ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجہ !!! عالم آرا

0
243

ہم روز سُن رہے ہیں قوم کا وسیع تر مفاد ؟ ہماری سمجھ سے یہ وسیع تر مفاد بالکل بالا تر ہے ہمیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہوتی کہ قوم کے وسیع تر مفاد میں ایسی باتیں کی جائیں جن میں قوم کہیں بھی نہ ہو ۔کیا قوم کا وسیع تر مفاد یہ ہے کہ ایک الزام زدہ وزیرِ اعظم حکومت کرتا رہے ؟ کیا قوم کا مفاد یہ ہے کہ جن پر الزام ہو وہ ہی اپنے اآپ کو صاف کرنے کے لئے اپنے ہی ماتحتوں کو جواب دہ ہوں ؟ کیا قومی مفاد یہ ہے کہ ملک کتنے ہی بحران کا شکار ہو جائے کرسی مت چھوڑو ،کیا قوم کا مفاد اس میں ہے کہ جھوٹ اور دروغ گوئی کو عام کرو ؟ کیا قوم کا مفاد اس میں ہے کہ بے شرمی سے ہر اُس بات کا مقابلہ کرو جو تمہارے خلاف اآئے ،چاہے سچ ہو ۔؟ کیا قومی مفاد صرف اور صرف ایک دوسرے کی فائلیں جمع رکھنے میں ہے یا اُنہیں منظرَ عام پر لانے میں ؟کیا قومی مفاد یہ ہے کہ کمیٹیاں بنائے جاؤ اور ایک کی بھی رپورٹ سامنے نہ لاؤ ؟کیا قومی مفاد اس میں ہے کہ روز ایک نیا فتنہ کھڑا کر دو اور تجزئے اور تبصرے کرتے رہو ؟ ہم تو جتنا جتنا سوچتے ہیں ہماری گُتھی حل ہی نہیں ہوتی ۔ اور شاید ہم جیسی سوچ رکھنے والے سب ہی پریشان اور حراساں ہیں ،ویسے بھی ہم کون سے اسکالر ہیں کہ یہ باتیں سمجھ جائینگے ۔

مثال ہے ،اندھیر نگری چوپٹ راجہ ،ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجہ ۔یعنی جہاں حاکم ہی بے حقیقت ہو جائے وہاں جو چاہے ہو ۔ کہتے ہیں اتنے ترقیاتی منصوبے دئے ہیں کہ یاد رکھوگے ۔ہمارے سامنے ایک تصویر اآتی ہے ایک بہت حسین ملک ہر طرف سڑکیں بڑی بڑی، خوبصورت بسیں جنہیں میٹرو بس کہا جاتا ہے ،بڑے بڑے پُل لمبے نہ ختم ہونے والے ایک جگہ سے چلو تو جتنی دور چاہے جاؤ کوئی رکاوٹ نہیں ،۔گرین ٹرین پٹری پر دوڑتی ہوئی ۔ لیکن کچرے کے ڈھیر ۔پانی نابود ۔بجلی غائب ،گیس نا پید ۔لوگ بھوکے سڑکوں پر سگنل پر ہاتھ پھیلائے ۔معصوم بچے عورتوں کی گود میں پیسہ مانگتے بھیک مانگتے ،بچے کچرے کے ڈھیر سے روزی ڈھونڈھتے بچے ،مزدور راستوں میں بیٹھے روزگار تلاش کرتے ۔۔ننگے پیر بچے سڑکوں پر آوارہ پھرتے ۔اسکولوں میں تالے دیواریں ٹوٹی ،فرنیچر غائب ۔اسپتالوں میں بستر نہیں دوائیں جعلی ۔ڈاکٹر غیر حاضر ۔مشینیں خراب ۔مریض دھکے کھاتے ۔کوئی کسی کا پُر سانِ حال نہیں ۔یہ سب ہم میڈیا پر سنتے ہیں ،کیسی تصویر ہے یہ دکھ کے سوا کچھ نہیں دیتی ۔
دوسری طرف ترقیوں کے دعوے الامان الحفیظ ۔معشت کا پہیہ گھوم گھوم کر آسمان تک پہنچ گیا ۔یہ وہ تمام صورت ہے جو ہمیں میڈیا دکھاتا ہے ملک میں جانے والے آکر رونا روتے ہیں لیکن ہمارے بڑے چین سے سوتے بھی ہیں خراٹے بھی لیتے ہیں اور کھا پی کر جگالی بھی کرتے ہیں کہ انہیں الحمدُ للہ کوئی غم نہیں ۔ہاجرے حاکم جس دھڑلے سے جھوٹ بولتے اور اپنا دفع کرتے ہیں حیران کُن ہے ۔ہر بات کے تانے بانے خیبر پختونخواہ پر جا ٹہرتے ہیں جیسے وہ ہمارا صوبہ نہیں وہاں ہمارے لوگ نہیں ۔

ہماری سوچ کہیں دور دور بھٹکتی ہے کہ کاش ہم نے صرف اور صرف سچائی کو قائم رکھا ہوتا مفاد پیچھے کر دیتے ،ایسے معاملات میں جو قوم کی بہتری کے ہیں ہماری نئی نسل کی فلاح کے ہیں ۔ہمارے جوانوں کی طاقت کے ہیں اُنہیں تو ہم یہ سبق نہ دیتے کہ مفاد پر چلو جہاں اپنا مفاد ہو تو سب کچھ جائز سمجھو ۔لیکن ہم نے اُس تعلیم کو پَسِ پُشت ڈال دیا ہے جو ہماری پاک کئاب ہمیں دیتی ہے ،جو ہمارے پیارے نبی کی سنت ہمیں بتاتی ہے ،جو آلِ رسول کا کردار ہمیں بتاتا ہے ،جو سانحہ کربلا ہمیں سکھاتا ہے ۔وہ تعلیم جو لوحِ محفوظ سے ہمیں دی گئی کہ مسلمان جھوٹا نہیں ہو سکتا ۔لیکن ہم نے تو اپنا سارا کاروبارِ ریاست ہی جھوٹ پر رکھ دیا ۔دروغ پر رکھ دیا دھوکے پر رکھ دیا ۔پھر ہماری ترقی کیسے ہو پھر ہماری معیشت کیسے چلے پھر ہماری نو جوان نسل کہاں سے تربیت پائے ؟پھر ہمیں لیڈر کہاں سے ملیں ۔ہمیں اپنے ملک کے جوانوں کوآگے لانا چاہئے لیکن بیٹے بیٹیوں کو نہیں قوم کے اُن جوانوں کو جو اب تک اس جد و جہد میں شامل نہیں ہوئے جو ملک اور قوم کو ترقی کی راہیں دیتی اور مفاد سے دور رکھتی ہے ۔وہ ملک تیزی سے ترقی کرتے ہیں جہاں خاندانوں کی اجرہ داری نہیں ہے ،ہمیں بھی اس پر عمل پیرا ہونا چاہئے ۔بجائے اس کے کہ ہم قومی مفاد پر اپنے مفاد کو ترجیح دیں

ہم سب کو ہی سوچنا ہوگا کہ ہم سوائے تنقید کے کچھ نہیں کر رہے ہمیں اُن تمام باتون پر توجہ کرنی چاہئے جو ہمیں تنزلی کی طرف لے جا رہی ہیں یہ باریاں لینے والے کبھی بھی ہمارے لئے ہماری قوم کے لئے کچھ نہیں کرینگے یہ اور ان کےو ہ پڑھے لکھے اور باضمیر حواری جو ان کے خلاف کبھی بھی نہیں بولتے کبھی بھی نہیں اُٹھتے اگر ہر پارٹی کے ایسے تعلیم یافتہ اور سچے لوگ ایک ایجنڈے پر جمع ہو جائیں کہ ہم اپنے پارٹی لیڈر کو کچھ غلط نہیں کرنے دینگے اور خود سب سے پہلے اُس کا محاسبہ کر لیں تو ہمیں یقین ہی سو فیصد یقین ہے کہ ملک کا ہر برا شخص ٹھیک ہو جائے گا ۔ہمیں اپنے سیاسی ماحول میں بھی تبدیلی لانی ہوگی ۔جب تک ایک خوبصورت انقلاب نہیں آئیخج ہم یو ں ہی بھٹکتے رہینگے کبھی ایک طرف کبھی دوسری طرف ۔

SHARE

LEAVE A REPLY