’بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی؟‘ماہ پارہ صفدر

0
1294

شعبہ خبر سے وابستگی کے دوران دو خبریں ایسی تھیں جن میں سے ایک پڑھ کر افسوس ہوا اور ایک نا پڑھ کر۔ ایک جمہوریت کی موت تھی اور ایک آمریت کی۔

دونوں خبریں اپنی اپنی جگہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئیں۔ ایک ملک کے منتخب وزیر اعظم کے قتل کے باب میں جس کے خون کے چھینٹے انصاف کے دامن پر بھی نظرآتے ہیں۔ تو دوسری ایک آمر کے انجام کے باب میں۔

تو چلیئے پہلے یہ خبر جسے چار اپریل کو ریڈیو پر سن کر میرے بہت سے لمحے تو بے یقینی کی کیفیت میں گزرے، دل جیسے کہہ رہا ہو:

یا الہی مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

bhutto namaz jinaza

مگر حقیت کے ادراک پر آنکھ سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ یہ خبر پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان کے دن کے گیارہ بجے کے بلیٹن میں نشر ہوئی جس کے مطابق بھٹو صاحب کو ہمارے گھر سے تین میل کے فاصلے پر راولپنڈی ڈسٹرکٹ جیل میں رات کے دو بجے پھانسی دی جا چکی تھی۔

تاہم فوج کی جانب سے نو گھنٹے بعد ہینڈ آؤٹ اس وقت جاری کیا گیا جب انہیں بندوقوں کے سائے میں چند لوگوں کی موجودگی میں گڑی خدا بخش بھٹو میں دفنایا جاچکا تھا۔

پھانسی کی خبر جاری ہونے کے بعد ہمارے نیوز پروڈیوسر کا خاصی گھبراہٹ زدہ آواز میں فون آ گیا۔ ’خبر تو سن لی ہوگی آپ نے۔ بھٹو کی پھانسی کی خبر پڑھ لیں گی آپ۔‘ میرے اطمینان دلانے پر ان کی تسلی نہیں ہوئی۔ اب کے خود نیوز کنٹرولر حبیب اللہ فاروقی لائن پر تھے ’دیکھیں بی بی یہ خبر پڑھ لیں گی آپ؟ کہیں رو تو نہیں پڑیں گی؟‘

مگر یہی تو تربیت تھی کہ دلی کیفیت چہرے اور آواز میں جھلکنے نہ پائے۔

شام پانچ بجے کا بلیٹن میں نے بلکل معمول کے مطابق پڑھا۔ یہ خبر نپے تلے انداز میں بنائی گئی تھی یا شائد بار بار ٹوکے جانے کے دباؤ میں خود کو میں زیادہ مجتمع کرچکی تھی۔ نو بجے میرے ساتھ خالد حمید تھے۔ سرخیاں میں نے پڑھیں اور تفصیلی خبر خالد نے پڑھنی شروع کی۔ لیکن چند سطریں پڑھنے کے بعد آواز میں لرزش ہوئی جیسے گلے میں کچھ اٹک سا جائے۔ انہوں نے بمشکل جملہ مکمل کیا اور اگلہ جملہ شروع ہونے میں وقفہ سب نے محسوس کیا۔

میک روم میں میک اپ اتارتے ہوئے خالد خود ہی بولے ’میں تو بمشکل یہ خبر پڑھ پایا۔‘ میں نے پوچھا خالد کیا تم سے بھی پہلے فاروقی صاحب نے پوچھا تھا کہ خبر پڑھ سکوگے یا نہیں۔ مگر اس کا جواب نفی میں سن کر حیرت ہوئی کہ پھر مجھ سے کیوں؟

اس خبر کے ساتھ انہیں دفنائے جانے کی چند سیکنّڈ کی فٹیچ دکھائی گئی جس میں بند تابوت میں چند لمحوں کے لیے ان کے چہرے کی جھلک بھی تھی۔ جس کا مقصد لوگوں کو آگاہ کرنا نہیں یہ باور کرانا تھا کہ دفن ہونے والی لاش ذوالفقار علی بھٹو کی ہی ہے۔ کیا بے کسی تھی لاش پر۔

مجھے خیالوں میں اس لاش کے پیچھے ماؤ زے تنگ کیپ پہنے وہ جواں سال بھٹو نظر آیا جسے میں نے اپنے بچپن نہیں ہاں لڑکپن میں چند گز کے فاصلے سے دیکھا اور سنا تھا۔ سن اڑسٹھ یا انتہر میں ذوالفقار علی بھٹو اپنی پیپلز پارٹی کی تنظیم کے سلسلے میں سر گودھا آئے تو چند مڈل کلاس لوگوں نے بھٹو صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور پزیرائی کی تھی۔ مسعود زاہدی، ممتاز کاہلو رکن اسمبلی اور خود میری والدہ شمس الزہرہ زیدی خواتین کی مخصوص نشتوں کے لیے امیدوار بھی تھیں۔ بھٹو ہمارے عزیز ایڈوکیٹ مسعود زاہدی ہی کے گھر ٹھہرے تھے اور سرگودھا کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ہمارے گھر سے ذرا ہی فاصلے پر ہمارے خاندانی دوست علی احمد کاظمی کے گھر خواتین سے خطاب کرنے آئے تھے۔ میں بھی اپنی والدہ اور بڑی بہن فوزیہ کے ساتھ انہیں سننے گئی تھی۔

مگر پھر وہ ہی ہوا جو اکثر ہوتا آیا ہے۔

منزل انھیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

ستر کے انتخابات میں نا قابل یقین مقبولیت کے بعد پیپلز پارٹی مڈل کلاس سے دور اور وڈیروں اور جاگیرداروں کی مقبوضہ بنتی چلی گئی۔

مگر یہ مڈل کلاس عوام اس شخص کو اپنے ذہنوں سے دور نہ کر سکی جو ان کے لیے جمہوریت کی علامت بن کر ابھرا تھا اور اس نے انہیں اور کچھ نہیں تو کم از کم پہلی مرتبہ ان کو ان کے ووٹ کی اہمیت کا احساس دلایا تھا۔

وہ اس شخص بھٹوکو بچا تو نہیں پائے مگر لفظوں کی صورت میں عقیدت کے جتنے نذرانے پیش کر سکتے تھے وہ کیے۔ یادگاری ریفرنس کی ایک ایسی ہی نشست میں اختر حسین جعفری سے بھٹو کی پھانسی پر لکھی طویل نظم سنی تھی۔ تین سطریں آپ بھی سنیئے:

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تُو جدا ایسے موسموں میں ہوا

جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے
وہ خبر جو میں نہیں پڑھ سکی۔ وہ جنرل ضیاء کی ہلاکت کی خبر تھی۔ جنرل ضیا کا فوجی طیارہ سترہ اگست سن 88 کو لگ بھگ تین بجے کریش ہوا۔ اس دن خبر نامے پر میری اور اظہر لودھی کی ڈیوٹی تھی۔

شام سات بجے تک ہم سب کو صرف اتنا معلوم تھا کہ کوئی بہت بری خبر ہے۔ میں اوپر نیوز روم میں پہنچی تو افراتفری کا عالم دیدنی تھا۔ جنرل ضیاء کی فٹیج اور پرانی خبروں کے سکرپٹ نکالے جا رہے تھے، چھان پھٹک ہورہی تھی۔ اتنے میں چیف ایڈیٹر شکور طاہر مجھے دوسرے کمرے میں لے گئے اور بولے کہ ’بی بی بہت بری خبر ہے جنرل ضیاء فوجی طیارے کے حادثے میں شہید ہوگئے ہیں۔ آج خبرنامے میں اس کے سوا کوئی خبر نہیں جائیگی اور یہ اظہر لودھی پڑھیں گے۔‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا کیوں میں کیوں نہیں۔ شکور طاہر نے کہا ’بی بی آپ لوگوں نے میک اپ وغیرہ کیا ہوتا ہے ذرا اچھا نہیں لگتا، یہ بڑی سنجیدہ خبر ہے۔ کوئی ’مرد‘ ہی پڑھے تو بہتر ہے۔‘ میں نے کہا شکور صاحب جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا۔ مجھے پہلے ہدایت کردی گئی تھی کہ کپڑے بھی بہت سادا ہوں اور میک اپ بھی انتہائی کم۔ آج آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ بتا دیتے میں میک اپ نہ کرواتی اور یہ غیر سنجیدہ خبریں کونسی ہوتیں ہیں۔

بھلا میرا یہ احتجاج ان کا فیصلہ کہاں بدلوا سکتا تھا۔ میں نیوز روم میں آکر رائیٹر اور اے پی کے پرنٹ پڑھنے لگی۔ اس دن خبر نامہ کیا ضیا نامہ تھا۔ واقعے کی خبر، ان کے حالات زندگی، غیر ملکی دوروں کا احوال اور شخصیات کے تعزیتی پیغامات اور نہ جانے کیا کیا۔

میری نظروں میں چار اپریل 1979 کا منظر اتر آیا اور میں نے سوچا ایک سولین رہنما کی اتنی بے توقیری کہ اسے سولی پر چڑھا دیا جائے اوراس کی محض چند سطروں کی خبر نشر ہو اور ایک آمر کی اتنی عزت افزائی کہ وہ ہلاک ہو تو ’شہید‘ اور خراج تحسین کے ڈھیر۔

سترہ اگست مجھے پروفیشنل عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کی بد ترین مثال کے طور پر بھی یاد رہے گا۔ مگر اتنا ضرور ہوا کہ اس سلوک نے مجھے جنسی تعصبات سے مقابلہ کرنے کا وہ حوصلہ دیا جس کی لو آج تک بھڑک رہی ہے۔

ماہ پارہ صفدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

SHARE

LEAVE A REPLY