’پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کچھ اقدامات کیے ہیں‘امریکی جنرل

0
274

پہلی بار کسی امریکی جنرل نے کانگریس پینل کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک گروپ کے خلاف کیے جانے والے کچھ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے لیے مددگار ثابت ہوئے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف وٹیل نے امریکی سینیٹ کمیٹی کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کے حوالے سے بھارتی پالیسی بھی مشکلات کا باعث بن رہی ہے کیونکہ اس طرح جنوبی ایشیا میں جوہری تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔

پاک-افغان خطے میں امریکی فوج کی حکمت عملی پر عمل درآمد کے ذمہ دار جنرل جوزف وٹیل نے اپنی بریفنگ کے دوران پاکستان کو امریکا کا اہم پارٹنر قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد کے ساتھ مصروف رہنے کی ضرورت ہے۔

ان کا مؤقف جہاں پینٹاگون کی پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو برقرار رکھنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، وہیں یہ بیان حال ہی میں امریکی قانون سازوں کے بیانات کے بھی بالکل برعکس ہے، جنھوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر پاکستان کے ساتھ تعلقات ختم کرنے پر زور دیا تھا۔

جنرل جوزف وٹیل نے سینیٹ پینل کو بتایا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات اور ان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم سے انہیں حوصلہ ملا۔

امریکی جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان نے کچھ ایسے اقدامات اٹھائے ہیں جو ہمارے لیے مددگار ثابت ہوئے ہیں، حال ہی میں پاکستان نے جنرل جوزف نکولسن کے ساتھ سرحد پر روابط کو مربوط کرنے اور اپنی جانب سے ہونے والی سرگرمیوں کو دیکھنے جیسے اقدامات میں ان کے ساتھ تعاون کیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈر کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج کے سربراہ جنرل جوزف نکولسن پاکستان کے آرمی چیف اور ان کے دیگر کمانڈرز کے ساتھ پاک-افغان سرحد کے دونوں جانب چھپے دہشت گردوں کے خلاف مل کر کام کر رہے ہیں۔

جنرل جوزف وٹیل کے مطابق یہ ایک بہت ہی مثبت اور صحیح فیصلہ ہے اور انہوں نے ہمارے اہم خدشات ’حقانی نیٹ اور طالبان‘ کے خلاف کچھ اقدامات بھی کیے ہیں، مگر اس حوالے سے مزید ثابت قدم رہنے، مخصوص علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے اور اپنے اتحادی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY