زندگی کی کتاب کا ہر صفحہ مُختلف ہے ۔مگر آخری صفحے پر اَجَل لکھا ہوا ہے جس کو یاد نہ رکھنا خود سے دُشمنی ہے ۔یہ تو دنیا کی بلکہ ایک ملک کی عدالت ہے سب سے بڑی عدالت لگنی ہے جس میں کوئی کسی کا ساتھی نہیں ہوگا نہ بیٹا باپ کا نہ باپ بیٹے کا ہمیں سب کچھ پتہ ہے لیکن دنیا کی ہوس ہمیں کہیں کا نہیں رکھتی ۔ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم اپنے ملک میں یہ ماحول دیکھینگے ۔ انصاف سب کے لئے یکساں ہونا چاہئے ہر کشش اور ہر رغبت سے ماورا ۔ابھی بہت مرحلے باقی ہیں لیکن جس طرح رکاوٹ بن رہے ہیں شاہ کے وفادار اور ہر کارے وہ بہت مشکل اور نا قابلِ فہم لگ رہا ہے ۔مگر خیر بھی اکثر شر سے ہی نکلتی ہے ۔اور ہم یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ عوام کا صبر بھی اب شاید آخری مراحل میں ہے ۔

کہتے ہیں سب کچھ جائز کر دو باسٹھ تریسٹھ ختم کر دو ؟؟؟؟ جو کچھ بچ گیا ہے وہ بھی لوٹ لینے دو ۔کسی سے نہ پوچھو کہ وہ ہمارے ووٹ کی بے توقیری کس طرح کر رہا ہے ۔ہمیں تو لگتا ہیے کہ اگر ملکی خزانے کے بارے میں جواب طلب کیا جائے تو آدھی پارلیمنٹ اُڑن چھُو ہو جائیگی ۔ہر کسی کے ساتھ کرپشن کی دُم لگی ہے ۔ یہ ملک کے ہمدرد جس طرح ملک کو لوٹ گئے وہ ان کا ہی خاصہ ہے ۔کیونکہ جب اللہ کا خوف دلوں سے نکل جاتا ہے تو یہ ہر سال عمرے اور حج کرنے والے بھی کس طرح سامنے آتے ہیں کہ سوائے استغفار پڑھنے کے ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا ۔ہم اپنے سب ہی مسلمان بھائیوں بہنوں اور بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں کہ وہ حرام دولت سے بچیں ۔دھوکہ اور فریب کو قریب نہ آنے دیں دُنیا چار دن کا میلہ ہے اصل زندگی آخرت کی ہے جو یہاں نظر نہیں آتی ۔ہم سب کو ہی اپنے اندر جھانکنا ہوگا ۔ہمیں اپنے ووٹ کو سچ اور حق کے لئے ڈالنا ہوگا ۔

ہم باشعور اور زندہ قوم ہیں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ سوائے چند سَر پھروں کے جو اِبنُ الوقت بھی ہوتے ہیں اور ہر رَو میں بہہ جانے والے بھی کوئی نہ پسند کر رہا ہے نہ ہی مان رہا ہے ۔سب ہی کو یہ نظر آرہا ہے کہ کس طرح بے ایمانی اور دھوکے کا راج رہا ہے ہمارے ملک پر ۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے ان کے بیانات سُن کر جیسے قائدِ اعظم نے یہ ملک اِن کے ہی لئے بنایا تھا۔جس قسم کے حالات ہم دیکھ رہے ہیں ہمیں تو خوف آرہا ہے کہ کوئی یہ کاغزات بھی نہ نکال لائے کہ یہ میراث دی تھی انہیں قائدِ اعظ،م نے ۔؟؟؟ ہمارا سوال تو یہ ہی ہے کہ کیا ان دو خاندانوں کے علاوہ کوئی ان بیس کروڑ میں اہل نہیں ہے وزارتیں سنبھالنے کا ؟؟

یہ ہی وہ ہیں جنہوں نے ہمارے جوانوں سے آگے بڑھنے اور سامنے آنے کا حق چھین رکھا ہے میرٹ کو ختم کر دیا ہے کہ کوئی ان کی مرضی کے سوا سامنے ہی نہ آسکے ۔صرف اور صرف خاندانی سیاست چلے باقی کوئی نظر نہ آئے ۔خطا وار ہم بھی ہیں ہم نے بھی اس ماحول کو اپنایا بھی اور اس کے خلاف کبھی کھڑے بھی نہیں ہوئے ۔اب جب پانی سر سے اوپر ہو گیا تو ظاہر ہے کہ نکلنے میں وقت بھی لگے گا اور مُشکلات بھی آئینگی ۔مگر ہمیں امید ہے کہ اب کچھ نہ کچھ اچھا ضرور ہوگا ۔ہمارا سوال ایک ہی ہے کیا سب سیاست دان ایک جیسے ہیں یا کہیں کچھ ایمان اور کچھ وفا باقی ہے ؟ کیا سب ہی خائن ہیں یا کہیں کچھ حس باقی ہے ۔کیا کوئی بھی اُٹھ کر اس تعفن زدہ ماحول کو بدلنے میں ساتھ دے سکتا ہے یا سب کے مفادات جڑے ہیں اس ہی ماحول سے ۔یا سب کو ہی ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے جو انکی نفسیات سے پیسے کی بے جا طلب اور محبت کو نکال کر ملک اور قوم کی محبت اور عوام کا درد ان کے دلوں میں بھر دے ۔

آج کل ہمارے سابقہ لیڈران جس کیفیت سے گزر رہے ہیں وہ قابلِ عبرت بھی ہے اور قابلِ رحم بھی ۔سنتے ہیں جب انسان کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر آجاتی ہے تو وہ خود کو اس دنیا کی مخلوق نہیں سمجھتے ۔بلکہ آسمانوں سے بھی اونچے اُٹھ جاتے ہیں اور تصور بھی نہیں کرتے کہ کسی دن اُن کا محاسبہ بھی ہو سکتا ہے ۔اور ہمیں لگتا ہے کہ اس دفعہ ہمارے اشرافیہ کو ایسا دھکا لگا ہے کہ اُنہیں ماہرِ نفسیات کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔بلکہ اُن کے ساتھی بھی ہمیں حواس میں نہیں لگتے ۔قانون سب باتوں سے بالا تر ہے اور اُسے ہونا بھی چاہئے کہ اگر ملک میں قانون نہ ہو تو ہمارے یہ سَر پھرے سابقہ حکمران ہی کہا کرتے تھے کہ گھر جاؤ مقدمہ جیت جاؤ تو واپس آجانا لیکن اپنے معاملے میں ہر حربہ صحیح یا غلط استعمال کیا جارہا ہے ۔اور جس طرح عدلیہ کے احکامات کا تمسخر اُڑا رہے ہیں اداروں کو نشانے پر لے رہے ہیں وہ بھی ایک عجیب ہی رویہ ہے جس کی ہمیں بالکل توقع نہیں تھی ۔

کہتے ہیں بلکہ پوچھتے ہیں کیوں نکالا ؟ کیوں نکالا ؟ اب کوئی پوچھے کہ بھائی میاں سوا سال سے کس بات کی پیشیاں بھگت رہے تھے ۔کس مقدمے کے لئے اتنے قیمتی وکیل بھیج رہے تھے سپُریم کورٹ میں ،جب آپ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہورہا ہے ۔کس لئے غلط بیانی کی مثالیں قائم کر رہے تھے ۔کس لئے قطری خط جمع کرایا گیا تھا ۔اگر یہ سب بھی آپ کو نہیں پتہ تو ہم تو یہ ہی کہینگے کہ آپ کو ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایک اور بات بھی شدید خوف میں مبتلا کر رہی ہے کہ کس طرح انسان اقتدار کے پیچھے اپنا سب کچھ گنوا دیتا ہے لیکن ہار نہیں مانتا ۔ملک اور قوم کی چاہت رکھنے والے خود کو پاکستان اور اُس کی فلاح سے زیادہ سمجھتے ہیں ۔جب کہ کسی کےجانے اور آنے سے کچھ نہیں ہوتا فیصلے اوپر ہوتے ہیں جو مالکِ کُل کے اختیار میں ہوتے ہیں وہ بھی رَسی ڈھیلی چھوڑتا ہے کہ شاید سنبھل جاؤ مگر کچھ لوگ نوشتئہ دیوار پڑھنے میں بہت دیر کر دیتے ہیں ۔

ایک سب سے بڑی مُشکل یہ ہے کہ جب بھی کوئی بڑا یا اُس کا خاندان اداروں کے گھیرے میں آتا ہے ایسی ایسی بیماریاں لا حق ہو جاتی ہیں اُنہیں ،جن کا علاج صرف اور صرف لندن اور امریکہ میں ہو سکتا ہے ۔حالانکہ ہمارے ملک میں دُنیا کا ایک اچھا کینسر اسپتال موجود ہے چاہیں تو وہاں علاج ممکن ہے لیکن ہمارے بڑوں کی بیماریاں بھی غیر مُلکی ہیں بس وہیں جا کر ٹھیک ہوتی ہیں ۔ملک سے بھاگنے کے لئے بہت ضروری ہے کہ علاج کا بہانہ کیا جائے ۔ہم اب بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنا وقت کیوں دیا جارہا ہے کہ پیشی پر نہ آنے والے بھاگ سکیں ؟

جس طرح کُھل کر سب کچھ سامنے لایا گیا اب اگر اُس پر سزائیں نہیں دی جاتیں تو شاید اس سے بھی بڑا ظلم ہوگا قوم اور نئی نسل پر ۔اآج کل جس طرح جوان بھی سیاست کو سمجھنے اور اس میں شامل ہونے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں وہ ان باتوں سے نہ صرف متاثر ہونگے بلکہ شاید سچائی اور انصاف سے اُنکا ایمان بھی اُٹھ جائیگا ۔فیصلے جب ہی کار آمد ہوتے ہیں جب اُن پر عمل کرایا جائے ؟؟ ایک اچھی روایت ڈلی ہے اسے اپنے منتقی انجام تک ضرور پہنچنا چاہئے تاکہ ملک کی تقدیر بدلی جاسکے وہ تقدیر جو کسی بھی خاندان سے جڑی نہیں ہے ۔ان خاندانوں نے بہت حکومت کر لی اب یہ سیاست ختم ہو نی چاہئے ملک سے محبت رکھنے والے ایماندار اور سچے لوگوں کو آگے لایا جانا چاہئے اور سیاست سے پیسے کو ختم کرنا چاہئے جب تک سیاست عام آدمی کی پہنچ میں نہیں ہوگی ہم یونہی ان کے ہاتھوں لُٹتے رہینگے ۔بس ایک نظر اپنے کردار پر ۔
اللہ میرے ملک کو ہر بُحران سے نکالے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY