تمہاری سوندھی سوندھی مہک جب مشامِ جان میں اتری وہ میرا حصہ بن گئی۔ ہمارا ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہو گیا۔۔ تمہاری پناہوں میں مَیں نے خود کو محفوظ سمجھا۔ تمہارے روزوشب، دھوپ چھاؤں سبھی موسموں کو شدت سے نہ صرف محسوس کیا بلکہ ان سےخوب لطف اندوز ہوتی۔ میں جب تیرے سینے پر پاؤں پاؤں چلی تو کتنا اچھا لگا تھا مجھے۔ بچپن کی وہ مہکتی صبح اور صبح صبح کی اذانیں، پرندوں کی چہکاریں اور تیرا پیار، جس میں چائے پراٹھے کی خوشبو شامل ہو جاتی۔ روز زندگی کا آغاز کتنا خوبصورت ہوتا۔
بہت چھوٹی تھی جب علم ہو اکہ تیرا کوئی دشمن بھی ہے۔ تب کس طرح میرا ننھا سا دل دکھی ہو اتھا۔ یاد ہے ہم نے اور ہمارے سنگی بچوں اور سکھیوں نے سب نے مل کر تیرا دفاع کرنے کا عزم کیا تھا۔ اسکو ل میں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ہم نے تیرے بیٹوں تیرے پاسبانوں کے لیے تحفے پیک کیے۔فضا میں نغمے اُبھرتے
تینوں رب دیاں رکھا
اور
اے وطن کے سجیلے جوانو!
ہماری ننھی منی آوازیں بھی اس میں شامل ہوجاتیں۔ ہم اپنے اسکول اور گھر کے آنگن میں وفورِ شوق اور ایک جذب کے عالم میں مادرِ وطن کے پرچم لہراتے ہوئے اپنی قوم کو نا قابلِ شکست اور ناقابلِ تسخیر سمجھتے۔آج بھی وہ وقت یادآتا ہے تو جی فخر سے بھر جاتا ہے۔کتنا اچھا لگتا تھا یہ لین دین۔ تم ہمیں پناہ دیتیں اور ہم تجھ پہ جانثار کرتے۔ تیرے آنگن میں ہم سب ایک تھے۔ کوئی چھوٹا بڑا کالا گورا یا کم ذات نہ تھا۔ سب کے سکھ دکھ سانجھے تھے۔ تیرا وجود سب کو ایک رکھتا تھا۔
وقت اچھا گزر رہا تھا ۔ بادِ بہاری چل رہی تھی لیکن پھر نہ جانے کس کی نظر لگی کہ موسم بدلنے لگے، نہ جانے کہاں سے باد سموم کے جھکڑ چل پڑے۔ بہن بھائیوں کے تیور بھی بدلنے لگے۔ سب ہی اپنی اپنی سوچنے لگے۔ دل بٹنے اور پھٹنے لگے۔ کسی کو تیری پرواہ نہ رہی۔ ایک روز تو حد ہی ہو گئی۔ تیرا ایک بازو ٹوٹ گیا۔ اور ٹوٹا بھی اپنے ہی بچوں کی لڑائی میں جو اسی دشمن نے ورغلا کر کروائی تھی۔ ۔ یہ ظلم تم برداشت کر گئیں۔ اور تم صبر شکر کر کے ایک ہی بازو سے ہماری آبیاری کرنے لگیں۔
پھر نہ جانے کہاں سے جونکیں آ ئیں اور تیرے جسم کو لپٹ گئیں۔کچھ پاکیزہ جرثومے بھی تیرے خون میں سرایت کر گئے ۔ جن کا خیال تھا کہ بس وہ ہی تیرے اصل وارث ہیں۔ اور باقی سب تو کیڑے مکوڑے ہیں۔ غرض ہر کسی کی کوشش تھی کہ تیری شہ رگ سے خون چوسے۔ تیری رگوں میں بہتا خون سب پی گئے۔ تیری زندگی کی یہ پانچ رگیں خشک ہو نے لگیں ۔ تیرے پیارے تجھے بچانے کی کوشش کرتے تو جونکیں انہیں سانپ بن کر ڈسنے لگتیں۔ جرثومے ان پہ دھاوا بول دیتے کہ کم ذاتو! تمہاری حیثیت کیا ہے کہ ہمارے ہوتے تم کچھ کہنے کرنے کی اجازت پاؤ؟ پھر جیسے کہ کسر تھی۔ کچھ بھوکے کتے بھی آن نکلے۔ جو ا س لوٹ مار میں اپنا حصہ بٹورنا چاہتے تھے۔ وہ اپنی لال آنکھوں اور نوکیلے پنجوں سے سب کو ڈرانے لگے۔ ان کے خوف سے گلیاں سنسان، زمین سیاہ اورآ سمان سرخ ہونے لگا۔ اے میری مہرباں! میری پرورش گاہ! تجھے بچانے والے کم ہو نے لگے کیونکہ وہ ہجرت مکانی پہ مجبور ہوتے گئے۔
آج بھی سنا ہے کہ تم بڑی بہادری سے اپنے زخمی وجود کو لیے ان کا مقابلہ کر رہی ہو۔ منتظر ہو اپنے بچوں کی کہ وہ تیری ڈھال بنیں ۔ان جونکوں کو تمہارے بدن سے نوچ پھینکیں۔ جرثوموں کو فنا کردیں اور کتوں کو پٹہ ڈال دیں۔تمہاری پناہ بنیں۔تمہارابازوبنیں۔ تاکہ تیرے وہ تمام حسین موسم ، مہک وہ خوشبو وہ شب و روز واپس لوٹ آئیں کہ جن میں موافقت کی ہوائیں چلتی تھیں تو سب ایک کنبے کی طرح تمہارے گرد گھومتے تھے، سب کے نفع نقصان تجھ ہی سے وابستہ تھے۔ کچھ بھی تم سے بالا نہیں تھا۔
اے مادرِ وطن!میں آج تمہیں بتادوں کہ میں دوری کی ا س لمبی مسافت پہ بیٹھی آج بھی تم سے ملنے کی آ س لیےتمہارا تصوّر کرتی بوڑھی ہو رہی ہوں۔ تمہاری یادیں میرے ذہن دل اور خون میں شامل ہیں جو میں سانس سانس اپنے اندراتارتی رہتی ہوں ،آکسیجن کی طرح۔ جانتی ہوں کہ حقیقت کیا ہے ۔۔مگر اپنے آنسوؤں کو ضبط کیے خود کو دلاسہ دیتی ہوں کہ جلد وہ دن آئیں گے سب جونکیں مر جائیں گی۔ اور تما م کتوں کو پٹہ ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہی الوہی اذانیں کہ جن کا کوئی فرقہ کوئی رنگ نسل نہیں تھا بس رب کا نام تھا گلیوں محلو ں میں گونجیں گی۔ رونقیں بحال ہوں گی، زمین پھرسے سرسبز ہو جائے گی اور آسمان بھی اپنی اصل رنگت پہ لوٹ آئے گا۔ مگر یہ کب ہو گا؟ کیونکہ زندگی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہی ہے۔ یہ سوچ ایک سسکاری بن جاتی ہے۔
طاہرہ مسعود (بادصبا) کینڈا













عالمی اخبار انتظامیہ کی شکر گزار ہوں
مادر وطن پہ لکھی گئ ایک خوبصورت مگر دلگداز تحریر ۔
خدا کرے کہ مری ارضِ پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشئہ زوال نہ ہو
بہت سلامتی ہو