پاناما فیصلہ.. آخر کار!!۔۔ سلیم کاوش

0
282

پاناما پر جو بهی فیصلہ آئے عدالت کے احترام میں ہم سب اسے قبول کریں گے.

جب عدل ہو تو اس کا پتا چل جاتا ہے.

اعلانیہ جرم کے خلاف اگر فیصلہ اعلانیہ انصاف ہی کی صورت میں آئے تو اس کو مظلوموں کے اندر پهیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا. اگر بڑهتے ہوئے جرم کو روکنا ہو تو صرف انصاف کی تلوار کا استعمال ضروری ہوتا ہے.

ویسے انصاف کے حوالے سے مجهے اپنی قوم کی بدنصیبی کا بخوبی اندازہ ہے. عوام کو اگر دل دہلا دینے والے اور چونکا دینے والے کسی فیصلے کا انتظار ہے تو شاید ایسا نہ بهی ہو.

لوگ اکر سوچتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم بهٹو کی طرح موجودہ وزیر اعظم کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے گا اور پهر ایک دن پهانسی پر لٹکا دیا جائے گا تو یہ غلط ہے، قطعی غلط ہے.

اس کی وجہ؟

ذوالفقار بهٹو کو حکمران بن کر کرپشن کرنے کا بہت کم وقت ملا .

انہیں انصاف سمیت ججوں کو خریدنے کا طویل موقع نہ ملا.

فوج آئی، بهٹو گرفتار ہوئے، مقدمہ چلا اور پهانسی ہو گئی.

کهیل ختم .. پیسہ ہضم

اس کے برعکس وزیر اعظم نواز شریف بقول ان کے ” تجربہ کار ہیں تجربہ کار ٹیم رکهتے ہیں. گذشتہ تین دہائیوں سے مسلسل کرپشن کرتے آ رہے ہیں. انہوں نے چهانگا مانگا میں سیاسی لوٹے بنائے اور کرپشن کی قلعی کردی.

میرے خیال میں 22 کروڑ عوام کے معاشی قتل میں ملوث ایک تاجر وزیر اعظم کے ساتهہ بهٹو کی طرح کا کوئی معاملہ نہیں ہو گا.

پاناما کیس پر فیصلہ کرنے سے اجتناب کرنے والے چیف جسٹس اور ان کے رفقاء نے کرپشن کے ایک ملزم کو لوٹنے کیلیے پورا ایک سال دیا.. اس دوران حکومت کو خوف ہوا نہ لوٹ مار میں کمی ہوئی.
چنانچہ…….. اسپغول !

عوام حوصلہ رکهیں اور کسی نئے امتحان کے لیے تیار رہیں. ہو بهی سکتا ہے کہ عوام کو کسی چهوٹے ٹرک کی بتی کی بجائے کسی بہت بڑے ٹرک کی بتی کے پیچها لگنا پڑے.
یوں ….فیصلہ صحیح ہو کر بهی عوام کی توقعات کے خلاف ہو سکتا ہے. کیونکہ عوام تو اچنبهے کی تلاش میں رہتے ہیں. ہتهیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں.
معجزے مانگتے ہیں .
اور ….
انہیں کیا معلوم….
آج کل معجزے نہیں ہوتے.

(سلیم کاوش)

SHARE

LEAVE A REPLY