ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ترکی میں قائم ہالینڈ کا سفارت خانہ اور قونصل خانہ بند کرنے کے بعد ہالینڈ کے قائم مقام سفیر اور قونصل جنرل کا دفتر بھی سیل کر دیا گیا ہے۔
ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں متعین ہالینڈ کے سفیر ان دنوں تعطیلات پر ملک سے باہر ہیں۔ انقرہ ان کی واپسی نہیں چاہتا۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ہالینڈ میں موجود ترک تارکین وطن اور دیگر لوگوں کے ساتھ اس خطرناک فیصلے کی جلد وضاحت کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی اور ہالینڈ کے باہمی تعلقات اس وقت سفارتی، سیاسی، اقتصادی اور دیگر شعبوں میں بحران سے گذر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ ہالیںڈ اور ترکی دونوں نیٹو کے رکن ممالک ہیں۔ دونوں میں اختلافات اس وقت پیدا ہوئے ہیں جب حال ہی میں ہالینڈ نے اپنے ہاں ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی حمایت میں ریلیوں پر پابندی لگائی اور گذشتہ روز ترک وزیرخارجہ احمد جاویش اوگلو کو ہالینڈ کے دورے سے روک دیا گیا۔
اس سے پہلے ہفتے کو ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ترکی کے وزیر خارجہ کی ریلی منسوخ ہونے پر ترک صدر طیب اردوآن نے اپنے سخت رد عمل میں ڈچ قوم کو ’نازیوں کی باقیات اور فسطائی‘ قرار دیا تھا۔ استنبول میں ایک ریلی سے خطاب کے دوران طیب اردوآن نے کہا ’آپ جتنی مرضی ہو ہمارے وزیر خارجہ کی پرواز پر پابندی لگائیں، لیکن اب سے دیکھتے ہیں، آپ کی پرواز ترکی میں کیسے لینڈ کرتی ہے۔
‘
ترکی کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ان کے دورے میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سخت قسم کی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں












