پریشنانی صرف عوام کامقدر ہے ۔۔۔از۔۔۔ شمس جیلانی

0
292

کہاوت ہے کہ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر مگر نقصان خربوزے کا ہی ہوگا؟ ایک مدت تک عوام بحث اورمباحثہ سنتے رہے اپنا قیمتی سال ضائع کردیا جب مقدمہ فائنل میں پہونچا تو فیصلہ محفقوظ ہوگیا۔ اللہ، اللہ کرکے تاریخ کا اعلان ہوا اسی دن سے یہ بحث شروع ہوگئی کہ فیصلہ کیاہوگا۔ اور سلسلہ میں عمائدین اور دانشوروں نے آراءاتنی فراخدلی دیں کہ یہاں ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا؟ مگر ہمیں ان میں دو آراءبہت پسند آئیں ایک وزیر اعظم صاحب کی کہ“ ہمیں عوام نے ووٹ کام کرنے کے لیے دیئےہیں؟ عدالتی فیصلوں کا انتظار کرنے کے لیے نہیں یعنی وہ اپنا کام کرتی رہیں ہم اپنا کام کرتے رہیں گے؟ جبکہ دوسری صائب الرائے سابق گورنر عشرت عباد صاحب کی تھی کہ فیصلہ جیسا بھی ہو گا وہ تاریخی ہوگا۔ جس وقت یہ مضمون آپ کے ہاتھ میں پہونچے گا فیصلہ آچکا ہوگا مگر ہم کیا کریں کہ ہمارا دن مقرر ہے جو ہم نے خود کیا ہوا ہے جو کبھی خطا نہیں ہوتا ،صرف ایک مرتبہ ہوا تھا تو ٹیلیفونوں کاتانتا بند ھ گیا کہ لوگ سمجھے کہ ہم جہان ِ فانی سے سدھار گئے۔ جب سے ہم اور بھی محتاط ہوگئے کہ ہم اپنے دوستوں کو بار بار صدمہ نہیں پہونچا نا چاہتے ، رہے دشمن وہ ہم نے بنا ئے ہی نہیں کیونکہ ہمارے سامنے ہمیشہ قرآن کی وہ آیت رہتی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب (ص) فرمایا کہ “ برائی کا بدلہ ہمیشہ بھلائی سے دو، معافی اور در گزر سے کام لو، تمہارے دشمن دوست بن جائیں گے! مگر یہ کام بڑا مشکل ہے اورجوان مرد ہی کرتے ہیں، اور جوواقعی بدلہ لینا چاہے وہ اتنا لے جوانصاف کا تقاضہ ہےاس لیے کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ یہ آخری عبارت اس کی شان ِ نزول بیان کر رہی ہے۔ کہ یہ دراصل حضور (ص) کے لیے نہیں ، ہمارے لیے وہ تو پہلے ہی سے اس پر عامل تھے ۔ مگر ہم انتقام میں اتنے اندھے ہوجاتے ہیں کہ روز زیادتیوں کی تاریخ رقم کرتے رہتے ہیں؟ معمولی بات پر خاندان کے خاندان ختم ہوجاتے ہیں ۔ جبکہ وہ آیت بھی ہے جس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرما یا کہ “ معاف کرو تا کہ معاف کیئے جاؤ “

کچھ دن پہلے ایک جج صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ یک ایسا فیصلہ ہوگاجو بیس سال تک یادر کھا جا ئے گا ،کل وزیر اعظم صاحب نے فرمایا کہ ہم نے جواپنے دور میں کام کیا ہے وہ چالیس سال تک یا درکھا جائے گا۔ ہمارے خیال میں فیصلہ کاایک رخ یہ بھی ہو سکتا جو کل بھارت کی عدالتِ عالیہ نے کیا کہ ایک ملزم کو چھوڑ کر باقی سب کو ملزم قرار دیدیا اورمقدمہ ماتحت عدالت ب میں بھیجدیا؟ جو وہ پہلے بھی ایک دفعہ بھیج چکی تھی۔ جبکہ ماتحت عدالت نے سالوں مقدمہ چلا نے کے بعد سب کو بری کردیا تھا۔

مگر ہم عشرت عباد صاحب کی ا س دانشوری کی داد دینا چاہیں گے جو اس میں پناہ ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ سندھ جیسے صوبے کے تقریباً گیارہ سال تک کامیاب گورنر رہے؟ کہ اس پیشگو ئی میں غلط ہونے کا امکان ہی نہیں ہے؟ کیونکہ پاکستان میں عدالتی تاریخ لاجواب بھی ہے اورا سکا الٹ بھی ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ اس طرح کہ جب پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد نے پاکستان کی پہلی پارلیمان کو طرف کیا تو سندھ کی چیف کورٹ نے اسکے خلاف فیصلہ دیااور جج امر ہوگئے ۔میں نے یہاں “ امر کاًلفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ اس میں دوجج غیر مسلم اور ایک مسلمان جسٹس ظہیر الحسن لاری تھے۔ جو پاکستان کے معماروں میں سے تھے۔ اسوقت سپریم کورٹ نہیں بنی تھی فیڈرل کورٹ تھی حکومت اپیل میں چلی گئی اور وہاں چیف جسٹس منیر صاحب نے پہلی دفعہ نظر یہ ضرورت پاکستان میں متارف کرا یا جو وہاں سے روااج پا گیا کہ سندھ چیف کورٹ کا فیصلہ کل عدم قرار دیدیا۔ اس حوالے سے صرف انہیں کا نام تاریخ میں ہے جنہوں خلاف فیصلہ دیا تھا ؟ جبکہ دو اور بھی جج صاحبان تھے جو ان تین کی طرح عوام میں شہرت نہیں پاسکے؟ جبکہ وہ جج وہ بھی تھے مگر مشہور مشہورجسٹس لاری، جسٹس کارنیلیس اور جسٹس منشی ہیں ، ۔کیونکہ برائی کوئی بھی اس زمانے میں ا پنانے کو تیار نہیں تھا بھلائی سب اپنے نام کر نا چاہتے تھے ۔ نہ ہی لوگ دوسرو ں کے مارے شکارے اپنے نام کرنے ماہر تھے، جیسے کہ آپ آجکل دیکھ رہے ہیں کہ ہر لیڈر چائنا سے دوستی بڑھانے کا دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ میں نے کی ہے۔ مگر اس کا کہیں ذکر نہیں ہے جس نے کمیونسٹ چائنا جاکر جراءت دکھائی جن کانام حسین شہید سہروردی تھا جبکہ ان سے پہلے ایک وزیر اعظم چائنا جاتے ہوئے ہانگ کانگ سے بلایا جا چکا تھا چھوڑیہ تاریخ کو ۔

سنئے انتظار گھڑیاں ختم ہو ئیں اوراب فیصلہ سماعت فرمائیں جو کہ پانچ سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے لہذا کم از کم ہفتہ بھر کا کھانا ساتھ رکھ کر بیٹھیں۔ فیصلہ کیا ہے ایسا سمجھ لیں کہ عمر عیار کی زنبیل ہے کہ جس میں سب کچھ ہے۔ اگر نہیں ہے تو فوری طور پرکوئی عوام کے لیے خوشخبری نہیں ہے؟ عدلیہ بھی کیا کرتی کہ چھ ہزار دستاویزات مدعیان کی طرف سے پیش کی گئیں تھیں، اس بنیاد پر کہ پہلے ایک چیف صاحب نے ا خبار کے تراشے قبول کر کے انہیں دستاویزات کا درجہ عطا فر مادیا تھا۔ جبکہ موجودہ بنچ میں ایک جج صاحب کی رائے یہ تھی کہ اخبار پکوڑے باندھ کے دینے کے کام تو آسکتے ہیں مگر ثبوت میں پیش کر نے کے کام نہیں آتے؟ جب کہ ایک قانون دان اورممبرِ اسمبلی نے فرمایا کہ جو قطری شہزادے کاخط ہے وہ پکوڑے لپیٹ کر دینے کہ کام بھی نہیں آ سکتا یہ دعویٰ بنچ نے اسے رد کرکے مان لیا ۔ پہلے جج نہ ٹی وی دیکھتے تھے نہ اخبار پڑھتے تھے تاکہ وہ خبروں سے متاثر نہ ہوں؟ اب ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی شادی شدہ ہو اور ایک ہی گھر میں رہتا ہو ان میں نا چاقی نہ ہو اور وہ ٹی وی سنے بغیر رہ سکے،کہاں تک کان بند رکھے گا۔ کل ہی ہندوستانی عدالت کا فیصلہ آیا تھا۔ جس میں ایک کوچھوڑ کر باقی بی جی پی کہ تمام عہدے داروں کو ملزم قرار دیکر ذیلی عدالت کو دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے ؟ جن کو پہلے ذیلی عدالت بری کرچکی ہے۔ جبکہ موجودہ فیصلہ میں اصل ملزم انہیں قرار دیا ہے جو گجرات سے “ رام رتھ “ پر بیٹھ کر بابری مسجد کے خلاف نفرت پھیلانے کہ ذمہ دار تھے؟اس وقت چونکہ موجودہ وزیر اعظم صرف گجرات کے وزیر اعلیٰ ہونے وجہ سے اس قافلے میں شامل نہ تھے۔ اور مسلمانوں کے قتل عام ِ میں مصروف تھے لہذا انہیں غیر حاضری کا فائدہ دیتے ہو ئے بری کردیا کہ وہ تو موجود ہی نہیں تھے کیونکہ وہ تو وہاں “ مسلم نسل کشی “کا مقدس کام انجام دے رہے تھے۔ بیچارے بے قصور ہیں۔ کہیں اس فیصلہ کی روح اثر اندازی نہ کرے اور اس نے کہیں وہی کام نہ کیا ہو جو ایک کوئے نے “ قابیل “ کے لیے کیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کا جنازہ کیسے دفن کرے ؟ اس تمام فیصلے کا لبِ لباب یہ ہے کہ جی آئی ٹی بناکر وزیر اعظم کو تھانیداروں اور آفیسروں کے سپرد کردیا! تاکہ اتنا وقت مل جائے کہ دوسرے الیکشن میں کامیاب ہوسکیں ،کیونکہ الیکشن میں کامیابی کا انحصار الیکشن مشنری کے موزوں کل اور پرزے بنا نے سے شروع ہوتا ہے سب سے پہلے تو حلقہ بندی کاکام ہوتا ہے؟ اس میں اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے کہ حلقے ایسے کاٹے جائیں کہ اس میں اپوزیشن کی اکثریت نہ ہو؟۔ لہذا ہر حلقہ بندی کےوقت برسرِ اقتدار پارٹی کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کمیٹی میں جس جو پریزائڈ نگ آفیسر مقرر کرتی ہے آپ کے مفادات کی دیکھ بھال کریں؟ اور وہ سارے آدمی اور خواتین پولنگ ااسٹیشن پر تعینات کروالیتے ہیں جو انکے پسندیدہ ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ کھیل شروع ہو تا ہے کہ آؤ سکھی الیکشن الیکشن کھیلیں؟ انشا اللہ یہ سال اسی کام میں نکل جا ئے گا ۔ اور وہی ہوگا جو کہ ایک وزیر با تدبیر کہہ رہے ہیں کہ اگلے الیکشن میں بھی ہم جیتیں گے۔ فیصلے کا کمال یہ ہے کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں ہی خوشی منا رہے ہیں مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں کہ ہم جیتے ہیں حالانکہ عدلیہ نے فیصلہ میں ایسے کئی پہلو رکھے ہیں جوجیت ہار میں بدل سکتی ہے پھرا ن کانام تاریخ میں ہمیشہ یاد گار رہے گا؟ صرف پی پی پی والوں کہنا ہے کہ ہم نہیں مانتے ؟ جوکہ مقدمہ میں پارٹی ہی نہیں تھے۔ اس پر ہمیں ایک واقعہ یاد آگیا ایک صاحب جو ہمارے اس زمانے میں ساتھی تھے۔ جبکہ ایوب خان کا آخری دور تھا اب پتہ نہیں وہ حیات یا نہیں ہیں کیونکہ بعد میں وہ پیر پگارا صاحب کے پاس چلے گئے تھے ۔ ہم برے وقتوں میں بھی ان کے ساتھی اور ایوب خان کے حق میں جلوس نکالنا چاہتے تھے جبکہ سب ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے معززین شہر کی ایک میٹنگ بلائی اس ایجنڈہ یہ تھا کہ جلوس نکالا جائے یا نہ نکالا جائے ؟ اس نے ڈی سی کہا کہ بہتر یہ ہے رائے شماری پہلے ہاتھ ا ٹھواکر کرالی جائے کہ کتنے جلوس کے حق میں ہیں اور کتنے خلاف ؟ اس کے بات سمجھ میں آگئی اور اس نے رائے شماری کرائی تو وہ اکیلے جلوس کے حق میں نظر آئے؟ اس نے ایجنڈے کا حوالہ دیکر کہا کہ انہیں باہر نکال دیجئے کیونکہ یہ اس کے حق میں نہیں ہیں صرف میں ہوں لہذا مجھ سے بات کیجئے؟ ان کا معاملہ تو ہے یہ؟

اگر کسی کی سوچ یہ ہے کہ جی آئی ٹی کے سامنے کوئی جانے سے شرماجا ئے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ا سلام سے بہت دور جاچکے ہیں اور حضور (ص)کا فر مان ہے کہ “حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں “ رہایہ فیصلہ واقعی تاریخی ہے اور کسی ملزم کو مجرم بنا نے کے لیے دونوں فریقوں کو سننا نہ صرف قانون میں ضروری ہے بلکہ ارشادات نبوی (ص) کے مطابق لازمی ہے ۔ اگر یہ تمام تقاضے پرے کیے گئے تو ہمارے خیال میں تو یہ فیصلہ بیس سال نہیں بلکہ تاقیامت یاد رکھا جا ئے گا۔ اور اگر اس میں نظریہ ضرورت کی روح درآئی تو۔۔۔۔؟ پھراللہ سبحانہ تعالیٰ پاکستان کو اپنے ہر عذاب سے محفوظ رکھے( آمین)

SHARE

LEAVE A REPLY