ہمارے یہاں یہ تصور عام ہے کہ کوئی بھی غلط کام کرتے رہومگر حضور ﷺ شفاعت ضرورفرما ئیں گے اور معاملہ رفع دفع ہوجائے گا؟ میں نے اپنے ایک گزشتہ مضمون میں اس کی رد میں سورہ مدثر کی آیت نمبر41سے56تک کامطالعہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ یہ آیتیں تو کچھ اور کہہ رہی ہیں؟ ان میں اس وقت کاذکر ہے جب دائیں ہاتھ والے جنت میں داخل ہوچکے ہونگے اور وہاں آرام سے قیام فرما ہونگے۔ انہیں جہنم میں کچھ ایسے لوگ نظر آئیں گے جنہیں جہنم میں نہیں ہونا چاہیئے تھا؟ تو وہ ان سے پوچھیں گے کہ تم نے ایسا کیاگناہ کیا جس کی سزا بھگت ر ہے ہو؟ تو وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے، مسکینو ں کوکھانا نہیں کھلاتے تھے اور قیامت پر یقین نہیں رکھتے تھے جو لوگ اس کی رد میں الٹی سیدھی دلیلیں دیتے تھے ان کی ہاں میں ہا ں ملاتے تھے لہذا شفاعت کرنے والے انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکے؟ ان آیات میں اس کا رد ہے کہ جس نے کلمہ پڑھ لیا ہے وہ ہر حال میں جنت میں جا ئیگا؟ اب مسئلہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے علم دین پڑھا ہی اس لیئے ہے کہ وہ اس سے روزی کمائیں وہ بیچارے مجبور ہیں کہ سچ نہ بولیں؟اگر سچ کہدیں گے توروٹیوں کے لالے پڑجا ئیں اور مساجد میں تالے لگ جا ئیں گے کیوں؟ اس کیوں کا جواب بڑا افسوس ناک ہے۔ میرے بچپن میں اگر کوئی مسجد کو کچھ رقم دینے جا ئے چاہیں وہ کتنی چھوٹی کیوں نہ ہو منتظم پوچھا کرتے تھے کہ وہ حلال کی کمائی سے بھی ہے یا نہیں جب وہ ہاں کہتے تھے۔ تب کہیں جاکر وہ قبول کرتے تھے۔ اب کم از کم وطن ِ عزیزمیں نوے فیصد لوگوں کی کمائی حرام کی ہے؟ اگر وہ اس چھان بین میں پڑیں گے تو حلال رقم میسر نہیں ہوگی؟جیسا کہ پہلے میں نے عرض کیا یہ صورت حال پیدا ہوجا ئیگی۔ جبکہ حدیث ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جس نے بھی حرام کا ایک لقمہ بھی کھایا وہ اسوقت تک جنت میں نہیں جا ئیگا جب تک اسکااس سے پیدا شدہ جسم کاوہ حصہ جہنم میں تپاکر جلا نہ دیا جائے؟آج کے مسلمانو کی! حالت یہ ہے کہ شاید ہی کوئی شخص مل جائے کہ جو اپنی روزی کو وہاں ہر قیمت پر حلال رکھتا ہو؟ حضورﷺنے سب سے اچھی کمائی اس کی فرمائی ہے جو اپنے ہاتھ سے کما ئے؟اور ان میں سے بھی بہتر کمائی ایماندار تاجر کی ہے اور قیامت کے دن جب کوئی سایہ نہیں ہوگا تو وہ عرش کے سایہ میں نبیوں ؑ اورصدیقوں کے ساتھ ہوگا۔ مسلمان تاجر کی تعریف جوبتائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہ بولتا ہو، اپنا مال فروخت کرنے کے لیئے مال کی بیجا تعریف نہ کرتا ہو۔کم نہ تولتا ہو۔گھٹیا مال جنس کے ڈھیر کے نیچے نہ چھپاکر رکھتا ہو۔ ذخیرہ اندوزی نہ کرتا ہو ملاوٹ نہ کرتا ہو،لین دین میں بد عنوانی نہ کرتا ہو۔ عہد کی پابندی کرتا ہو۔ ادھار دے تو وصولی میں سختی نہ کرتا ہوجس میں ان میں سے کوئی ایک عیب ہو وہ ہمﷺ میں سے نہیں ہے؟ یہ تھی ایک پیشے کی بات۔ اب آپ مزدور سے لیکر بڑے سے بڑے صاحب تک چلے جا ئیے۔ ہر جگہ یہ ہی صورت ِ حال ملے گی؟امت کے لیئے حکم ہے کہ جو جہاں بھی کام کررہا ہو وہ عدل اور احسان کے ساتھ کرے؟ کیا یہ عدل ہے کہ پیسے آپ پورے لیں مگر وقت خوش گپیوں میں گزار دیں، چائے پینے اور دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے میں گزار دیں؟ کھیلوں کی کمنٹری سننے میں گزاردیں۔فرض نماز ہی کیا قضائے عمری پڑھنے میں گزاردیں۔ اگرکام کے وقت میں نماز پڑھتے ہیں تو ایمانداری کا تقاضہ یہ ہے کہ اتنا وقت مالک کو زیادہ دیں یا پھر اتنے وقت کی تنخواہ نہ لیں؟تبھی روزی حلال ہوسکتی ہے ورنہ حرام ہوگی اگر اتنی احتیاط کر سکتےہیں؟اگر وہاں رشوت نہ بھی لیں اپنے عہدوں سے فائدہ بھی نہ ا ٹھائیں۔تب بھی روزی حلال کی نہیں ہے جبکہ وہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ اب رہا سوال کایہ حصہ کے قیامت بپا ہونا ہی نہیں ہے؟ تو سورہ بقرہ شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس میں شک و شبہ کی گنجا ئش نہیں ہے؟ اگر قیامت پر یقین نہیں ہے جس کا مقصد اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ مجھے اس روزیہ فیصلہ کرنا ہے کہ کون نیک ہےاور کون بد ہے؟ تودنیا کو بنانے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے جبکہ اللہ سبحانہ قر آن میں فرمارہا ہے میں نے کوئی چیز بیکار نہیں بنائی۔ اور یہ بھی فرما رہا ہے کہ شفاعت اس کی ہوگی جس کی شفاعت میں چاہوں نگا۔اور ایک جگہ قرآن میں یہ بھی کے بات بھی وہ معقول کہے۔ میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ کوئی شخص اللہ سبحانہ تعالیٰ کے سامنے غیر معقول بات کہہ سکتاہے اور پھر بھی اپنے منصب پر فائزرہ سکتا ہے۔ جب تک اس کی اگلی قسط آئے اس دوران آپ سورہ قیامہ پڑھ لیجئے کہ اسلام میں قیامت پر یقین نہ رکھنے والوں کاایمان ہی ناقص ہے؟ اور ایمان نہ رکھنے والوں کی شفاعت نا ممکن ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہمیں ان غلط فہمیوں سے بچائے آمین)













