بھارت میں سپریم کورٹ کے 4 ججز کی جانب سے چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کرنے کے معاملے کو حل کرنے کے لیے بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) بھی میدان میں آگیا۔
ججز کی بغاوت اور خدشات کو ختم کرنے اور تنازع کو حل کرنے کے لیے بی سی آئی نے اعلیٰ وکلاء پر مشتمل 7 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی، جو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت ان چار ججز سے بھی ملاقات کرے گی، جنہوں نے چیف جسٹس پر الزامات لگائے۔
خیال رہے کہ 2 دن قبل 12 جنوری کو بھارتی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے 4 حاضر سروس اعلیٰ ججز نے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پریس کانفرنس کی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پہلی مرتبہ اعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف سپریم کورٹ کے سینئر ججز جسٹس جے چلامیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس کورین جوزیف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے تنبیہ کی کہ چیف جسٹس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
چاروں ججز نے بتایا کہ وہ اس پریس کانفرنس کے لیے مجبور ہوئے کیوں کہ چیف جسٹس صاحب نے ان کے خدشات سننے سے انکار کردیا تھا۔
اپنی پریس کانفرنس میں چاروں ججز نے چیف جسٹس کے خلاف مواخذے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ مواخذے کی کارروائی لانے والے نہیں۔
تاہم چاروں ججز نے بتایا کہ وہ عوام کو یہ بتانا فرض سمجھتے تھے کہ اس وقت سپریم کورٹ کی انتظامیہ ٹھیک سے کام نہیں کر رہی اور ملک میں جمہوریت کی بقا کے لیے آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خود بھی اپنے اس عمل کو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔
انہوں نے چیف جسٹس پر جانبداری اور اہم کیسز سینئر کے بجائے جونیئر ججز کو دینے کا الزام بھی لگایا۔
چاروں ججز نے چیف جسٹس کے خلاف خط بھی لکھا، جس کے مندرجات سے انہوں نے آگاہ نہیں کیا۔
چاروں ججز کی جانب سے حیران کن انکشافات کے بعد سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن (ایس سی بی) نے بھی گزشتہ روز ان کی حمایت کی۔
ایس بی سی کے رہنماؤں نے بھی ججز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس دیپک مشرا نے کئی اہم کیسز نہایت جونیئر ججز کو دے رکھے ہیں، جب کہ ایک سیاسی پارٹی کے خلاف فیصلہ سنانے سے قبل ہلاک ہونے والے جج بی ایچ لویا کا کیس بھی ٹھیک طرح سے نہیں چلایا جا رہا












