سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت 2013 سے 2016 تک ہونے والے تمام امتحانات اور انٹرویوز کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے سندھ پبلک سروس کمیشن از خود نوٹس کیس کا فیصلہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کے تحت 2013 سے 2016 تک ہونے والے تمام انٹرویوز کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے
عدالت کی جانب سے جاری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ کمیشن کے تحت ہونے والے مسابقتی امتحانات کے نتائج شفاف نہیں تھے لہذا تمام امیدواروں کو دوبارہ امتحانات دینا ہوں گے تاہم امتحان کے لیے لیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی۔
جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران ہونے والے امتحانات میں شریک امیدوار دوبارہ امتحان دیں گے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کےامتحانات میں 27000 امیدواروں نےحصہ لیاتھا،تحریری امتحان 664امیدواروں نے پاس کیاتھا، جبکہ 227 امیدواروں نے تحریری امتحان و انٹرویو میں کوالیفائی کیا تھا













