بائیس سالہ طویل جدو جہد کے نتیجے میں اقتدار کا ہما عمران خان کے سر پہ بیٹھا ہے ۔ ابتدائی برسوں میں اپنی پارٹی کی تشکیل ، تنظیم اور ویژن میں مصروف و کامران رہے ۔۔۔ تب تحریکِ انصاف تیسری بڑی ملکی سیاسی پارٹی بن کر سامنے آئی ۔ 2008ء کے عام انتخابات میں الیکشن بائیکاٹ کیا ۔ نواز شریف کے سمجھانے کے باوجود الیکشن نہیں لڑا اور سخت نقصان اٹھا کر اپنے سپورٹرز کو بھی مایوس کیا ۔ 2013ء میں امید کے باوجود خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی دونوں بڑی پارٹیوں کے گٹھ جوڑ سے مذید باغی ہو گئے ۔ مصلحتاً الیکشن تو لڑ لیا لیکن اسمبلیوں میں جانے سے انکاری رہے ۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ڈائرکٹ وزارتِ عظمی کے عہدے کے ساتھ اسمبلی میں جانے کے خواہش مند تھے ۔ اس عارضی شکست نے ان میں منفیت بھر دی اور وہ اپوزیشن بھی سڑکوں اور پریس کانفرنسوں کے ذریعے ہی کرتے رہے ۔ اس ضمن میں ان کا طویل ترین سیاسی دھرنا ایک سیاسی المیہ ہے اور تاریخ میں سیاہ ترین حروف میں لکھا جائے گا ۔ اس دھرنے نے بین الاقوامی طور پر پاکستان کی معیشت و سیاست پر بڑے دوررس اثرات مرتب کئیے ہیں ۔ جس کے ثمرات سے عوام بخوبی فیض یاب ہو رہے ہیں ۔ اقتدار کے پانچ سالوں میں ن لیگ کو ایک دن بھی سکون سے حکومت نہیں کرنے دی گئی ۔ مخالفین جو چاہیں سمجھیں ، دشنام طرازی کا جو پیراہن چاہیں پہنائیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ن لیگ اپنے مال پانی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے کام بھی سر انجام دیتی رہی ۔ خان صاحب نے پانچ سالوں میں ن لیگ کو انتہائی ٹف ٹائم دیا لیکن کھوٹ کے بازار میں معیشت کا پہیہ چلتا رہا کیونکہ مارکیٹ میں کھوٹے اور کھرے سکے بیک وقت رائج تھے ۔ سو مل جل کر کام چلتا رہا ۔۔۔ معیشت کی مضروب گاڑی بھاگنے نہیں تو گھسٹنے لگی ۔
ن لیگ جب حکومت میں آ ئی تو اسے طرح طرح کے بے شمار چیلنجز کا سامنا تھا جن میں سے سب سے بڑا چیلنج زرداری حکومت کا لایا ہوا بجلی اور گیس کا شدید ترین بحران تھا ۔ ملکی معیشت کا پہیہ جام تھا ۔ دوسرا بڑا چیلنج دھماکے تھے جنہوں نے پاکستان کے ہر گھر میں صفِ ماتم بچھا رکھی تھی اوورسیز پاکستانیوں اور عالمی تجارتی و ثقافتی وفود کو پاکستان سے متنفر کر دیا تھا ۔۔۔ کئی سطحوں پر پاکستانیوں کے ٹینڈر مسترد کر دئے گئے ۔۔ یوں لگتا تھا پاکستان عالمِ اقوام میں تنہا رہ گیا ہے ۔ یہ دونوں بحران ایک طرف کراچی کی بد امنی دوسری طرف ۔۔شدید ترین بدامنی تھی جس پر ہزاروں فوجیوں کی جانیں اور بھاری ملکی اثاثہ خرچ کر کے ضربِ عضب کے ذریعے قابو پایا گیا ۔ اس دوران ملک میں ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔۔۔ غیر ملکی سرمایہ دار کا اعتماد بھی کسی قدر بھال ہوا ۔۔ خیر سیاسی شورشوں ، ناگفتنیوں ، ناشدنیوں اور طرح طرح کے الزامات کے ساتھ ن لیگ کا دور گزر ہی گیا ۔۔۔
2018ء کے الیکشن کے بعد نئی نکور ، چمچماتی پارٹی خوشنما نعروں ، خوابوں اور وعدوں کے ساتھ برسرِ اقتدار آ ئی ۔ عوام میں آ بائی چوروں سے چھٹکارے کے بعد خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ نئی صبحیں نئی شامیں طلوع و آ فتاب ہونے کا منظر بڑا دلفریب تھا ۔۔۔ فرانس کے وزیراعظم کی سائیکل ، کی مثالوں سے بنا وزیراعظم قومی اسمبلی اور وزیراعظم ہاؤس سے بنی گالا تک ہیلی کاپٹر پہ آ نے جانے لگا ۔ خوشی کچھ ایسی تھی کہ یوں لگتا تھا کسی متوسط طبقے کے بندے نے اپنا تمام سرمایہ و جائداد بیچ کر آ ؤڈی خرید لی ہو ۔ سالانہ ہزار نوکریاں ، ٰغریب کا اپنا گھر کا خواب ، روزی روٹی ، ناجائز تجاوزات اور پاک پاک پاکستان سب بخوشی اس آ ؤڈی کی نذر نواز کر دئیے گئے ۔۔۔ مگر ابھی آ ؤڈی چلنے بھی نہ پائی تھی کہ یوٹرن آ گیا ۔۔۔ بس پھر آ ؤڈی نہ جی ٹی روڈ پہ چڑھی نہ موٹر وے پر ۔۔۔ سڑکوں کو چھوڑ گلیوں میں ہی جاگھسی ۔۔۔ جس گلی پڑتی معلوم ہوتا بند ہے یو ٹرن ضرورت ہی بن گئی بلکہ پہچان بھی ٹہری ۔۔
پچھلی پارٹی معتوب ہوکر مقدمات اور انتقامی سیاست و جیلوں کی نظر ہو گئی ۔ اپوزیشن میں کوئی دم خم نہ رہا تو آ ؤڈی کی صلاحیت و کارکردگی مزید لاپرواہ ہو گئی ۔ یو ٹرن کی اصطلاح ایک سیاسی جہت کی حلال صورت میں متعارف کروائی گئی ۔۔۔ انہیں بھی اقربا پروری اور عہدوں کی ہوس کھا گئی ۔ عہدوں کی بندر بانٹ کے بعد صمً بکمً بزدار کو جاگرز پہنا کر پنجاب کا ،، شہباز شریف ،، لگا دیا گیا ۔ پنجاب شروع ہی سے پاکستانی سیاست اور مرکز میں انتہائی اہمیت کا حامل اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اسے ایک گونگے بہرے کے سپرد کر دیا گیا ۔۔
موجودہ حکومت کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ کہ وہ بھی شہباز شریف کی طرح تمام عہدے اپنی جیب میں رکھنے کی خواہش مند ہے ۔ فرق یہ ہے کہ شہباز شریف نے بھلے تمام عہدے اپنے پاس رکھے مگر اپوزیشن کو اس کا حق دیا ۔۔ تحریکِ انصاف اپوزیشن کو اپنے اوپر تنقید کرنے کا حق بھی دینا نہیں چاہتی ۔۔۔ بلکہ ان کے سپورٹرز فخریہ کریڈٹ لیتے ہیں کہ ہم اپنے ہینڈ سم خان پر خود ہی تنقید کرتے ہیں آ پ لوگوں نے یہ کیا ہوتا تو اتنا نقصان نہ اٹھاتے ۔۔۔ بلکہ اگر کوئی ستایا ہوا تنقید کرتا پایا جائے تو سوشل میڈیا پر کوشش ہوتی ہے کہ اس جرآت پر ناقد کے الفاظ واپس اسکے منہ میں ٹھونس دئیے جائیں ۔۔ کسی طرح انہیں ملک بدر کر دیا جائے یا چپ چاپ بیٹھ کر تماشا دیکھا کیجیے ۔۔۔ ایسے حکومت کے روز چلے گی بھائی ؟
آ ؤڈی جو اتنی مشکل سے لی ہے نہیں چلے گی ۔۔ اپنی آ ؤڈی کو اپوزیشن سے دھکا لگوائیے ۔۔۔
حکمران چور ہیں عوام کو سڑکوں کے جال میں الجھا کر ان کا خون پی رہے ہیں ۔ حکمران ایماندار ہو تو وزیر مشیر اور بتدریج بڑا چھوٹا عملہ سیدھا ہو جاتا ہے اسی نعرے کے ذریعے عوام نے آپکو حکومت کے لئیے چنا تھا ۔ پھر یوٹرن آ یاکہ چوروں کے سسٹم کو چور ہی جانتے ہیں کچھ چور بطور وزیر مشیر ہائیر کر لییے ۔ سردیاں تھیں سوشل میڈیا پر اسپورٹرز گوبر سے گجریلہ بناتے رہے ۔ اور میٹھے میٹھے میں سچے انصافین پر چور مسلط کر دئیے گئے ۔ بیچ کے سارے حالات بتدریج تمام عوام کو معلوم ہی ہیں آ ئی ایف ایم سے بھیک ۔۔۔ ڈالرز کی بلند پروازی ۔۔ گرتا اسٹاک ایکسچینج ۔۔ بیٹھتا معیشت کا پہیہ ۔۔۔ ٹیکسز کی بھرمار ۔۔۔ اشیائے خوردونوش ، صحت اور تعلیم کی عوام کی پہنچ سے دوری ۔۔۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ کمی اور ٹیکسز ۔۔۔
سارے کن ٹٹے اور چور جیل میں ۔۔۔ حکومت میں دور دور تک آ پکے مدِ مقابل کوئی نہیں ۔۔۔ اپوزیشن لولی لنگڑی ۔۔۔ وڈے ابا کی اشیرواد آ پکے ساتھ ۔۔۔ راوی چین ہی چین لکھتا ہے اب حکومت کرنے سے کون روک رہا ہے ۔ یا آ پ میں کام کرنے کی اہلیت ہی نہیں ۔۔۔ ؟
اب تین روز سے ایک نیا بہانہ نئے بیانئے کی شکل میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہاہے کہ ٹیم اچھی نہیں ملی ۔ عوامی سوال یہ ہے کہ کیا ٹیم ورثے میں ملی تھی یا سرکاری ملازم تھی جسے مسلط کر دیا گیا تھا ۔ ٹیم آ پکی اپنی چنیدہ تھی جو کسی بھی مصلحت کو اختیار کئیے بغیر من مانی کر کے معرضِ وجود میں آ ئی تھی اور جس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی بھی لائی جاتی رہی ۔۔ کام نہ کرنے کا عذرِ لنگ نہ تراشیے ۔۔ حکومت کے مزے لوٹئے ۔۔اپوزیشن کو اپنا کام کرنے دیجئے ۔۔ تاکہ اتنے شوق اور ،، منتوں مرادوں ،، اور قربانیوں سے لی گئی آ پکی آ ؤڈی چلتی رہے ۔۔۔
زارا مظہر













