امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زور کا جھٹکا لگا ہے، وائٹ ہاوس کی کوششوں کے باوجود ری پبلکن رہنماؤں کے تحفظات دور نہ ہو سکے۔ ایوان نمائندگان سے ہی غیر حا ضر ہوگئے، ٹرمپ انتظامیہ کو اوباما کئیر کا متبادل نیا ہیلتھ کئیر بل واپس لینا پڑ گیا،ٹرمپ نے مستقبل قریب میں نیا بل نہ لانے کا اعلان کردیا۔

ساری ملاقاتیں دھری رہ گئیں، تقریریں اور لابنگ بھی کام نہ آئی، ٹرمپ اپنی ہی پارٹی کے ایوان نمائندگان کو اپنا ہمنوا نہ بناسکے۔

ٹرمپ کے ہیلتھ کیئر بل کو ووٹ دینے بیشتر نمائندگان، ایوان میں حاضر ہی نہیں ہوئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ہیلتھ کیئر بل واپس لے لیا گیا۔

ری پبلکن ارکان کی جانب سے یہ بل واپس لینے کا اعلان ووٹ کی کمی کے پیش نظر کیا گیا۔

بیشتر ریپلکن ارکان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا ہیلتھ کیئر بل،اوباما ہیلتھ کیئر جیسا ہی ہے اور اس سے حکومت پربھاری اخراجات کا بوجھ پڑے گا۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال رائن کا کہناہے کہ بل منظور کرانے کے لیے درکار ووٹوں میں کمی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے وائٹ ہائوس میں صدر ٹرمپ سے طویل ملاقات کی اور بل واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوسری جانب دھچکوں پر دھچکے کھانے والے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فی الحال مستقبل قریب میں اس حوالے سے کوئی نیا بل لانے کا منصوبہ زیر غور نہیں ہے، ہاں اگر ڈیموکریٹ ارکان کے پاس اس حوالے سے کوئی نئی تجاویز ہوں تو بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں۔

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ لیڈر نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ آج کا دن امریکا کے لیے ایک عظیم دن ہے، یہ امریکی عوام کی فتح ہے

SHARE

LEAVE A REPLY