معزول ایرانی صدر ابو الحسن بنی صدرکا انکشاف,آیت اللہ علی خامنہ ای شدید علیل

0
234

فرانس میں جلا وطن کی حیثیت سےمقیم ایران کے معزول صدر ابو الحسن بنی صدر نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بار پھر شدید علیل ہیں اور ان کی صحت تشویشناک حد تک خراب ہے۔ وہ بستر مرگ پر ہیں اور کسی بھی وقت ان کی وفات کی خبر آسکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 1981ء میں منصب صدارت سےمعزول کیےگئے سابق صدر نے کہا کہ انہیں ایران کےاندر سے اطلاعات ملی ہیں کہ سپریم لیڈر شدید بیمار ہیں۔

ایرانی اپوزیشن کے مقرب ایک نیوز ویب پورٹل ’’ایران وائر‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ابو الحسن بنی صدر نے کہا کہ مرض خامنہ ای کے پوری جسم میں پھیل چکا ہے۔ وہ اس وقت بستر مرگ پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کی علالت ایران پر امریکی پابندیوں میں تیزی ایک اہم وجہ ہوسکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق ایرانی صدر نے انکشاف کیا کہ ایرانی رجیم کے بعض حلقوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خفیہ مکتوب بھیجا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ خامنہ ای کے بسترمرگ پرہونے کے موقع سے فاہد اٹھائیں اور تہران پر اقتصادی پابندیاں بڑھائیں تاکہ ایران میں فیصلہ ساز حلقوں پر دباؤ پڑے اور وہ ملک میں سپریم لیڈر کا عہدہ کسی اعتدال پسند شخص کو دینے کی راہ ہموار ہوسکے۔

اس خفیہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کی خرابی صحت سے ان کی وفات کا قوی امکان موجود ہے۔ امریکا کو چاہیے کہ وہ عراق کے علی السیستانی کی طرح ایران میں کسی اعتدال پسند شخص کو اس سپریم لیڈر کے عہدے تک پہنچنے کی راہ ہموار کرے۔

بنی صدر کا کہنا ہےکہ میرے خیال میں خفیہ مکتوب والی بات درست ہے کیونکہ حالیہ دنوں کے دوران امریکی حکومت اور کانگریس نے ایران کے صدارتی انتخابات کے بعد مزید پابندیاں عاید کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خمینی کے آخری ایام میں بھی ایسا ہی ایک مکتوب ایران کے اندر سے اس وقت کے امریکی صدر رونلڈ ریگن کو لکھا گیا تھا۔

معزول ایرانی صدر سے پوچھا گیا کہ خامنہ ای کی وفات کی صورت میں ان کے ممکنہ جانشین کون ہوسکتے ہیں؟ تو بنی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ ایرانی فیصلہ سازوں کی کوشش یہ ہوگی کہ ایسے شخص کو سپریم لیڈر بنایا جائے جو خامنہ ای کے نقش قدم پر چلے۔ یہ کام سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، ابراہیم الرئیسی، صادق آملی لاری جانی جیسے لوگ با آسانی کرسکتے ہیں۔ مگر آملی لاری جانی کرپشن کیسز کی بناء پرکمزور پوزیشن پر ہیں۔ آیت اللہ شاھرودی کے پاسداران انقلاب کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں۔ وہ خبر گان کونسل کی قیادت کےبھی ووٹ حاصل نہیں کرسکے۔
ایک سوال کے جواب میں بنی صدر نے کہا کہ خبر گان کونسل خامنہ ای کے جانشین کے نام پر غورکے لیے چھ اجلاس منعقد کرچکی ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ ولایت فقیہ کا اصول عملی طور پر ختم ہوچکا ہے۔ اب اس پر کوئی بھی یقین نہیں کرتا۔

ایرانی اپوزیشن کی مقرب نیوز ویب سائیٹ ’آمد نیوز‘ نے گذشتہ بدھ کو انکشاف کیا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی صحت بہت خراب ہے۔ سپریم لیڈر کی دیکھ بحال پر مامور طبی ٹیم کے ایک ذریعے نے بتایا کہ 77 سالہ خامنہ ای کے پورے جسم میں کینسر سرایت کرچکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خامنہ کی زندگی بچانے کے لیے جاری علاج کی تمام کوششیں اب بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔ بڑھاپے کی وجہ سے ان کے جسم میں قوت مدافعت مکمل طور پرختم ہوچکی ہے اور پروسٹیٹ کینسر کے علاج کی تمام ادویات بے اثر ثابت ہو رہی ہیں۔ خامنہ کی خرابی صحت سے لگتا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک بہ مشکل زندہ رہ سکیں گے۔

صالح حمید ۔۔۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

SHARE

LEAVE A REPLY