شام میں کیمیائی حملوں سے متعلق روس کے دعوے غلط ہیں: امریکہ

0
739

امریکہ نے روس کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کیا ہے کہ شام میں کیمیائی حملہ دراصل باغیوں کے زیر تسلط ایک اسلحہ ڈپو پر فضائی حملے کا نتیجہ تھا۔

امریکی قومی سلامتی کونسل نے منگل کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ شہریوں پر کیمیائی حملہ دانستہ طور پر کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس میں پیش کردہ اس رپورٹ کے مطابق شام ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے “انکار تو کرتا ہے”، لیکن یہ دنیا کے لیے ایک واضح خطرہ ہے۔

رپورٹ میں شام اور روس دونوں پر ہی الزام عائد کیا گیا کہ وہ “شہریوں پر کیمیائی حملوں کی ذمہ داری کے معاملے میں عالمی برادری کو الجھا رہے ہیں۔”

قومی سلامتی کونسل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ واضح طور پر یہ آواز بلند کرے کہ “ایسا رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔” تاہم کونسل نے اس کے مضمرات کے بارے میں وضاحت نہیں کی۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس بدھ کو سلامتی کونسل میں ایک نظرثانی شدہ قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ روس اسے ویٹو کر دے گا۔

وائٹ ہاؤس میں نیوز بریفنگ کے دوران امریکی قومی سلامتی کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ماسکو “کیمیائی حملے کی نوعیت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مہم میں” مصروف ہے۔

انھوں نے شواہد کے تناظر میں بتایا کہ ایسی تصاویر حاصل ہوئی کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ گیس کے شیل فضا سے گرائے گئے اور دمشق اور کریملن کے دعوؤں کے برخلاف یہ عمارت پر نہیں بلکہ گلیوں میں گرے۔

روس کے صدر ولادیمر پوتن کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ کر چکے ہیں

VOA

SHARE

LEAVE A REPLY