کہتے ہیں کہ موت کا وقت مقرر نہیں کسی بھی وقت اآسکتی ہے اسی طرح سنا ہے کہ فیصلے کا بھی وقت اور دن مقرر نہیں کسی بھی وقت اآجائیگا لہذا اب یہ فکر بھی ختم ہونی چاہئے کہ “نیند کیوں رات بھر نہیں اآتی “ ویسے تو سونے میں پوری قوم ہی بہت اُستاد ہے ۔اس پر بھی سو رہی ہے کہ فیصلہ کچھ بھی اآئے ہمیں کیا ۔لیکن ہم اُن میں نہیں ہیں کبھی کبھی تو خود پر بھی بہت غصہ آتا ہے کہ کیوں ہم اپنے ملک اور قوم کے لئے ہزاروں میل دور بیٹھے بھی فکر مند رہتے ہیں ۔

ہم جو سوچ رہے تھے وہ ہی ہورہا ہے سُنا ہے کہ امریکہ کے ایک بڑے عہدے دار آئے ہیں اور جناب وزیرِاعظم کو ہم نے بہت عرصے بعد کُھل کر مسکراتے دیکھا ہے اُن کے استقبال کے وقت ۔ہم یہ ہی حٰران تھے کہ تنکے کہاں ہیں جو ڈوبتے کو سہارا دینے آتے ہیں ۔چلیں ہمارا انتظار وت ختم ہوا اب دیکھتے ہیں کہ آگے آگے کیا ہوتا ہے ِ؟
ایک پروگرام کی اینکر سندھ کے ایک شہر میں چلی گئیں ،جیسا کہ ہمارے میڈیا کے لوگوں کا وطیرہ ہے کہ جب انہیں ایلیکشن کی خوشبو آنے لگتی ہے تو وہ کچھ دُکھتی اور کچھ سسکتی رگوں پر ہاتھ رکھنے پہنچ جاتے ہیں ۔وہ بھی حالات جاننے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ سب کچھ برا نہیں بہت کچھ اچھا بھی ہے ۔جس جگہ پہنچیں وہاں کے لوگوں سے بات چیت کی ۔لوگوں نے بتایا کہ یہاں کچھ زیادہ کام نہیں ہوا ہے سڑکیں بھی خراب ہیں اسپتالوں میں بھی پریشانی ہے ۔مہنگائی بھی بہت ہے ۔صاف پانی بھی نہیں ہے ۔اور یہ کہ حکومت توجہ بھی نہیں دیتی ہے ۔یہ سب سُن کر اینکر نے پوچھا کہ پھر اس دفعہ آپ ووٹ کسے دینگے ؟ کہنے لگے ووٹ تو ہم انہیں کو دیں گے ۔

یقین جانیں کہ ہمیں لگا کہ ہم کتنے غلام ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے ووٹ اُن ہی کا ہے جن کی پارٹی سے یہ وابستہ ہیں چاہے کتنی ہی تکلیفیں ہوں ۔کاش یہ ملک کو ووٹ دیتے ۔ملک کے لئے جو لوگ کام کرنے والے ہیں اُنہیں سامنے لاتے مگر افسوس غلامی ہمارے اندر اتنی رَچ بَس گئی ہے کہ ہم آزاد ہوتے ہوئے بھی آزاد نہیں ہیں ۔اور اس غلامانہ سوچ نے ہی ہمیں اِس کنارے لا کھڑا کیا ہے کہ ہم نے اچھے برے کی تمیز ختم کر لی ہے ۔بھائی پارٹی جو بھی ہوجب کام کرنے کے لئے ووٹ دینا ہے تو ایسے لوگوں کا انتخاب کرو جو ملک کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں انہیں آگے لاؤ جو تمہارے لئے سہولتیں مہیا کرنا چاہتے ہیں جو تمہیں کرپشن کی لعنت سے بچانا اور بے ایمانی کے بھنور سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر اُن میں چاہے کوئی بھی ہوں اپنے اپنے حلقوں میں صرف اور صرف کام کرنے والوں کو ووٹ دو کہ یہ ہی تمہاری اور ہماری تقدیر بدل سکتا ہے ۔ہم ہمیشہ لکھتے ہیں کہ ووٹ ہی وہ طاقت ہے جو ہمیں اس کرپشن زدہ اور بے ایمانی اور اقرباء پروری کے ماحول سے نکل سکتا ہے ۔اس لئے ملک کو ووٹ دو ۔ وطن کو ووٹ دو ۔

کبھی لگتا ہے الیکشن قریب ہیں کبھی لگتا ہے اپنے وقت پر ہو نگے ،جو بھی ہو ہمیں امید ہے کہ اب لوگ بہت کچھ دیکھ اور سُن چکے ہیں ۔چاہے عُزیر ہو یا کوئی اور یہ ملک کے بھیدی ہر جگہ سے پکڑے جانے چاہئیں اور جن جن کے بارے میں انہوں نے لب کشائی کی ہے اُن سب کو بھی قانون کے نیچے لانا چاہئے ۔جس طرح ایک پارٹی لیڈر نے ملک کو باہر بیٹھ کر یر غمال بنایا اس کا بھی محاسبہ لازمی ہے ۔لیکن ہمارے لیڈروں میں تو اتنا دَم بھی نہیں کہ احتجاج کر سکیں کہ ہمارے ملک میں جنہوں نے خرابی لگائی ہے انہیں ہمارے حوالے کرو ۔جس جس طرح پیاز کی پرتیں اُتر رہی ہیں اندر سے ایسی ایسی پرتیں نکل رہی ہیں کہ ہم حیران ہیں کہ یہ لوگ کن گودوں میں پلے اور کن کن لوگوں نے انہیں سہولتیں مہیا کیں ۔

ایک اور قسم کی سیاست بھی اُبھر رہی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ اگر ہماری پارٹی میں یہ خرابی ہے تو دوسری پارٹیاں کون سی ٹھیک ہیں ؟ بلا شک مگر یہ کوئی اچھی بات تو نہیں ہے کہ تم غلط ہو تو میں بھی غلط ہوں کسی نہ کسی کو تو ٹھیک کرنے کا بیڑا اُٹھانا ہوگا ۔پچھلے ادوار کو کہاں تک رویا جائے گا ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔

پانچ سال حکومت کی بے نظیر صاحبہ کے قاتلوں تک کو نہ پکڑ سکے ۔حیرت ہے کہ بلاول نے بھی اس معاملے میں ہتھیار ڈال دئے کم از کم انہیں تو اپنی ماں کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لئے زور دینا چاہئے تھا یا یہ بس ہمدردی حاصل کرنے اور ووٹ لینے تک محدود ہے ۔

یہ بھی ایک سوچنے والی بات ہے کہ کہاں تک ہم اپبے بڑوں کی قربانیوں کا مداوا کرتے رہینگے انہیں اقتدار میں لا لا کر ۔ اب ووٹر کو اپنا اچھا برا سمجھنا ہوگا ورنہ یہ جمہوری بادشاہت اسی طرح انکی اولادوں تک منتقل ہو جائیگی اور لوگ غلامانہ زہنیت سے نکل نہ پائینگے ۔ضرورت ہے کہ عوام کو اب یہ شعور دیا جائے کہ بہت اآزما لیا اب اپنے بھلے کی بات کرو ۔اپنے ملک کے لئے سوچو ،
یہ تعلیم عام کرنی ہوگی کہ ووٹ وطن کے لئے ہے ملک کے لئے ہے اسے صحیح استعمال کرو ۔کسی بھی چور ڈاکو وڈیرے اور وطن فروش کی بات نہ سنو ۔اپنے ملک کے لئے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے سوچو اُنکی بات کرو جو جوان ہو رہے ہیں جنہیں ہمارے لئے ڈھال بننا ہے ملک کی قسمت کے فیصلے کرنے ہیں بہت سُن لیں اِن جھوٹوں کی باتیں بہت دیکھ لئے سبز باغ ،اب ہوش میں آؤ اور مسترد کر دو ہر اُس شخصیت کو جسے ہم آزما چکے ہیں ۔

اللہ میرے ملک کو اچھے لوگوں کی سر براہی عطا فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY