جدید عہد کے درندے۔ از۔ سید غضنفر حسین زیدی

0
1752

کسی زمانے میں درندوں کا مقابلہ اور ان کو پہچاننا آسان تھا ۔ لوگ درندوں کی شکلوں سے پہچان جاتے تھے کہ یہ شیر ہے، یہ چیتا ہے، یہ ریچھ ہے ۔ لیکن اب درندے انسانوں کے درمیان میں ہی رہتے ہیں ۔ انسانوں کی سی ہی بود و باش رکھتے ہیں اور انسانوں پر حملہ آور ہیں ۔ بس حملے کا انداز مختلف ہے ۔ جدید دور جدید طریقے ۔

آج دنیا کے ہر ملک دنیا کے ہر کونے میں انسان نما درندے موجود ہیں ۔ یہ درندے کبھی اپنے نوکیلے پنجوں ، تیز دانتوں کے ذریعے بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارتے تھے لیکن آج کے دور میں یہ درندے ووٹ ، سیاست جمہوریت کے سہانے خواب دکھا کر عام معصوم بھولے بھالے انسانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں ۔ ان کے حقوق غصب کرتے ہیں ان کے حقوق کو پامال کرتے ہیں ۔ غریبوں کا مال ھڑپ کرتے ہیں اور ان کے نام پر بیرونی ممالک سے قرض لے کر اپنے بینک بیلنس ، جائدادیں عالی شان عمارتیں کھڑی کرتے ہیں ۔ ان کے حقوق پر روز شب خون مارتے ہیں ۔ ان کو روٹی کے ایک ٹکڑے ، پانی کی ایک بوند سے بھی ترساتے ہیں ۔

ہمارے کچھ نادان دوست ان کی محبت میں جیالے کہلاتے ہیں ۔ اور کچھ تو ان کی محبت میں اتنے پاگل ہیں کہ ان کو اپنے مزھبی پیشواء تک مانتے ہیں ۔ میری ان نادان دوستوں سے دست بدستہ گزارش ہے کہ ان کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا ، کہ درندوں کا کوئ مزھب نہیں ہوتا ۔ درندے نہ سنی ہیں نہ شیعہ نہ دنیا کا کوئ اور مزھب ، درندے کی حقیقت ان کی درندگی ہے اور بس !

SHARE

LEAVE A REPLY