قسط 80
سید الشہداء کا سر اقدس
تین روز تک دمشق کے دروازہ پر آویزاں رہا
یزید کو معلوم نہ تھا
کہ
خاندان رسالت اور عصمت و طہارت کی خواتین و بچے ہوں
یا پھر
ان کے گھر کی کنیز فضہ ہی کیوں نہ ہو
یہ سب مفسر قرآن ہیں
حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اور
مولا علی (علیہ السلام) کی تربیت
اپنے خطبات کے ذریعے بازاروں و درباروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں
اور ایسا ہوا بھی
حضرت علی (علیہ السلام) کی بیٹی
زینب سلام اللہ علیہا و بی بی ام کلثوم س
اور
امام حسین(علیہ السلام) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ سلام اللہ علہیا نے
اپنے کردار و خطبات کے ذریعے یزید اور یزیدیت کو تا قیامت
لعنت کا حقدار کر کے باطل کی علامت قرار دیا
حبیبِ خدا، رحمت العالمین، محمد مصطفٰی (ص)ص کے چھوٹے اور لاڈلے نواسے
علی و فاطمہ (س) کے دل کا چین، نورِ عین شافیِ محشر حضرت امام حسین (ع) نے
فرمایا تھا
کہ
سکینہ میری نمازِ شب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے
جو آپ عالی مقام اپنے رب سے مانگا کرتے تھے
اے پروردگار!
مجھے ایک ایسی بیٹی عطا کر
جس سے
میں بہت زیادہ محبت کروں
اور وہ بھی مجھ سے بہت زیادہ محبت کرے
وہ میرے سینے پر سوئے
اور اس کی قرابت سے مجھے سکون ملے “
بی بی سکینہ (س)
بیس 20 رجب 56 ہجری میں اس جہانِ فانی میں متولد ہوئیں
سکینہ کے معنی ہیں قلبی و ذہنی سکون
پر یہ بچی
سکون سے نہ رہ سکی
جب آپ کے بھائی علی اکبر شہید ہوئے
تو
امام حسین غم ذدہ خیمہ میں آئے
سکینہ آئیں
اور آپ سے بھائی کی خبر معلوم کی
امام حسین نے بیٹی کو بھائی کی شہادت کی خبر دی
سکینہ نالہ کناں خیمہ سے باہر نکلنا چاہتی ہیں
امام حسین نے فرمایا
سکینہ صبر کرو اور خیمہ سے باہر نہ نکلو
سکینہ نے عرض کیا بابا
وہ کیسے صبر کرے جس کا جوان بھائی مر گیا ہو
جب عباس و حبیب بن مظاہر شہید ہو گئے
تو
امام حسین کے چہرہ پر اضمحلال کے آثار نمایاں ہو گئے تھے
اندوہ و غم کے بار کی وجہ سے بیٹھ کر رونے لگے
سکینہ آئیں اور پوچھا
میرے چچا کہاں؟
امام حسین نے فرمایا
شہید ہو گئے
زینب سلام اللہ علیہا نے فریاد کی
وا اخاہ! وعباساہ!
حرم کی عورتوں میں کہرام بپا ہو گیا
امام حسین نے بھی گریہ کیا اور فرمایا
واضیعتنا بعدک و انقطاع ظہراہ
جب رخصت کے لیے امام حسین خیام میں آئے
سکینہ نے رو کر کہا
بابا!
کیا مرنے کو جاتے ہیں
امام حسین نے فرمایا
کیسے نہ جاؤں کہ اب کوئی یاور و مددگار نہیں ہے
سکینہ نے کہا
بابا ! ہمیں ہمارے جد کے حرم میں واپس پہونچا دیجیئے
امام حسین ع نے فرمایا
اگر پرندہ قطار کو چھوڑ دیتا تو آرام کر لیتا
آپ کی یہ باتیں سن کر حرم میں نالہ و شیون کی آوازیں بلند ہونے لگیں
امام حسین نے انھیں تسلی دی اور ام کلثوم سے مخاطب ہو کر فرمایا
بہن میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہوش نہ کھونا
اسی وقت سکینہ نالہ کناں امام حسین کے پاس آئیں
سکینہ سے امام حسین کو بہت محبت تھی
سینہ سے لگایا اور آنسو صاف کر کے فرمایا
اے سکینہ !
میری شہادت کے بعد تمہیں بہت زیادہ رونا پڑے گا
اشک حسرت سے بہت زیادہ نہ تڑپاؤ
میرے جیتے جی نہ روؤ
اور جب شہید ہو جاؤں تو میرے سوگ میں بیٹھنا
جب امام حسین (ع) کربلا کی طرف چلے
تو جناب سکینہ س ذوالجناح کے سموں سے لپٹ گئیں
ناز و نعم سے پلی، باپ کے سینے پر سونے والی ، اپنی پھوپیوں کی چہیتی
پیاری سکینہ 4 سال ہی میں یتیم ہو گئیں
علوی خاندان کی یہ خاتون
والد گرامی حضرت امام حسین علیہ السلام
اور والدہ معظمہ حضرت رباب کی آغوش میں پروان چڑھی تھیں
کربلا کی عظیم معصومہ سکینہ بنت حسین ع
جو عاشورا کے دن ڈھلنے تک
اپنے سے چھوٹے بچوں کو
یہ کہہ کر
دلاسہ دیتی رہیں
کہ
ابھی عمو عباس پانی لائیں گے
معصوم کو کیا خبر تھی
جاری ہے













