چیف جسٹس سپریم کورٹ نے غیرقانونی طریقے سے گردے نکالنے کے گھناؤنے عمل کو معاشرے کے لئے ناسور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ آج تک ہم یہ معلوم نہیں کرسکے کہ یہ مکروہ دھندہ کن اسپتالوں میں ہوتا ہیں ۔

سپریم کورٹ میں محمدعمران نامی شخص کا غیرقانونی طورپر گردہ نکالنےسے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر ایس ایس پی اسلام آباد پولیس نے اس قبیح فعل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی ۔

ایس ایس پی اسلام آباد پولیس ساجد کیانی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ محمدعمران نامی شخص کاگردہ نکالنے کی تحقیقات جاری ہیں ایف آئی آر میں نامزد 3 ملزمان میں سے 2 کو گرفتار کیا گیا تھا ملزمان ریمانڈ پرتھے کہ مدعی نےان سے راضی نامہ کرلیا دوران سماعت عدالت نے ایس ایس پی اسلام آباد سے استفسار کیا کہ متاثرہ شخص کاگردہ کس ہسپتال میں نکالا گیا جس پر ساجد کیانی نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔

ایس ایس پی کے اظہار لاعلمی پر چیف جسٹس نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ہسپتال میں گردہ نکالا گیا وہ خلامیں نہیں اسی زمین پر ہوگا غیرقانونی طریقے سے گردے نکالناہمارے معاشرے کاناسور ہے ہمیں ان ہسپتالوں کی نشاندہی کرنی ہے جہاں یہ مکروہ دھندہ ہوتاہے انہیں تلاش کیا جائے ساتھ ہی انہوں نے ایس ایس پی اسلام آباد کوتحقیقات کے لئے ایک ماہ کا وقت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر مفصل رپورٹ عدالت میں پیش کریں ساتھ کی کیس کی سماعت ایک ماہ کے لئے معطل کردی

SHARE

LEAVE A REPLY