سرکار ﷺتشریف لائے نہیں فقط قیل قال کو۔۔۔ شمس جیلانی

0
1005

سرکار ﷺتشریف لائے نہیں فقط قیل قال کو
آئے تھے وہﷺ یہاں دکھانے اپنےﷺ کمال کو
حضرات یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں حضور ﷺ کی پیدا ئش واقع ہوئی جس نے پورے نہ صرف مکہ معظمہ کو بدلا بلکہ تمام دنیا کے نظام کو بدلکررکھدیادیا۔ وہ عرب جوکہ بیٹی کوقتل کر کے زندہ دفن کردینے کے خوگر تھے ان کو خواتین کا اور خاص طورسے بیٹی کا ادب کرنا سکھایا اور وہ جنس جو کبھی مال ِ تجارت بنی ہوئی تھی، کہ ایک آدمی جتنی چاہے شاد کر سکتا تھا اور اپنے گھر میں رکھ سکتا تھا اب وہ اس کے گھر کی ملکہ تھیں اور کسی کو سوائے حضور ﷺ کے چار سے زیادہ شادیاں کر نے کی اجازت نہ تھی وہ بھی یوں کہ ان کے ذریعہ دین کو تقویت دینا مقصودتھا۔ جبکہ جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ پہلے ان کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی؟ اس سے پہلے ان سے ان کے مالک ہر وہ کام لیتے تھے جوکہ ان کے مالک چا ہتے تھے۔ مگر اب کما کے لانا مردوں کا کام تھا اگر وہ صاحب ِہنر تھیں تو وہ چاہتیں تو شوہر یا اولاد پر ایک ٹکا خرچ نہ کرتیں اور چاہتیں تو سب کچھ شوہر اور بچووں کو دیدیتیں جس کا اجر دگنا ایک حدیث شریف کے مطابق عام ضرورتمندوں کے مقابلہ میں تھا۔ اور ایک ٹکا بھی نہ دیتیں تو شوہرکو ان پر دبا ؤ ڈالکر لینے کا کوئی حق نہیں تھا۔ دوسرے جوجولوگ تجارت میں آج کی طرح ہر طرح کے ہیر پھیر کو جا ئز سمجھتے تھے ہر ا یک کے حقوق خود تو وہ ادا کرنے ہی لگے تھے بلکہ اوروں کو بھی سمجھانے لگے تھے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح ہے؟اور وہی لوگ انجانے میں اس طرح رب کے دین کی خدمت بھی کرنے لگے تھے،جس کے گھرکے متولی ہونے کے وجہ سے وہ تمام دنیا میں تجار ت میں آگے اورمحفوظ تھے ، اوردیانتدار تجار میں بھی شمار ہونے لگیےتھے؟ ورنہ اس وقت کے حالات یہ تھے کے چارو طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا بھلا مجال تھی کہ کوئی قافلہ ادھر سے ادھر جا سکے اور لٹنے سے محفوظ رہے؟ سورہ القریش میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اس پر ان کو طعنہ دیا ہے کہ ان تمام فضیل یات کو جوکہ رب کائینات وجہ سے انہیں عطا ہوئیں جس نے اپنا گھر مکہ معظمہ کو بنا کر انہیں وہاں آباد کیا جس کی وجہ سے ان کو تمام دنیا پر یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ نہ وہ صرف جہاں چاہیں وہاں چلے جا ئیں بلکہ ان کے طفیل میں جو بھی چاہے چلا جا ئے وہ بھی ہر طرح سے محفوظ تھا۔ اس سورہ کی تفسیر میں سات اس کی ایات اور فضیلتیں حضور ﷺ نے گنائی ہیں۔ وہ یہ ہیں پہلی فضیلت تو یہ ہے کہ میں ﷺ ان میں پیداء ہوا ِ۔ دوسری یہ ہے کہ نبوتؑ ان میں ہے اور تیسری یہ ہے کہ یہ کعبہ کے نگہبان ہیں، چوتھی یہ ہے کہ چاہ زم زم کے ساقی ہیں۔ پانچویں یہ ہے کہ انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا۔ اورچھٹی یہ ہے کہ انہو نے دس سال عبات کی جبکہ کوئی اور عبادت کرنے کو تیار نہ تھا؟ساتویں یہ ہے کہ ان کے سلسلہ میں یہ سورت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے نازل فرما ئی اس کے بعد حضوﷺ نے یہ سورت تلاوت فرمائی۔
اس کے علاوہ سب سے اہمیت سب سے زیادہ لاوارث طبقہ کو دی گئی جن کی تعداد گنتی سے باہر تھی اور وہ تھے لونڈیاں اور غلام جوکہ کوئی بھی کہیں سے پکڑ کر کسی کے ہاتھ فروخت کردیتا تھا ا ور اس کی قسمت میں تا حیات غلامی لکھ جاتی۔ مگران میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو جنگوں میں بطور قیدی پکڑے جاتے تھے؟ جن کے لئیے حضور ﷺنے اپنے حجتہ الوداع کے موقعے پرخیال رکھنے کے لئیے ہدایت فرمائی؟ ان کے بارے میں اکثرلوگ بہت سے اعتراضات کرتے ہیں؟ مگر یہ نہیں سوچتے کہ اگر اتنی بڑی تعداد کی آباد کاری ایک بہت بڑا کام تھا جو مدینہ منورہ کے بس کی کبھی نہ تھی؟ جب کہ اکثران کے خاندان بھی نہیں معلوم تھے اگر سب کو بلاکر ایک دم آزادی دیدی جاتی توتو وہ کوئی راستہ نہ پاتے سوائے اسکے کہ وہ لوٹ مار شروع کردیں؟ اس کے بجا ئے اسلام نے غلام کی گردن آزاد کرانے کا وہ سبق دنیا کودیا کے زیادہ تر غلام خود بخود آزاد ہوتے چلے گئے۔ اس کے علاوہ قانون ِ وراثت کے تحت ہر ایک کے حقوق مقرر کردیئے گئے؟ ہمسایہ کے اس وقت نہ کہیں دنیا بھر حقوق تھے نہ اب ہیں لیکن اسلام میں وہ آج تک ہیں اور قائم ہیں۔جن میں سے سب سے بڑا حق یہ پابندی ہے کہ کوئی ہمسایہ کے مکان سے بلند مکان نہیں بنا ئیگا۔ جو اس کے ہمسای کی ہوا کا گزر روک دے؟جو کہ حضورﷺ کے حکمت واقف ہونے کا منہ بولتاثبوت ہے؟

SHARE

LEAVE A REPLY