سوال۔۔۔
اکثر ہم پوچھ لیتے ہیں۔۔۔
یہ کیا ہوا۔۔۔
وہ کیوں ہوا۔۔۔کس نے کیا۔۔۔کون ہو تم
۔۔
سوال۔۔۔تو۔۔۔دستک ہوتے ہیں۔۔۔روح اور قلب میں گمے ہوئے بہت سارے جزبوں پر سوال جب دستک بن کر لگتے ہیں ۔۔۔
تو روح اور قلب کی۔۔نہ جانے کونسی کیفیت ہوتی ہے جو ایک پردہ اٹھاتی ہے۔۔۔
پھر دوسرا۔۔۔
پھر تیسرا۔۔۔۔
اور پھر اٹھاتے اٹھاتے۔۔جب گہرائئ میں دیکھتی ہے۔۔۔
ان گنت پردوں کی تہوں میں چھپے ہوئے ان قیمتی اور بیش قیمت احساسات کو جب ٹٹولتی ہے۔۔۔۔
تو اکثر وہ دل وہ روح خود بھی حیران ہو جاتی ہے۔۔۔بالکل کسی ایسے اجنبی کیطرح جو شاید پہلی بار کسی سے ملا ہو۔۔۔
پہلی بار کسی سے بات کر رہا ہو۔۔۔دیکھ کر لگتا ہو کہ جیسے اپنی کوئی انمول سی شے ہم کہیں سنبھالکر بھول بیٹھے ہوں اور اچانک وہ ہمیں دکھائی دے جائے۔۔۔
ایک پرانہ ۔۔خوبصورت۔۔۔بیش قیمت احساس جو ایک نئے پن ایک نئی طاقت۔۔۔ایک نئے احساس کے ساتھ ہمیں مل جائے۔۔۔
جب وہ پرانے۔۔۔چھپے ہوئے۔۔
گمے ہوئے۔۔۔
خوبصورت سے۔۔۔بکھرے ہوئے احساس اپنی چاشنی سے روح و قلب میں مٹھاس بھر دیتے ہیں تو ان کی قوس قزح سے روح کی فزا سج سی جاتی ہے۔۔۔۔
کچھ پل کو سہی۔۔۔
کچھ دیر کیلئے۔۔۔
احساس کی روشنی۔۔۔۔
خوب چمک جاتی ہے۔۔۔
اور اس کچھ پل کی چمک میں۔۔۔
انسان اپنے وجود میں گم بہت سے خوبصورت جزبوں۔۔۔کی جھلک کو دیکھ پاتا ہے۔۔۔۔
اور پھر امہیں کہیں سنبھالکر۔۔
رکھکر۔۔۔بھول جاتا ہے۔۔۔
یہ بھولے ہوئے۔۔۔
سنبھالے ہوئے احساس بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔۔۔بہت انمول ہوتے ہیں۔۔۔ان کا یاد آنا انسان کو خود سے متعارف کرواتا ہے۔۔۔خود سے جوڑ دیتا ہے۔۔۔
اور یہی جوڑ توڑ انسان میں موجود انسان کو۔۔۔
معطر اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔۔۔ظاہری رنگ ماند پڑ بھی جائیں تب بھی۔۔۔انسان کے اصلی رنگ۔۔۔۔
اسکی اصل خوبصورتی۔۔۔
اسکے گمشدہ۔۔۔چھپے ہوئے۔۔۔گمے ہوئے احساس ہوتے ہیں۔۔۔
جو با معنی ہوتے ہیں۔۔۔اور روح و قلب کی اتھاہ گہرائیوں میں کہیں۔۔
چھپ سے جاتے ہیں۔۔۔
اور
اکثر یاد کرنے پر بھی۔۔۔
یاد نہیں آتے۔۔۔
مگر سوالوں کی وہ دستک۔۔۔
ان گہرائیوں سے نکال باہر لاتی ہے۔۔۔
جسطرح سمندر کی لہریں۔۔۔
سیپ میں چھپے موتیوں کو۔۔۔ساحل پر لا کر پھینک دیتی ہیں۔۔۔اور انکو ڈھونڈنے والے کی نگاہ۔۔۔ان سوالوں کی طرح دستک بن کر اس انمول موتی کے حصول کا زریعہ بن جاتی ہے۔۔۔۔
کبھی جو بیٹھیں خاموش تو
سوال کیجیے خود سے۔۔۔
ان سب عام سی باتوں کو کھوجیے۔۔۔جنہیں آپکو معلوم ہے کہ آپ جانتے ہیں۔۔۔مگر جب آپ کی قلب و روح کی تہوں کو ہٹا کر دیکھیں گے تو معلوم ہو گا کہ اصلی سچ وہ نہیں تھا جو آپکو لگتا تھا کہ آپ جانتے ہیں بلکہ
اصلی سچ تو گہرائیوں میں پڑا سو رہا تھا اسکو جگانے کے لیے سوال کیجیے۔۔۔۔
اور ان عام سی باتوں کے بہت خاص سے مطلب۔۔۔
مفہوم۔۔۔۔
اور رنگ جانیے اور سمجھیے۔۔۔۔
جنکو سمجھیں گے تو آپ خود سے خود کا تعارف کروا پائنگے۔۔۔
نہیں تو جھوٹی ۔۔۔نا مکمل حقیقتوں کو کو مکمل سچ سمجھ کر آپ جیتے چلے آرہے ہیں۔۔۔اور جیتے چلے جائنگے۔۔۔یہام تک کہ جواب پائے بنا ۔۔ہی۔۔۔
سمجھے بنا ہی۔۔اس جھاں کے مسافر ہو جائنگے جہاں آپکا اصلی سفر شروع ہوگا۔۔۔۔
اپنے اصلی سفر کو اور زاد راہ کو اصلی جوابوں کو پا نے کے ساتھ شروع کیجیے۔۔۔۔ورنہ ادھوری زندگی اور ادھوری موت کسی کام کی نہیں۔۔۔
فائزہ عباس













