سرگودھا میں 20افراد کے قتل کے مرکزی ملزم عبدالوحید نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتولین نے میرے پیر کو زہر دے کر قتل کیا تھا ، مجھے بھی مارنا چاہتے تھے ۔
ذرائع کے مطابق سرگودھا کا واقعہ دربار کی گدی نشینی پر جھگڑے کا شاخسانہ ہے،پولیس کے مطابق ملزم عبدالوحید نے 20افراد کے قتل کا اعتراف کرلیاہے،مرنےو الوں میں ایک ہی خاندان کے 6افراد بھی شامل ہیں،14افراد کی میتیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے سپرد کردی گئی ہیں۔
سرگودھا کے چک 95 شمالی میں واقع دربار علی محمد گجر میں ایک ہی خاندان کے 6افراد کی لاشیں گاؤں 90شمالی پہنچادی گئیں، پولیس کے مطابق مقتولین میں مقامی زمیندارسیف الرحمان ، اس کی بیوی ،2بہنیں اور2 بھائی بھی شامل ہیں ۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم عبدالوحید نے اپنے پیر کے بیٹے کو بھی قتل کیا ، خاندانی ذرائع کے مطابق ملزم کے ہاتھوں قتل ہونے والا آصف پیر علی محمد گجر کا بیٹا تھا ۔
پولیس کے مطابق مقتول آصف اسلام آباد میں پولیس کا ملازم اور پولیس لائن ہیڈکوارٹر میں تعینات اور 25اپریل تک میڈیکل چھٹی پر تھا ۔
مقتول جمیل کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اسلام کا رہائشی اور پی آئی ڈی میں ملازمت کرتا تھا ۔
ملزم نے پہلے مقتولین کو نشہ آور چیز پلائی اور پھر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈنڈوں اور خنجر کے وار سے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا،گرفتار 2 ساتھیوں میں ظفر ڈوگر شیخوپورہ اور محمد آصف ایڈووکیٹ پھالیہ سے تعلق رکھتا ہے۔
مقامی افرادکا کہناتھاکہ گدی نشین عبدالوحید مہینے میں ایک دو بار درگاہ آتاتھا، برہنہ کرکے مریدوں پر تشدد کرتا اور کپڑوں کو آگ لگادیتا تھا ،یہ سلسلہ 2برس سے جاری تھا، چیخوں کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں












