انتیس اپریل 2011ء ـ اے حمید اردو کے مشہور ناول نگار و افسانہ نگار کا انتقال

0
418

اے حمید (پیدائش: 25 اگست 1928ء- وفات: 29 اپریل 2011ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار، مزاح نگار اور ڈراما نویس تھے جو اپنے ڈرامے عینک والا جن کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

عبدالحمید 25 اگست 1928ء کو امرتسر ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ میٹرک امرتسر سے کیا
قیام پاکستان کے بعد پرائیویٹ طور پر ایف اے پاس کرکے ریڈیو پاکستان پراسسٹنٹ اسکرپٹ ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان میں ملازمت کے بعد وائس آف امریکہ سے وابستہ ہوئے۔

سانس کی تکلیف کی بنا پر اسپتال میں داخل کیے گئے۔ علاج کے ساتھ ساتھ تکلیف بڑھتی چلی گئی۔ آخری چند دنوں میں گفتگو نہیں کرسکتے تھے، ایسا کرنے کی کوشش میں آنکھیں ڈبڈبا جاتی تھیں۔ مسلسل کئی روز مصنوعی تنفس کی مشین پر رہے پھر اس کے بعد معالجین نے گردن میں سوراخ کرکے سانس لینے کا بندوبست کیا۔ اسی حالت میں 29 اپریل، 2011ء کو رات دو بجے جسم میں اچانک پانی بھرنا شروع ہوگیا۔ معالجین نے ان کی اہلیہ ریحانہ کو بلایا جو اس وقت اوپر کی منزل پر ایک کمرے میں مقیم تھیں۔ اے حمید نے اسی حالت میں نصف شب کو جان، جان آفریں کے حوالے کی

افسانہ نویسی اے حمید کا بے حد پسندیدہ اور مقبول صنف ادب ہے۔ ان کا پہلا افسانہ ‘منزل منزل‘ ادب لطیف میں 1948ء میں شائع ہوا تھا۔ ان کے افسانوں کا پہلا ہی مجموعہ منزل منزل بے حد مقبول ہوا۔ جو ان کی رومانوی افسانہ نگار کے طور پر پہچان بن گیا۔ افسانوں کے علاوہ ایک عرصہ سے اخبارات میں باقاعدہ کالم نویسی بھی کی۔ ریڈیو اور ٹیلیویژن کے لیے بہت سے پروگرام لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ان کی تصانیف میں اردو شعر کی داستان ، اردو نثر کی داستان اور مرزا غالب لاہور میں کے علاوہ متعدد ناول شامل بھی ہیں۔

عبدالحمید عصر حاضر کے ترجمان ، جذباتی اور رومانی، فطرت سے عشق کرنے والے افسانہ نگار ہیں۔ ایک خاص فضا ، خاص ماحول اور خاص سیٹ آپ میں ان کے بہت سے افسانے لکھے گئے ہیں۔ فطری حسن و دلکشی سے دلچسپی نے ان کی تحریروں میں نغمہ و شعر کی سی رنگین و روانی بھر دی ۔ جو پڑھنے والے کو پریوں کی دنیا میں لے جاتی ہے اور کلیوں ، پھولوں ، تاروں ، تتلیوں ، چاند کی کرنوں اور چائے کی مسحور کن خوشبو اور لذیر اشتہا انگیز اشیائے خوردنی کا بہت روانی اور باریک بینی سے بیان۔ یہ سب کچھ ان کے فن کی جان ہے جس نے اسے انفرادیت بخشی ہے اور اسے ادبی اہمیت حاصل ہوئی ہے۔ بہت سے جگہوں پر وہ حد سے زیادہ ماضی پرست ہوجاتے ہیں۔ ماضی کے سنہرے دنوں میں کھو کر انہیں بہت یادکرتے ہیں ۔ ماضی کی یاد میں نوحہ کناں نظر آتے

عبدالحمید کے افسانے جذبہ محبت اور فطرت کی خوبصورتی کو باہم ایک کرکے ماورائی فضا ترتیب دیتے ہیں۔ یہ خود سپردگی کے نشے میں سرشار اپنی نوع میں بہت معتبر ہیں۔ اور اس کے افسانوں کی سحر انگیز فضاؤں میں ادھوری ناکام محبتوں کی مدھر سریں اور رومانی یادیں بڑی ہی الگ اور منفرد ہیں۔ جو صرف اے حمید کی انفرادیت ہے۔

تصانیف[ترمیم]
منزل منزل (افسانے)
مِٹی کی مانالیزا (افسانے)
کچھ یادیں کچھ آنسو (افسانے)
خزاں کا گیت (افسانے)
بارش اور خوشبو (کلیات افسانے)
بارش اور بالکونی (افسانے)
زرد گلاب (افسانے)
اردو شعر کی داستان
اردو نثر کی داستان
مرزا غالب لاہور میں
دیکھو شہر لاہور
یادوں کے گلاب
گلستان ادب کی سنہری یادیں
لاہور کی یادیں
امرتسر کی یادیں (اس کتاب کو ہر لحاظ سے ان کی خودنوشت کہا جاسکتا ہے)
لاہور میں منٹو کے آخری ایام (یاداشتیں)
یادیں:نواں لاہور،پورانا لاہور (یاداشتیں)
لاہور کی یادیں (تاثرات)
ڈربے (ناول)
اور چنار جلتے رہے (ناول)
ویران گلی میں لڑکی (ناول)
پھول گرتے ہیں (ناول)
پیلا اُداس چاند (ناول)
طوفان کی رات (ناول)
پیپل والی گلی (ناول)
بارش میں جُدائی (ناول)
ناریل کا پھول (ناول)
بہار کا آخری پھول (ناول)
جاپان کی ڈمپل (ناول)
ہم تو چلے رنگون (ناول)
ویران جزیرے (ناول)
یاہ پھول (ناول)
چائے والا (ناول)
بادبان کھول دو (ناول)
پھر بہار آئی (ناول)
برف باری کی رات (ناول)
بلیدان
چاند چہرے (ناول)

SHARE

LEAVE A REPLY