شہید بابا کے نام ایک کارکن کا پیام,سیدرضامہدی باقری

1
871

شہید بابا کے نام
ایک کارکن کا پیام
شاہدِعزت و وقار ہیں آپ. پیکر جاہ و ذوالفقار ہیں آپ
آپ ہی اولیں محبت ہیں. مصدر حلم و عزم و جراءت ہیں
ہم سے لاکھوں کروڑوں دیوانے
آپ کا نام جپتے رہتے ہیں
کیونکہ سوئے ہوئے غریبوں کو
آپ کی فکر کی بدولت ہی
اپنے ہونے کا اک شعور ملا
آپ ہی نے ہمیں سکھایا تھا
“ظالموں سے مصالحت نہ کرو
ظلم جس پر بھی ہو جہاں بھی ہو
ساتھ مظلوم کا ضروری ہے
زندگی ایک بار ملتی ہے
علم سے پیار ظلم سے نفرت
بس یہی زندگی کا مقصد ہے
کرّہِ ارض ایک زنداں ہے
جس میں انسانیت سسکتی ہے
روز جیتی ہے روز مرتی ہے
سطوت شاہ اور غرور زر
سامراجی خداٶں کے ہیں ہنر
ان سے جو جنگ کرنے لگتا ہے
کسی حیلے کسی بہانے سے
یہ اسے موت کی سزا دے کر
تختہء دار پر چڑھاتے ہیں
آپ ہی نے ہمیں بتایا تھا
اپنی مٹی سے پیار لازم ہے
زمیں زادوں سے عشق واجب ہے
جب تلک خاک کو نہ چومیں ہم
آسماں دسترس میں آتا نہیں
اپنی مٹی کو چھوڑ کر انساں
مثل خورشید جگمگاتا نہیں”
اسی آدرش کے لئے ہم نے
زندگی کے تمام سال رضا
یوں گزارے کہ ایک دن شاید
وہ سویرا طلوع ہو جائے
جب غریبوں کہ زرد چہروں پر
مسکراہٹ ہو اور گلابی ہو
ایسی صبح جو خواب آپ کا ہے
فتحِ مظلوم سے منور ہو
کچلے طبقہ کی حکمرانی ہو
کبھی آسان زندگانی ہو!!!
(سیدرضامہدی باقری)

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY