شاہ سلمان کا یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن حل پر زور

0
237

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اٹھائیسویں عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن اور شام میں جاری بحرانوں کے پُرامن اور فوری حل کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
انھوں نے بدھ کے روز عرب لیگ کے سربراہ اجلاس کے افتتاحی سیشن میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یمن کا اتحاد اور استحکام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ یمنی بحران کا حل خلیجی اقدام اور بین الاقوامی مذاکرات کے نتیجے پر مبنی ہونا چاہیے۔
شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں بعض عرب ممالک میں جاری بد امنی اور جنگوں کی جانب دنیا کی توجہ مرکوز کرائی ہے۔انھوں نے شام میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی عوام قتل ہورہے ہیں۔اس لیے اس بحران کا فوری طور پر کوئی حل تلاش کیا جانا چاہیے۔
لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خادم الحرمین الشریفین نے تمام متحارب فریقوں پر اس ملک کی قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا اور کہا کہ وہ اپنے ملک میں سلامتی اور استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔
انھوں نے واضح کیا کہ ’’ اس وقت عرب اقوام کو سب سے زیادہ خطرہ دہشت گردی اور انتہا پسندی سے درپیش ہے‘‘۔انھوں نے عرب دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ اقتصادی میکانزم کو فعال بنانے پر بھی زور دیا۔
ایران عرب ممالک کی خود مختاری کا احترام کرے
عرب سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے کہا کہ عرب بہار (عرب اِسپرنگ) نے متعدد عرب ممالک میں تعمیر و ترقی کا پہیہ جام کردیا ہے۔ عرب ممالک کو درپیش بڑے چیلنج مشترکہ عرب طریق کار کی پاسداری کا تقاضا کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مفادات کے تصادم کے نتیجے میں شام میں جاری بحران کا حل رکاوٹوں کا شکار ہے۔
امیرِ کویت نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کے ممالک کی خود مختاری اور اچھی ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کا احترام کرے۔ انھوں نے لیبیا کی قومی وحدت اور علاقائی خود مختاری کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ شیخ صباح کے مطابق اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو یقینی بنانے کی راہ میں حائل ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY