گزشتہ دنوں امریکی کمپنی ’’بوم ٹیکنالوجی‘‘ نے آواز سے دگنی رفتار پر سفر کرنے والے مسافر بردار طیارے کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جس کی پرواز آئندہ سال کے اختتام تک متوقع ہے۔

نیویارک سے اسلام آباد تک پہنچنے میں کم از کم 20 گھنٹے لگتے ہیں اور مستقبل میں یہی طیارہ صرف 5گھنٹے میں طے کر ے گا۔ ماہرین کی جانب سے اس کو ’’ایکس بی ون‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کمرشل سپرسونک طیارہ آواز کے مقابلے میں 2.2 گنا زیادہ یعنی 2334 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکے گا۔

کمپنی کے مطابق اس کا تجارتی ورژن جو 2023 تک متوقع ہے ،جسامت میں اس سے 3 گنا بڑا ہوگااور اس میں 45 سے 55 مسافر سفر کرسکیں گے۔

دنیا کے پہلے مسافر بردار سپرسونک طیارے ’’کنکارڈ‘‘ کو ختم ہوئے 10 سال سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اس عرصے کے دوران ایسے کئی تجارتی طیاروں کے منصوبے سامنے آچکے ہیں ،جو نہ صرف کنکارڈ سے زیادہ بڑے ہیں بلکہ ان کی رفتار اور مسافروں کی گنجائش بھی اس سے کہیں گنازیادہ ہے۔

ایکس بی ون اب تک ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں 1000 گھنٹے سے زیادہ کی آزمائشیں پوری کرچکا ہے جس کے دوران اس میں فلائٹ کنٹرول اور ایویانکس کو حتمی شکل دی جا چکی ہے ، جب کہ اس کا ایئرفریم (ڈھانچہ) ابھی تک تیاری کے مراحل میں ہے۔

اس میں جنرل الیکٹرک کمپنی کے تیار کردہ 3 جدید ترین ٹربوفین جیٹ انجن نصب کیے جائیں گے۔ یہ جیٹ انجن نئے تربیتی لڑاکا طیاروں میں نصب کیے جاتے ہیں ،جنہیں کمرشل طیارے میں نصب کرنے کے لیے ضروری تبدیلیوں سے گزارا جائے گا۔

ایکس بی ون پروٹوٹائپ دیکھنے میں لڑاکا طیارے ہی کی طرح ہے ۔ لیکن اس کا حتمی ڈیزائن خاصا بڑا اور مسافر بردار طیارے جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔

اس میں ناسا، پریٹ اینڈ وٹنی، لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، نارتھروپ گرومین، اسپیس ایکس اور اسکیلڈ کمپوزٹس جیسے اداروں کے ماہرین بھی شریک ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY