قاءم رکھے ہوئے ہو ۔ ۔ ۔ وہ زبان رک جائے وہ لب ملنا جلنا بند کر دیں ۔ ۔ ۔ وہ رُخ جس کا دیکھنا اذیت پر مرہم ہو ۔ ۔ ۔ وہ پھیر جائے ۔ ۔ ۔
تو کیسا محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔
کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔
سانچے کو کیا محسوس ہو گا ۔ ۔ ۔
آنسو کا ایک قطرہ احساس کی ہڈیاں پیس دے ۔ ۔ ۔ تو محسوس کیسے ہو گا ۔ ۔ ۔
خاک کے سانچے کو کیا محسوس ہو گا بھلا ۔ ۔ ۔
رُک گیا آنکھ سے بہتا ہوا ، دریا کیسے ۔ ۔ ۔ ؟
غم کا طوفاں تو بہت تیز تھا ، ٹھہرا کیسے ۔ ۔ ۔ ؟

جسٹن سنو…

انتخاب….

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY