حُسین شناسی کا سفر۔100۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
843

قسط 100

جب
میں نے
حسین شناسی کا سفر
شروع کیا تھا
رات ڈھل رہی تھی ، درد کے باب کھل رہے تھے
نیلگوں آسمان ۔۔!
مسکن ماہ انجم اداس تھے
کچھ حقیقتیں تھیں جو سراب لگ رہی تھیں
محرم کا چاند ۔۔!
مٹیالے بادلوں کے حصار میں چھپاگریہ کناں تھا
ہواؤں کی سرسراہٹوں میں سسکیاں سنائی دے رہی تھیں
کتاب کائینات کے اوراق پارینہ پر
وقت کے آنسو قطرہ قطرہ کانپ رہے تھے
ہائے ۔۔۔
قافلہ نور کے سالار حسین ع قصر مقاتل پہنچ گئے تھے
اب سوچتی ہوں
سلطان کربلا حسین علیہ السلام نے
ساتھ ہی تو مانگا تھا ۔۔۔ لبیک ہی تو کہنا تھا
صد حیف ۔۔۔
جن پر مان تھا
بیچ راہ انہیں تنہا کر گئے تھے
میری روح
میری ناتواں روح
عالم خیال کی وسعتوں میں بھٹکتی جا رہی تھی
جہاں تشنہ لبی کے کئی پیاسے منظر تھے
اور ہر منظر
ایک ہی منظر میں ڈھل رہا تھا
انکار کا دکھ لئے
امام حسین علیہ السلام
نینوا سے کربلا جا رہے تھے
ایک ہی پکار چارسو تھی
آغوش اجل آسودہ ہوئی جاتی ہے ۔۔!
دل یکبارگی بڑے زور سے دھڑکا ہے ۔۔ آنکھوں سے جھر جھر نیر بہے ہیں
آنسو اب بھی گر رہے ہیں
اسیران کربلا
اربعین امام حسین کے بعد
دو ربیع الول کو مدینے پہنچ گئے ہیں
ہائے
نہ امام عالی مقام حسین علیہ السلام ساتھ ہیں
نہ عباس علمدار ، نہ علی اکبر ، نہ علی اصغر
ہائے نہ سکینہ بنت حسین ۔۔
اور نہ ہی امام حسین ع کے اصحاب باوفا
کیسا دل فگار سفر و منظر ہے
سید بن طاووس لکھتے ہیں
امام سجاد علیہ السلام نے
مدینہ پہنچنے پر
شہر سے باہر ہی خیمے نصب کرنے کا حکم دیا
اور بشیر بن حذلم کو مدینہ بھیجا
اس نے
مسجد النبی کے پاس اشعار پڑھے اور گریہ کیا
اس طرح اہالیان مدینہ
اہل بیت کے مدینہ واپسی سے مطلع ہوئے
سید بن طاووس
اس دن کو
رسول گرامی قدر صلی اللہ کے وصال کے بعد
مسلمانوں کی تاریخ کا
غم انگیز ترین دن شمار کرتے ہیں
حسین شناسی کا سفر
بظاہر کتابی تھا
لیکن
درحقیقیت
روشنی کا سفر تھا
جو باطن کو اجال رہا تھا
مجھ سے کہہ رہا تھا
حسین ع ضمیر والوں کا گرو
حسین ع ایمانداروں کا شاہ
حسین ع درسگاہ انسانیت
حسین ع شہیدوں کا امام
حسین ع مظلوموں کا امام
حسین ع منبع روشنی و ہدایت
حسین ع وارث علم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
حسین ع وارث علم مولا علی علیہ السلام
حسین شناسی کا سفر
ہر پڑھنے والے سے
ایک سوال پوچھنا چاہتا ہے
جب ہندو برہمن حسینی ہو سکتے ہیں
توپھر سوچ تو ۔۔
حسینی کیوں نہیں ہوتا ؟

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY