چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ،وزیراعظم نواز شریف کو بھی عدالت بلایا جاسکتا ہے۔

0
178

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر مبینہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف جاری کیس کی روزانہ کی بنیاد پر جاری سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ اور چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالتی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ تمام عدلیہ اس معاملے پر ساتھ کھڑی ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس شوکت عزیز نے وزیراعظم کا حلف نامہ عدالت میں پڑھ کر سنایا اور ہدایت دی کہ وزیراعظم کو بھی یہ مواد دکھایا جائے۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اگر وزیراعظم نواز شریف کو بھی عدالت بلانا پڑا تو وہ ضرور بلائیں گے۔

عدالت نے دوران کارروائی سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بھی عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ دونوں سیکریٹری آدھے گھنٹے میں پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جائیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے کی نگرانی خود کریں اور اپنی نگرانی میں کمیٹی تشکیل دیں جس کی رپورٹ روزانہ عدالت میں پیش کی جائے۔

سیکرٹیری داخلہ کو اجلاس بلانے کی ہدایت دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ وہ چاہیں تو اس معاملے میں خفیہ اداروں کی معاونت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

عدالت نے چیئرمین پی ٹی اے کو گستاخانہ مواد ہٹانے اور اس کی اشاعت میں ملوث افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدمات کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔

میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ تمام میڈیا پر فحاشی اور عریانیت کا بازار گرم ہے اور فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کوئی اشتہار تک نہیں دیکھا جاسکتا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر قوم کی عزت اور ناموس کو بیچا جارہا ہے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت پیر (13مارچ) تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج کرلیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمے کے اندراج کا فیصلہ سیکریٹری داخلہ کی سربراہی میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور ایف آئی اے حکام کی طویل مشاورت کے بعد کیا گیا۔

تھانہ رمنا کے ایس ایچ او ارشاد ابڑو کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمے میں نامعلوم افراد کے خلاف توہین رسالت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے کی تفتیش پولیس اور ایف آئی اے مشترکہ طور پر کریں گے جبکہ تفتیشی عمل میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے بھی معاونت لی جائے گی۔

نامعلوم افراد کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بھینسا، موچی اور روشنی کے نام سے فیس بک پیجز چلائے جارہے ہیں جن پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی اور اس مواد سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔

دوسری جانب گستاخی کے مرتکب افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے میں بھی پیشرفت سامنے آئی اور ایف آئی اے نے متنازع ویب سائٹس اور فیس بک پیجز کے ریکارڈ کے لیے فیس بک سے رابطہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز (8 مارچ) کو چیف جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے والوں کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم جاری کیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY