پرویز الہی, خان کے دشمنوں کیساتھ ملا ہوا تھا ۔ ارحم علیم

0
813

عمران خان مجمع اکٹھا کرنا جانتا ہے اسکی شخصیت اسکا طرز خطابت مجمع کرنے کا ہے مگر خان کو اپنے لوگوں کا عوام کا استعمال کرنا نہیں آتا. ایک لیڈر کی اصل لیڈری شروع ہی اس وقت ہوتی ہے جب اسکے گرد مجمع اکٹھا ہوگیا ہے تو پھر اس مجمع کی طاقت کو وہ کس طرح عین وقت پر موقع کی مناسبت سے صحیح استعمال کر نے کا گر جانتا ہو . ورنہ مجمع تو مداری بھی اکٹھا کر لیتے ہیں اور جب انکا تماشہ ختم ہو جاتا ہے تو اکٹھا ہوا مجمع منتشر ہو جاتا ہے. اگر جٹکی زبان میں کہوں تو خان صاحب گائے کو کوٹھے پر چڑھا تو لیتے ہیں مگر انکو کوٹھے چڑھی گائے واپس زمین پر اتارنی نہیں آتی.
ایران میں جب انقلاب آیا تھا تو ایرانیوں کے انقلابی لیڈر خمینی خود فرانس میں بیٹھے تھے جب انقلاب مکمل ہو گیا تب خمینی کو واپس بلایا گیا. پاکستان میں اس طرح کا سیٹ اپ ابھی نہیں ہے. عوام تیار ہوتی ہے مر مٹنے کو مگر لیڈر ڈرپوک ہوتے ہیں مصلحت پسند بن جاتے ہیں. خان صاحب مدت کے لحاظ سے جتنا لمبا مارچ کر رہے تھے اسی قدر وقت یہ اپنے دشمن کو دے رہے تھے کہ وہ اپنا تخریبی پلان تیار کر لیں اور پھر وردی والے دشمن نے وار کر کے لانگ مارچ کے غبارے سے ہوا قریب قریب نکال دی ہے لانگ مارچ کا ٹیمپو توڑ دیا ہے.
کل جو ہوا ہے وہ خان کو مارنے کے لئے نہیں کیا گیا تھا بلکہ وردی والوں نے اس سے دو مقاصد حاصل کر لئے ہیں نمبر ایک تو یہ کہ لانگ مارچ کو روکا جائے جو کہ وہ روک چکے ہیں . اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ عوام کا ری ایکشن کیا ہوگا ……..جو عوام خان کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہیں اگر ہم اس ریڈ لائن کو تھوڑا سا عبور کر کے دیکھیں تو یہ خان کے کھلاڑی کس حد تک جا سکتے ہیں . تو اس سلسلے میں غیور عوام کا ردعمل بھی کوئی خاص نہیں آیا . یہ در اصل ایک ریہرسل کی گئی ہے اگلی دفعہ کے فائنل شو ڈاؤن کے لئے. اب تو خان نے اس وردی والے کا نام بھی لے دیا ہے جس نے یہ مخصو ص گھٹیا حرکت رانا ثنا اللہ کیساتھ مل کر کروائی ہے . جو گولی ٹانگ پر ماری گئی وہ ارشد شریف کی طرح سر میں بھی ماری جا سکتی تھی . نیچے کھڑا بندہ تو ایک بہانہ تھا اصل قاتل تو پولیس کے سنائپرز کی شکل میں وردی والے تھے جن پر کوئی شک بھی نہیں کر سکتا. اور یہ جو بھی ہوا ہے یہ سٹیٹ کے منصوبہ سازوں نے کیا ہے جس میں پنجاب کے چوہدری شامل ہیں .
خان کی پارٹی میں بھی ڈرپوک لوگوں کی کمی نہیں ہے. شاہ محمود قریشی قابل اعتبار بندہ نہیں ہے اور فطری طور پر یہ ایک نہایت اعلی درجے کا ڈرپوک انسان ہے. انسان کی ذہانت قابلیت اور لیاقت کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب انسان پر شدید ذہنی دباؤ ہو اور اسے ان حالات میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے . اور کل یہ بھی پتہ چل گیا کہ گولی خان کی ٹانگ میں نہیں پارٹی کی ٹانگ میں لگی تھی جو ساری پارٹی ہی اچانک بیٹھ گئی .
اللہ سب کو محفوظ رکھے چلیں فرض کریں خان کو اگر کل گولی لگ جاتی اور خان دنیا میں نہ رہتا تو در حقیقت خان کی یہ پارٹی چوں چوں کا مربہ ثابت ہوتی . چند روز تک عوام احتجاج کرتی اور پھر ایک ڈرپوک سا لیڈر وردی والے اس پارٹی میں کھڑا کروا کے ملک میں چوری چکاری اور چوروں ڈاکوؤں کو کھلی چھٹی دے دیتے کہ اب جو کرنا ہے کرو ان چودہ کڑوڑ ڈنگروں پر جی بھر کے حکومت کرو
خان کو چاہیے کہ ستر کا ہوگیا ہے اور اللہ نے اگر اسے نئی زندگی دی ہے تو اب سیاست چھوڑ کر انقلاب لانے کا پلان تیار کرے تاکہ آر یا پار والا معاملہ ہو سکے. نہ کہ لولی لنگڑی مغرب کی بیہودہ سیاست کے مردہ جسم کا مرثیہ گلی گلی میں لانگ مارچ کی صورت میں پیٹتا پھرے. پاکستان کی سیاست میں تبدیلی ووٹ سے نہیں ڈنڈوں سوٹوں اور بندوقوں سے آتی ہے. جب تک یہ ڈنڈے سوٹے اور بندوقیں انکے ہینڈلرز سمیت عوام توڑیں گے نہیں اس جانوروں کے معاشرے میں انسانیت کبھی جنم نہیں لے سکتی . اور اسکے لئے سب سے پہلے وردی والوں کو انکی چوکیداری کی پوزیشن پر بٹھانا ضروری ہے.
اور کل یہ جو بھی کام کروایا گیا ہے اس میں ابو المنافقین پرویز الہی چیف منسٹر پنجاب خان کے دشمنوں کیساتھ ملا ہوا تھا یہ میری بات یاد رکھنا ! اس بندے کی رضامندی کے بغیر یہ کل جو کچھ ہوا ہے نہیں ہو سکتا تھا. اور ان چوہدریوں کے چہروں سے ہمیشہ ہی منافقت ٹپکتی ہے مگر کل تو یہ منافتقت بڑی واضع طور پر اسکے چہرے پر دیکھی جا سکتی تھی جب یہ بندہ وقوعہ ہونے کے تین چار گھنٹے بعد ٹی وی پر نمودار ہوا اپنی بہاردی کا تذکرہ کرنے کے لئے کہ اس نے کیا کرتوت کی ہے. اسے تو سب سے پہلے سامنے آکر اس واقعے پر لعن طعن کرنی چاہیے تھی .
اس لئے خان کو اگلا قدم اٹھانے سے پہلے اپنے پارٹی کے اندر اور باہر کے دوست دشمن کی پہچان کرنی ہوگی پھر ہی خان ان فوجیوں کی اگلی گولی سے بچ سکے گا ورنہ خان بھی پاکستان کا ایک عظیم مرحوم لیڈر بن جائے گا جو کچھ عرصہ تک گھر گھر سے نکلے گا اور پھر عوام اپنی زندگیوں کے مسائل میں اس قدر مشغول ہو جائیں گے کہ خان بے نظیر کی طرح ایک قصہ پارینہ بن جائے گا. اور یوں یہ پڑتی ختم شد ہو جائے گی . اللہ نہ کرے ایسا ہو بلکہ پاکستان حقیقی رنگ میں ہر ملک دشمن سے آزاد ہو جائے اور خان کو اللہ طاقت عقل ہمت دے کہ وہ ان شیطانی قوتوں کا مقابلہ عوام کی طاقت سے کر سکے – آمین
کیونکہ یہ آخری لیڈر ہے جس کو چھبیس سال لگے لیڈر بننے میں اور اس کے بعد پاکستان کو پھر تیس پینتیس سال لگیں گے کوئی اگلا اچھا محب وطن لیڈر پیدا کرنے میں.
میں خان کا حامی نہیں ہوں نہ ہی اسے ووٹ ڈالنا ہے اس پر تنقید بھی میں بہت کرتا ہوں . مگر مجھے باوقار محب وطن انسان اچھے لگتے ہیں . اور خان پاکستان کے موجودہ لیڈروں میں سے سب سے زیادہ پر وقار اور محب وطن لیڈر ہے . اس لئے یہ ایک اچھا پاکستانی لیڈر ہے اللہ اسے اپنی حفاظت میں رکھے اور ان جیسوں کے ذریعے پاکستان کو ملک دشمن غلام ذہنوں سے آزاد کرواے – آمین
(ارحم علیم )

ادارہ عالمی اخبار کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY