ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی۔زرقامفتی

0
134

ترے سخن نے کہاں سے یہ دلکشی پائی

سکوت میں بھی ترے ہم نے نغمگی پائی

کلام ہم سے بھی کرتے گلاب لہجے میں

سماعتوں میں نہاں آرزو یہی پائی

ترے مزاج کے موسم بدلتے ہیں پل پل

تری وفا میں ادائے ستم گری پائی

 نظر زمانے کی اک پل میں کھا گئی اس کو

کبھی کبھار ذرا سی بھی گر خوشی پائی

بھٹک رہے تھے خرد تیری پیروی میں ہم

جنوں کی راہ چلے ہیں، تو آگہی پائی

 خراج لے رہی ہے زندگی بھی سانسوں سے

حریمِ ذات میں یہ کیسی بے بسی پائی

حریف جذبے ہویدا ہیں اپنے چہرے پر

ہنسی لبوں پہ سجی، آنکھ نے نمی پائی

 نکل کے خلد سے آ تو گئے زمیں پر ہم

اماں ملی کہیں ہم کو، نہ آشتی پائی

 چمن میں سوگ ہے کس کا؟ کہ اس دفعہ ہم نے

بہار میں بھی خزاں کی سی ابتری پائی

SHARE

LEAVE A REPLY