ریڈیو پاکستان کے پنشنرز خود سوزی کریں یا خود کشی؟

0
1220

پاکستان میں بے حسی اپنے عروج پر ہے۔ ریڈیو پاکستان سمیت متعدد محکموں کے پنشنرز کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ عشروں تک اپنی جوانیاں اداروں کو دینے والے ان پنشنرز کا کوئی پرسان حال نہیں اور اب یہ لوگ ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ پارلیمنٹ کے سامنے خود کشی کریں یا خود سوزی

اس سارے معاملے میں ریڈیو پاکستان کے سربراہ طاہر حسن،وزارت اطلاعات اور وزارت خزانہ کا کردار انتہائی منفی اور بے حسی کا ہے

تازہ ترین ایک خط اب منظر عام پر آیا ہے جس میں ڈی جی ریڈیو،وزارت اور وزارت خزانہ نے پنشنرز کو پنشن دینے سے معذوری کا اظہار کیا ہے، حیرت ہے کہ حکومت،اطلاعات کی وزیر اور ملکی کی عدلیہ خاموش تماشائی ہے

ریڈیو پاکستان کے ایک ریٹائرڈ ڈائریکٹر نیوز عبدالہادی مائیر کا کہنا ہے کہ نانس ڈویژن نے پنشن/ کمیوٹیشن کے بارے میں حالیہ اقدام وزارت اطلاعات کی ملی بھگت سے اٹھایا ھے۔ یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ھوتا کہ فنانس ڈویژن نے اتنا بڑا اقدام لیا اور وزارت اطلاعات سے پوچھا تک نہیں۔ ریڈیو پاکستان کے سارے فیصلے تو وزارت اطلاعات کی منظوری کے بعد اٹھائے گئے ھیں۔

ریڈیو کے ڈائرکٹروں کے ھاتھ میں بھی اتنے بڑے فیصلوں کے اختیارات کبھی نہیں رھے۔ اب جب منسٹری کے ان بابووں کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے ادارہ تباہ ھونے کو ھے تو انفارمیشن والے تو ملازمین کو ھی قصور وار ٹھرا رھے ھیں اور انہیں گلے کی ھڈی سمجھ کر جان چھڑانا چاھتے ھیں۔

یہ بات اب مسلسل ثابت ھو رھی ھے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے بابو ریڈیو ملازمین اور پنشنرز کو ادارے سے بے دخل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ھیں۔ ھر مہینے کی پنشن کے لئے وفاقی محتسب کا چکر لگانا تو اب معمول بن گیا ھے۔ سمجھنے کی بات ھے کہ چند مہینوں سے پنشن اچانک کیسے غائب ھو گئی۔ ھمارا فنانس ڈویژن سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ انفارمیشن کے بابووں نے ھمارا کنٹرول ھمیشہ اپنے ھاتھ میں رکھا۔ دوسری طرف وہ خود ادارے کے وسائل کو دونوں ھاتھوں سے لوٹ رھے ھیں۔ ایک سکریپ ٹرانسمیٹر کو پچاس لاکھ میں اندر باہر کرنے کا واقعہ تو سب کے سامنے ھے۔ ریڈیو پاکستان کے ایک دو افسران کو اپنے ساتھ ملا کر ھر مہینے کسی نہ کسی بہانے لاکھوں لوٹے جاتے ھیں۔ اوپر سے کوشش یہ کی جارہی ہے کہ ریڈیو ملازمین اور پنشنرز کو مختلف طریقوں سے تقسیم کر دیا جائے۔

جب سے اسٹیبلشمنٹ ملکی امور سے کنارہ کش ھو گئی ھے بیوروکریسی نے نظام پر پنجے گھاڑنا شروع کر دیا ھے اور وسائل اور نظام پر قبضہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ھے۔ اس وقت بیوروکریسی جو کھیل کھیل رھی ھے اس سے ملک میں انارکی پھیل رھی ھے جس سے عام لوگ اور کمزور طبقات متاثر ھو رھے ھیں کیوں یہ قوتیں ملکی وسائل میں اپنا حصہ اور طاقت مضبوط کرنا چاہتے ھیں۔ ملک کا جو حال بنتا جا رھا ھے اس سے اس قسم کے استحصالی اقدامات بڑھیں گے۔

اگر ریڈیو پاکستان کے ملازمین اور پنشنرز نے اکٹھے ھو کر اور میدان میدان کوڈ کر مقابلہ نہ کیا تو چند مہینوں ھی میں ختم ھو جائیں گے۔ ھر محاذ پر اپنے حق کے لئے لڑنا ھوگا۔ تمام کام چھوڑ کر نکلنا ھوگا۔

SHARE

LEAVE A REPLY