جنت یا دوزخ کی دوڑ۔ سید غضنفر حسین زیدی

0
162

معاشرے میں آج ہم ہر جانب نظر دوڑا کر دیکھیں تو اس معاشرے کا ہر شخص عدم برداشت کا شکار دکھائ دیتا ہے ، اعصابی تناؤ میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے نفسیاتی ہوچکا ہے ، شعور و آگہی کے اس تیز دور میں بھی جہاں ہم علم کے مینار فتح کرنے کے دعوے دار ہیں لیکن ہمارے رویوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم آج بھی اسی پتھر کے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان کو جنگلی بھیڑیوں سے زیادہ خود انسان سے خطرہ ہے کہ کہیں اسے چیر پھاڑ نہ ڈالے ۔

اس معاشرے کے بگاڑ میں ہم سب ہی برابر کے شریک ہیں دوستو!

اس معاشرے کی اصلاح کرنی ہے تو زمہ داران کا تعین کیجیئے تاکہ کل کوئ بھیڑیا نما انسان کسی دوسرے انسان کو چیر پھاڑ ڈالے تو ہم اس شخص پر سارا ملبہ ڈالیں نہ کہ یوں سرگرداں پھریں کہ کون زمہ دار ہے فلانہ ہے فلانہ ہے فلانہ ہوگا ۔

جنت کی دوڑ میں دوزخ کے رستے کا انتخاب کرچکے ہیں ہم لوگ ، اور اس دوڑ میں سب ایک دوسرے پر سبقت لینا چاہتے ہیں ایک میراتھان لگی ہوئ ہے کہ جس کا بس چلتا ہے دوسرے کو چیر پھاڑ کر اس سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ تاکہ وہ اس سے پہلے اس جنت کو پا لے تاکہ اس کے سینے میں ٹھنڈ پڑ جائے ۔ پڑ جائے جناب ! ہماری تو دعا ہے آپ سب کو ایک بار ٹھنڈ ہی پڑ جائے کسی ایسے فعل سے یا کسی بہانے آپ کے سینے میں ٹھنڈ تو پڑے آپ کے کلیجے ٹھنڈے ہوں ۔

شعور و آگہی ایک المیہ بن چکی ہے اس معاشرے کے اندر دل چاہتا ہے کہ اس شعور و آگہی کو بازار میں جا کر نیلام کردوں

SHARE

LEAVE A REPLY